بے حسی کا کھیل

بے حسی کا کھیل
 بے حسی کا کھیل

  

سانحہ چار سدہ میں جو بے گناہ شہید ہوئے، اُن کے لواحقین کو چھوڑ کر باقی ہم سب اپنی اپنی نارمل زندگی اگلے ہی روز شروع کر چکے ہیں۔ اُن لوگوں کے لئے تو اب ساری زندگی اپنے پیاروں کی یاد اور غم کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ اس میں سبق یہ ہے کہ جس پر بیتتی ہے، وہی اس کا دکھ جانتا ہے ،مگر سوال یہ ہے کہ اس بات کو ہم اپنا طرزِ زندگی بنا سکتے ہیں یا ہمیں بالآخر یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ہم نے دہشت گردی کے عذاب کو اس قوم کے سر سے اُتارنے کے لئے آخری حد تک جانا ہے؟۔۔۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم مصلحتوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔ہم اسلام آباد جیسے شہر میں دہشت گردوں کے حامیوں کی ایک بڑی علامت کو ختم نہیں کر پائے۔ کسی اور ملک میں ایسے تضادات آپ کو نظر نہیں آئیں گے۔ پیرس میں دہشت گردی ہو تو یہ ممکن نہیں کہ وہاں کی کسی مسجد میں بیٹھا ہوا کوئی مولوی یہ کہے کہ اسلام کو نہیں مانو گے تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔’’ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کی‘‘ اس صورتِ حال کو برقرار رکھ کر ہم محض بڑے بڑے خواب ہی دیکھ رہے ہیں۔

جتنی طویل جنگ ہم لڑ رہے ہیں، اتنی جنگ تو کئی قوموں کو بھی اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف اکٹھا کر دیتی ہے۔ ہم ہیں کہ ایک قوم ہونے کے باوجود اس عفریت سے نمٹنے کے لئے اکٹھے نہیں ہو پارہے۔ ہمیں اس جنگ میں جانے سے پہلے نیشنل ایکشن پلان بنانا پڑتا ہے، سب کی رائے لیناپڑتی ہے، بڑی مشکل سے اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے، مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی، جب اس پر عملدرآمد کی نوبت آتی ہے تو پھر مصلحتیں ہمارے پاؤں جکڑ لیتی ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف آل آؤٹ جانے کی بجائے پھر ٹکڑیوں میں بٹ جاتے ہیں۔ قوم کب سے ارباب اقتدار سے یہ جملہ سن رہی ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ اگر آپ حالتِ جنگ میں ہیں تو فیصلے بھی حالتِ جنگ والے کریں، پھر کیوں سب کچھ صرف فوجی آپریشن پر چھوڑ کر حکومتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔عوام یہ جنگ بھرپور طریقے سے لڑنا چاہتے ہیں ،مگر جو لوگ فیصلہ کرنے والے مناصب پر بیٹھے ہیں، ان کے لئے یہ شاید اتنا اہم معاملہ نہیں ہے۔ میں دو روزسے ایک ہی سوال کا سامنا کر رہا ہوں کہ یہ دہشت گردی کب ختم ہو گی؟ہم منصب رفقائے کار ہوں یا طالب علم، عام آدمی ہو یا خاص ،سب اعصابی تناؤ کا شکار ہیں۔ چار سدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں تین ہزار طالب علموں کے لئے 52 سیکیورٹی گارڈ تھے۔ یہاں بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے پاس تو ایک بھی اچھا گارڈ نہیں، سب مانگے تانگے کی وردی پہن کر گارڈ کی نوکری کرنے والے ہیں، ایسے میں عدم تحفظ کا احساس تو ضرور اُبھرتا ہے۔

ایک طالبہ نے آج صبح کلاس میں روتے ہوئے بتایا کہ رات اسے یہ خواب آیا ہے کہ ہمارے کالج میں دہشت گردگھس آئے ہیں اور وہ چن چن کر لڑکیوں کو گولیاں مار رہے ہیں۔ رات تین بجے میری آنکھ کھل گئی، اُس وقت سے میں سو نہیں سکی، آج اس لئے کالج آئی ہوں کہ گھر بیٹھ جاتی تو یہ خوف مجھے مار ہی ڈالتا۔اب کالج میں سب کچھ ٹھیک دیکھ کر میرا حوصلہ بڑھا ہے، پھر اس نے بڑی معصومیت سے دلدوز لہجے میں پوچھا: ’’سر یہ دہشت گردی آخر کب ختم ہوگی؟‘‘۔۔۔ میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ہم جلد ہی اس پر قابو پالیں گے، دہشت گرد اب اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں، ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ سچی بات ہے کہ یہ سب کہتے ہوئے میری آواز میں وہ یقین نہیں تھا، جو سچ بیان کرتے ہوئے خود بخود آ جاتا ہے۔جب تک ہم دہشت گردی کے حوالے سے اپنے اندر اجتماعی سوچ پیدا نہیں کرتے اور تمام ادارے مل کر اسے ایک قومی کاز نہیں بناتے، دہشت گرد فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔پچھلے دنوں میں نے ایک خبر پڑھی کہ جن دہشت گردوں کے ڈیتھ وارنٹس پر چیف آف آرمی سٹاف نے فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے بعد دستخط کئے تھے، ان کی سزاؤں پر ہائیکورٹ نے عملدرآمد روک دیا ہے۔

