جمہوریت کے تقاضوں کو سمجھا جائے

جمہوریت کے تقاضوں کو سمجھا جائے
 جمہوریت کے تقاضوں کو سمجھا جائے

  

ایک اور انتخاب ہو گیا ۔ یہ ضمنی انتخاب مخدوم امین فہیم کے انتقال کے بعد خالی ہو جانے والی نشست پر ہوا۔ اس انتخاب میں پیپلز پارٹی نے ٹکٹ سعید الزماں کو دیا جو مرحوم امین فہیم کے ایک چھوٹے بھائی ہیں۔ قومی شاہراہ پر کراچی سے 270 کلو میٹر کے فاصلے پر ہالہ کا قصبہ موجود ہے۔ ہالہ ضلع مٹیاری کا حصہ ہے۔ اس نشست پر تین لاکھ سے زائد ووٹر ہیں اور مخدوم محمد زمان طالب المولی کے بیٹے اور پوتے ہی اس نشست پر اپنا حق اس طرح رکھتے ہیں جیسے یہ مخدوموں کی جا ئیداد کا حصہ ہو اور پیپلز پارٹی بھی ان کے اس حق کے آڑے نہیں آتی۔ طالب المولی اپنے چچا غلام حیدر صدیقی کے انتقال کے بعد ان کے سیاسی جانشین بن گئے تھے اسی طرح جیسے درگاہ حضرت سرور نوح کے گدی نشیں ہوتے ہیں۔ طالب المولی گدی نشیں تھے۔ ان کے انتقال کے بعد امین فہیم گدی نشیں بنے اور اب ان کے بیٹے مخدوم جمیل الزماں گدی نشیں مقرر ہوئے ہیں۔ پورا خاندان سیاست میں ہے۔ سعید الزماں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، مخدوم جمیل الزماں صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں اور صوبائی وزیر کا عہدہ بھی رکھتے ہیں۔ امین فہیم مرحوم کے ایک چھوٹے بھائی رفیق الزماں مٹیاری سے رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ امین فہیم کے ایک اور بیٹے نعمت اللہ ضلع تھرپارکر سے رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ واہ کیا بات ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی جسے زعم ہے کہ وہ عوام کی پارٹی ہے اور ذرائع ابلاغ اسے جیالوں کی پارٹی قرار دیتے ہیں۔ سندھ بھر میں گھوم کر دیکھ لیں، آپ کو جیالوں کی یہ پارٹی ، سیاسی جماعت سے زیادہ خاندانوں کی پارٹی نظر آئے گی۔ وہ میر، پیر اور وڈیرے جن کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو تقاریر کیا کرتے تھے، آج پیپلز پارٹی پر اس طرح قابض ہیں کہ کارکنوں کی کوئی سنتا ہی نہیں۔

