تصویر پاکستان کے رنگ

تصویر پاکستان کے رنگ
 تصویر پاکستان کے رنگ

  

آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی آمدن میں خواتین کا کردار نہ ہونے کی وجہ سے جی ڈی پی کو سالانہ 30 فیصد نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قومی آمدن کے شعبوں میں صنعتی توازن نہ ہونے کی وجہ سے آبادی میں 50 فیصد کی حصہ دار پاکستانی خواتین کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اقبالؒ نے کہا تھا کہ وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ، مگر پاکستان میں خواتین کے متعلق جو قومی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں اور جس طرح معاشرے میں ان کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے اس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم تصویر پاکستان کو بلیک اینڈ وائٹ رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور اپنی ذہنی کلربلائنڈنس کی وجہ سے ارض وطن میں رنگ دیکھنے سے خوفزدہ ہیں۔

میٹرک، انٹرمیڈیٹ، گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کے نتائج اکثر یہی خبر دیتے ہیں کہ قوم کی لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اکثر یونیورسٹیوں میں طالبات کی تعداد طلبا سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ بہت سے اعلی تعلیمی اداروں میں پہلی پوزیشن اکثر لڑکیاں حاصل کرتی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی جو بڑی تعداد میڈیکل ڈگری حاصل کرتی ہے وہ فیلڈ میں کیوں نہیں آتی۔ہماری بدقسمتی ہے کہ بہت اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود لڑکیاں قومی زندگی میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ کلچر کے مسائل بھی ہیں اور بعض اوقات مذہبی طور پر بھی ایسے دلائل دیئے جاتے ہیں کہ لڑکیوں کی ملازمت جائز نہیں ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر جو رقم خرچ ہو رہی ہے وہ ثقافتی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر ضائع ہو رہی ہے اور اس سے قومی ترقی کی رفتار پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی مغرب کی ہیرو ہے کیونکہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کی علامت کے طور پر ابھری تھی مگر ہمارے ہاں بہت سے لوگ اب بھی اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کے پیچھے ہمہ وقت یہودوہنوز کی سازشیں تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ہمارے ہاں بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام دنیا میں عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق دیتا ہے۔ مگر وہ یہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ موجودہ دور میں کسی نہ کسی انداز میں عورتوں کے حقوق کو سب سے زیادہ ہمارے ہاں ہی غصب کیا جاتا ہے۔ آپ نے بہت کم علماء حضرات کو عورتوں کے وراثتی قوانین کے متعلق تقریریں کرتے سنا ہوگا۔ امریکہ اور یورپ کے خلاف شعلہ باز گفتگو کرنے والے علمائے کرام بھی اپنے علاقے میں عورتوں کے وراثتی حقوق غصب کرنے والوں کے خلاف زبان کھولنے سے اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں وہ معززین علاقہ ناراض ہو سکتے ہیں جن کی سرپرستی سے امام صاحب کے گھر کا چولہا جل رہا ہوتا ہے۔ پنجابی باپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس کے ہر طرح سے لاڈ اٹھاتا ہے مگر اسلام نے اسے پسند سے شادی کرنے کا جو حق دے رکھا ہے اس کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح اکثر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی جائیداد ان کے بیٹوں کو منتقل ہو۔ کسی بھی ضلع میں چلے جائیں تحصیلدار اور متعلقہ اہلکار آپ کو ظلم کی ایسی ایسی داستانیں سنائیں گے کہ انسان حیران و پریشان ہو جاتا ہے۔ لڑکیوں کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم کرنے کے لیے قانون اور مذہب کے ساتھ کیسے کیسے ڈرامے کیے جاتے ہیں اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ہاں لڑکیوں کی قرآن سے شادی کرکے انہیں شادی کے حق سے ہی محروم کر دیا جاتا ہے اور عام طور پر ایسی حرکتیں کرنے والے اکثر یہ تقریریں کرتے پائے جاتے ہیں کہ اسلام عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق دیتا ہے۔ کراچی میں ایک دور میں شٹل کاک برقعہ کا بہت رواج تھا۔ اور بہت سے خاندان اپنی عورتوں کے لیے اسے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ بعض اوقات ایسی خبریں بھی سننے کو ملتی تھیں کہ سڑک پر چلتے ہوئے خاتون گٹر میں گر گئی اور شٹل کاک برقعہ باہررہ گیا۔