اگرچہ یہ ہائیکورٹ کا اختیار ہے، مگر کیا قومی ایجنڈا عدالتوں کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھنا چاہیے؟ اگر اپیل سننا ضروری ہے تو پھر مختصر مدت میں اس کا فیصلہ کر دیا جائے ،تاکہ دہشت گردوں کو جو پیغام ہم دینا چاہتے ہیں، وہ پوری طرح ان تک پہنچ جائے، فی الوقت تو ان کے پاس صرف یہی پیغام پہنچ رہا ہے کہ وہ بچوں سے لڑتے ہیں اور بچوں سے ڈرتے ہیں۔ غیر معمولی حالات میں آئین بھی بہت سی اجازتیں دیتا ہے، تاکہ ریاست کے امور چلتے رہیں، اگر آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا ہے تو انہیں پوری طرح کام بھی کرنے دیا جائے۔ ایک طرف یہ تاثر عام ہے کہ ہم نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کر رہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کو سزاؤں کے حوالے سے بھی ہماری کارکردگی کچھ اتنی حوصلہ افزا نہیں، اب ایسے میں کوئی کیسے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ملک سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔ ایک جنرل راحیل شریف کا دم غنیمت ہے کہ پورے عزم کے ساتھ یہ کہتے رہتے ہیں کہ آخری دہشت گرد تک ان کا پیچھا کریں گے،ملک کے کسی حصے میں انہیں جائے پناہ نہیں ڈھونڈنے دیں گے۔ بدقسمتی سے ان کی اس بات پر یہ سوالات اٹھنے لگ جاتے ہیں کہ سوائے کراچی کے رینجرز یا فوج نے اور کس شہری علاقے میں ایسا آپریشن کیا ہے اور اب تک اس ضمن میں کتنے سہولت کار اور دہشت گرد ملک کے دیگر حصوں سے گرفتار کئے ہیں؟آخر کیا مجبوریاں ہیں جو آپریشن کا دائرہ بڑھنے نہیں دے رہیں؟

کراچی میں ایک بڑے آپریشن سے امن قائم ہو گیا ہے تو اس ے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر وہ دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز کہاں گئے ،جنہوں نے کراچی کا امن تہہ و بالا کر رکھا تھا؟ جس طرح یہ پتہ نہیں چل رہا کہ ایک لاکھ سے زائد گدھوں کی کھالیں برآمد کرنے کے باوجود یہ سراغ نہیں مل رہا کہ ان گدھوں کا گوشت کہاں ہے؟اسی طرح غائب ہونے والے دہشت گرد بھی کہیں اور نہیں گئے، ہمارے مختلف شہروں میں منتقل ہو گئے ہیں، جن کا ہمیں علم نہیں۔ وہ کسی نہ کسی کی پناہ میں ہیں اور مشکل وقت گزر جانے کا انتظار کررہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان میں اس بات پر زور دیاگیا کہ دہشت گردوں اور ان کو پناہ دینے والے سہولت کاروں کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے، مگر جس طرح ہمارے ارباب اختیار گدھے کی کھالوں پر قناعت کئے بیٹھے ہیں،اسی طرح وہ دو چار قابو آنے والے دہشت گردوں یا مارے جانے والے درندوں کی لاشوں پر اکتفا کرکے بیٹھے ہوئے ہیں اوریہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ اس طرح وہ دہشت گردی ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اس خام خیالی سے ہمیں کون نکالے گا اور کون ہمیں یہ باور کرائے گا کہ غلیل سے درندے نہیں مرتے ،انہیں گولیوں سے مارنا پڑتا ہے۔

بنیادی طور پر ایسے بیانات حوصلہ افزاء اورخوشنمالگتے ہیں، جیسے ہمارے مقتدر لیڈر صاحبان جاری کرتے ہیں ،مثلاً وزیر اعظم نواز شریف نے سانحہ چار سدہ کے بعد کہا ہے کہ دہشت گردوں کو بے رحم انجام سے دو چار کریں گے۔گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔۔۔کسی منچلے نے سوشل میڈیا پر گورنر صاحب کو یہ مشورہ دیا کہ وہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی نعشیں بغور دیکھیں، کہیں وہ آخری دہشت گرد انہی میں موجود نہ ہو ؟اگر ایسا ہوا تو گورنر صاحب کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام دہشت گردی کے زخم کھا کھا کہ بہت سیانے ہوگئے ہیں۔اب انہیں چکنی چپڑی باتوں یا لچھے دار بیانات سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا،وہ عملی اقدامات کے منتظر ہیں،جو کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔یہ صورت حال عوام میں مایوسی کو جنم دے رہی ہے،جو بجائے خود دہشت گردوں کی ایک بڑی کامیابی بن سکتی ہے۔ہر سانحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے،کچھ کرنے کی راہ دکھاتا ہے،تھوڑی دیر کے لئے پانی میں ارتعاش ضرور پیدا ہو تا ہے،مگر پھر جمود طاری ہو جاتا ہے۔آخر بے حسی کا یہ کھیل کب تک جاری رہے گا؟

مزید :

کالم -