اگر الیکشن اسی طرح ہونے ہیں تو کروڑوں روپے کیوں خرچ کئے جاتے ہیں۔ اگر اسی طرح پیسہ لٹانا ہے تو بہتر ہے کہ انتخابی حلقے بھی خاندانوں کے نام کر دئے جائیں اور انہیں خاندانوں کی ذاتی جائیدادوں کا درجہ دے دیا جائے اور پیسے کو عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا جائے۔ ہالہ قصبہ کیا ہے یہ تو ذاتی جائیداد کا حصہ ہی لگتا ہے۔ حیرانی تو اس وقت ہوتی ہے جب قصبہ کی تمام سرکاری عمار تیں خصوصاً تعلیمی ادارے مخدوموں کے ناموں پر ہیں۔ یہ عمارتیں سرکاری خرچ پر تعمیر ہوئی ہیں، لیکن ان کا نام مخدوم خاندان کے لوگوں کے ناموں پر رکھا گیا ہے۔ شہر میں دیگر ذاتوں اور قوموں کے لوگ بھی تو رہائش رکھتے ہیں۔ اگر شناخت کا معاملہ ہے تو انہیں بھی اپنی شناخت کرانے کا حق حاصل ہے، لیکن کلچر یہ بنا دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے جو بھی تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں انہیں بلاول، بختاور اور آصفہ کے نام دئے گئے ہیں ۔ ہالہ میں سکولوں کی عمارتوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ غلام حیدر صدیقی ہا ئی سکول کی عمارت میں جس طرح دھول اُڑ رہی تھی اسے دیکھ کر بار بار احساس ہو رہا تھا کہ یہ سکول ان کے ایک بڑے کے نام پر ہے اور جس سڑک پر یہ سکول قائم ہے وہ مخدوم خاندان کے تمام افراد کی گزر گاہ بھی ہے۔ کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس میدان میں درخت ہی لگوا دیں۔ گھاس اگوا دیں تاکہ بچے اور نوجوان ایک اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ کسی کی ’’جائیداد‘‘ کے معاملے میں دخل دینا ہمارا حق نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کوئی اصلاحات کرنے پر آمادہ نہیں۔ وفاقی حکومت کو دلچسپی نہیں کہ اصلاحات کی جائیں۔ صوبائی حکومتیں گماشتے سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتیں۔ سیاسی جماعتیں چوں کہ کارکنوں سے زیادہ سرمایہ کاروں کی جما عتیں بن گئی ہیں اس لئے انہیں بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ اصلاحات ہوں یا نہ ہوں۔ سعید الزماں گزشتہ ایک انتخابات میں تھر پارکر سے صوبائی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ علاقے تھر پارکر کے مفلوک الحال عوام کے لئے ان کی کوئی کارکردگی ریکاڑد پر موجود نہیں ہے۔ بذات خود وہ ایک پرہیز گار شخص ہیں،دین کے کاموں میں زیادہ مگن رہتے ہیں۔اپنے والد طالب المولی کی زندگی میں ہی انہوں نے سروری جماعت کی تنظیم کا بیڑا اٹھایا تھا۔ درگاہ حضرت سرور نوح کے مریدوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اِسی لئے درگاہ کو نو لکھی درگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ بات شخصیت کی نہیں،بلکہ اس سیاست کی ہے جو پاکستان کی ایسی ثقافت کا حصہ بن گئی ہے، جس میں ایک عام سیاسی کارکن یا عام سیاسی سوچ رکھنے والا شخص پارلیمنٹ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پاکستان میں جمہوریت سرمایہ داروں، بڑے زمینداروں کے مفادات کو تحفظ دینے والی جمہوریت بنادی گئی ہے۔ البتہ جمہوریت کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے اِس لئے بھلائی اِسی میں ہے کہ جمہوریت پر جمہوریت کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے۔ یہ کلچر بن گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ضابطے کے مطابق ووٹ ڈالنے والے ہر شخص کو اپنے ساتھ اپنا اصل قومی شناختی کارڈ لانا ہوتا ہے۔ خلیق الزماں اپنے بھائی کو ووٹ ڈالنے پہنچے تو فوٹو اسٹیٹ کاپی لائے۔ پریذائیڈنگ افسر نے اسے قبول کر لیا اور انہیں ووٹ ڈالنے کے لئے بیلٹ پیپر جاری کردیا گیا۔ کسی اخبار نویس نے پریذائیڈنگ افسر سے پوچھ لیا کہ کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے تو انہوں نے مضحکہ خیز جواب دیا کہ وی وی آئی پی کلچر تو ہے نا اور یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے۔ یہ پریذائیڈنگ افسر ہی نہیں کوئی اور بھی ہوتا تو وہ خلیق الزاماں کو انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا کہ انہیں بیلٹ پیپر جاری نہیں کرتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ قانون کی بجائے شخصیات کو بالا دستی حاصل ہے اور قانون پر عمل در آمد کرنے اور کرانے والوں کو قانون تحفظ دینے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے۔

مخدوم امین فہیم کے مدمقابل2013ء کے انتخابات میں فنکشنل لیگ کے عبدالرزاق میمن تھے۔ انہوں نے 77ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔ مخدوم امین فہیم نے 96ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔ میمن نے نتائج کو چیلنج کر دیا تھا۔ نادرا نے الیکشن ٹربیونل میں اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا تھا کہ جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ الیکشن ٹربیونل نے فنی بنیادوں پر میمن کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ میمن نے سعید الزماں کے مد مقابل اپنے بیٹے ناصر میمن کو امیدوار کھڑا کیا تھا، لیکن انتخابات کابائی کاٹ کر دیا۔ انہوں نے انتظامیہ اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انہیں انتخابی فہرست تک جاری کرنے میں حیل و حجت سے کام لیا جارہا تھا اِسی لئے انہوں نے بائی کاٹ کو فیصلہ کیا۔

دسمبر 2014ء میں مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سربراہ ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ ان کے تعلقات خوشگوار نہیں تھے۔انہوں نے اپنے مریدین کی تنظیم سروری جماعت کا اجلاس طلب کیا تھا۔ مبصرین قیاس کر رہے تھے کہ مخدوم پیپلز پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں۔ سروری جماعت کی تنظیم سعید الزماں نے کی تھی ۔ انہوں نے آصف علی زرداری کے خلاف سخت بیان بھی دیا تھا۔ مخدوم امین فہیم نے جماعت کا اجلاس عین موقع پر ملتوی کردیا جب بلاول نے ان سے گفتگو کی۔ اجلاس اچانک ملتوی کئے جانے کا قلق تو سعید الزماں کو ہوا ہو گا، لیکن اس کا کھلے بندوں اظہار نہیں کیا گیا تھا۔اپنے انتخاب والے روز جب نتائج آنا شروع ہوئے تو سعید الزماں سے ایک اخبار نویس نے کوئی سوال کیا، جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کی نشست نہیں ہے، بلکہ ہماری نشست ہے کیونکہ حلقے میں ہمارے مریدوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جنہوں نے انہیں منتخب کیا ہے۔ اس تماش گاہ میں ایسے انتخابات کا کیا فائدہ جسے امیدوار اپنا حق سمجھیں اور ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ جس کا ثمر عام شخص کو نہ مل سکے۔

مزید :

کالم -