۔۔۔ اور اب چارسدہ یونیورسٹی

۔۔۔ اور اب چارسدہ یونیورسٹی
 ۔۔۔ اور اب چارسدہ یونیورسٹی

  

کھڑکی کا پردہ ہٹاکر دیکھا تو نقرئی بالوں والے ایک صاحب پھولوں کی کیاری کو کھرپے سے گوڈی اور نلائی کر رہے تھے۔ اگرچہ ان سے براہ راست میری کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی ،مگر میں نے انہیں پہچان لیا، وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے، ایسے اپوزیشن لیڈر جن کی سرکاری بنچوں پر دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ان سے خائف نہیں تھے تو ان کی بات کا وزن ضرور محسوس کرتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ قائد حزب اختلاف کے طرز عمل سے حکومت کا حامی ہونے کی بو آئے یا ان کی تقریروں کی گھن گھرج فرضی اور مصنوعی ہو۔۔۔وہ عبدالولی خان تھے، میں نے لاہور سے چارسدہ جانے سے پہلے ٹیلیفون کرکے ان سے وقت تو لے لیا تھا مگر پہنچنے میں تاخیر ہوگئی، رات دیر سے چارسدہ پہنچا تو ولی باغ جانے کی ہمت ہوئی ،نہ کوئی پبلک ٹرانسپورٹ اس وقت مل سکتی تھی۔ میں نے چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما کو اپنی مجبوری بتائی۔ انہوں نے رات ہی مجھے اپنی گاڑی میں ولی باغ پہنچا دیا، وہاں مجھے بتایا گیا کہ خان صاحب سے ملاقات صبح ہوگی۔

اگلی صبح عبدالولی خان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پہلی بات یہ کہی کہ اس علاقے میں رات کا سفر نہیں کرنا چاہئے، جب آنا ہو تو دن کے وقت آیا کریں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ علاقہ رات کے سفر کیلئے محفوظ نہیں ہے، تب دہشت گردی کا تو خوف نہیں تھا، مگر جرائم پیشہ لوگ رات کو زیادہ فعال ہوتے ہیں، عبدالولی خان کی مجھے تلقین اسی حوالے سے تھی ،مگر اب چارسدہ میں بھی پورے ملک کی طرح ہر وقت دہشت گردی کا خطرہ رہتا ہے۔ چارسدہ میں کئی مرتبہ دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں جن میں درجنوں جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔سابق وزیراعلیٰ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کا گاؤں بھی چارسدہ کے قریب ہی ہے، ایک بار ان سے ملنے گیا تو ان کا مہمان خانہ عجیب طرح کا پایا، اتنے کمرے اور ایسے کمرے جیسے کسی سکول کی عمارت کے ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی حیات محمد خان شیرپاؤ گورنر تھے جب پشاور یونیورسٹی کی تقریب میں بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد آفتاب شیرپاؤ سیاست میں آئے جو فوج میں میجر تھے ،مگر وہ اپنے نام کے ساتھ میجر نہیں لکھتے۔ وہ ایک مرتبہ صوبائی وزیر، دو بار وزیراعلیٰ اور چار بار وفاقی وزیر رہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ نہ چل سکے تو پہلے پارٹی میں اپنا گروپ اور پھر قومی وطن پارٹی کے نام سے الگ جماعت بنالی۔

جب پاکستان میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی شروع ہوئی تو آفتاب شیرپاؤ کیلئے سخت خطرات پیدا ہوگئے ،کیونکہ ایک مرحلے پر وہ وزیر داخلہ بھی تھے۔ 28 اپریل 1977ء کو آفتاب شیرپاؤ کی جان لینے کیلئے دہشت گرد حملہ کیا گیا جس میں وہ زخمی ہوئے۔ اسی سال 21 دسمبر کو جامع مسجد شیرپاؤ میں خودکش حملہ آور نے آفتاب شیر پاؤ کو نشانہ بنایا، وہ بچ گئے ،مگر 57 افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ اب باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر دہشت گرد حملہ ہوا ہے، وہاں اکیس افراد شہید ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ چارسدہ پاکستان کے دشمنوں کا ہدف ہے، وہ یہاں کے باشندوں کو خون میں نہلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے، جب بھی موقع ملتا ہے کہیں نہ کہیں حملہ کر جاتے ہیں۔ یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے چاروں دہشت گرد بھی مارے گئے، ان کی اپنی جانیں بھی گئیں اور دوسروں کی بھی لے لیں۔

دہشت گرد جس طرح دھن کے پکے اور حملوں کے تربیت یافتہ نظر آتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس کیلئے کام کرتے ہیں؟ پاکستانیوں کو کس کیلئے قتل کرتے ہیں؟ اپنی جانیں کس کیلئے دیتے ہیں؟ پاکستانی فورسز کو حملوں کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کس کے کہنے پر کرتے ہیں؟ انہیں پیسے کون دیتا ہے؟ اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ اسلحہ چلانا کون سکھاتا ہے؟ فوج کے مقابلے کی تربیت کون دیتا ہے۔ یہ سب کچھ جاننے اور سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے عوام حقائق جان سکیں اور دہشت گردوں کا زیادہ جم کر مقابلہ کرسکیں۔ اس سلسلے میں چشم پوشی یا مصلحت کوشی مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان میں ممبئی یا پٹھان کوٹ جیسے کوئی ایک دو واقعات تو نہیں ہوئے۔

پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، جہاں ایک دن درجنوں افراد کو خون میں نہلا دیا جائے وہاں چند روز بعد پہلے ہی جیسی رونق لوٹ آتی ہے۔ ایسا ہی صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ہوا ہے۔ دہشت گرد اپنے منصوبے کے مطابق شہریوں کو نشانہ بناکر انہیں دہشت زدہ کرتے ہیں مگر یہ دہشت زیادہ دن جاری نہیں رہتی اور شہریوں کے معمولات بحال ہو جاتے ہیں۔ دشمن کے اپنے مقاصد ہیں جن کے حصول کیلئے کبھی مساجد پر حملے کرتا ہے اور کبھی تعلیمی اداروں پر۔ پشاور یونیورسٹی سے پڑھی ہوئی ایک بہن نے مجھے موبائل فون پر پیغام بھیجا ۔۔۔’’دہشت گرد صرف پاکستانی فورسز، مسجدوں اور تعلیمی اداروں ہی کو کیوں ہدف بناتے ہیں؟ وہ شراب خانوں اور جواء خانوں کو بموں سے کیوں نہیں اڑاتے؟‘‘ ان کا اصل چہرہ اور مقاصد سامنے لانے جانے چاہئیں۔

مزید :

کالم -