دنیا میں سب سے متبرک مقام خانہ کعبہ ہے اور طواف کعبہ کی دین میں بہت زیادہ اہمیت ہے مگر طواف کعبہ کے وقت دنیا بھر سے آنے والی خواتین کے چہرے پر نقاب نہیں ہوتا۔ اور وہ مردوں کے ساتھ طواف کا انتہائی مقدس فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔خانہ کعبہ میں تو خواتین کو مردوں کے ساتھ طواف کی اجازت ہے مگر یہی خواتین اگر بازار جانے کی خواہش کا اظہار کر بیٹھیں تو بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ خواہش غیر اسلامی ٹھہرتی ہے۔

دور رسالت میں مسلمان عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ زندگی گزارتی تھیں۔ ان کی حیثیت رفیق کی ہوتی تھی خدمت گار یا کھلونے کی نہیں۔ گزشتہ صدی میں بھی بہت سے یورپی ممالک میں عورتیں میدان جنگ میں نہیں جاتی تھیں مگر مجھے میدان احد میں اُمِ عمارہؓ یاد آتی ہیں جو اس وقت بھی پامردی سے لڑتی رہیں جب بڑے بڑے مرد صحابی پسپا ہو گئے۔ روایت ہے کہ کفار رسول پاکﷺ پر تیر و تلوار سے حملے کررہے تھے۔ دندان مبارک شہید ہو گئے تھے۔ اُم عمارہؓ رسول پاک اور دشمنان اسلام کے درمیان دیوار بن کر ڈٹ گئیں۔ جب ابن عمید مسلمانوں کی صفیں چیرتا ہوا آنحضرتﷺ کے پاس پہنچ گیا تو اُم عمارہؓ نے بڑھ کر تلوار کا ایک ایسا وار کیا کہ اس کے قد م وہیں رک گئے اور اگر اس نے دوہری زرہ نہ پہنی ہوتی تو وہیں ختم ہو جاتا۔ خود رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے احد میں اُم عمارہؓ کو اپنے دائیں اور بائیں لڑتے دیکھا۔ ہم اُم عمارہؓ کا مبارک تذکرہ نہیں کرتے اور اپنی بیٹیوں کو نہیں بتاتے کہ حضرت اُم عمارہؓ خیبر کی جنگ میں بھی شریک ہو ئیں۔ اور جنگ یمامہ میں ان کی قربانی کو یاد نہیں کرتے جب مسیلمہ کذاب نے عرب کے بہت سے قبائل کو مرتد کرکے اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور اسلام سخت خطرے میں پڑ گیا۔ اس جنگ میں حضرت اُم عمارہؓ نے اس شدت سے حصہ لیا تھا کہ انہوں نے بارہ زخم کھائے تھے اور ان کا ایک ہاتھ کٹ گیا تھا۔ سائپرس میں رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی خالہ اُم حرامؓ کا مزار ہے۔ اگر آپ کو کبھی یہاں جانے کا موقع ملے اور گائیڈ تاریخ اسلام سے واقف ہو تو وہ آپ کو بتائے گا کہ جب عہد عثمانی میں قبرص (سائپرس) کے ذریعے حملہ ہوا تو اس بحری جنگ میں ام حرامؓ بھی شامل تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم اورخلفائے راشدین کے دور میں یہ خواتین ہی تھیں جو زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ تیروں کی بوچھاڑ میں شہداء کی لاشوں اور زخمیوں کو کاندھوں پر اٹھا کر لے جاتی تھیں اور گورکنی کے کام کرتی تھیں۔ ہمارے عہد کی بچیوں کو اسلامی تاریخ کے ان سنہری اوراق سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے یہ روایت ہے کہ میں نے عائشہؓ اور ام سلیمؓ کو دیکھا کہ پائنچے چڑھائے ہوئے مشکیں بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں۔ جنگ حنین میں ام سلیمؓ خنجر نکال کر مشرکین کے مقابلے میں تیار نظر آتی ہیں۔

آج میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والی ہماری طالبات کو پریکٹس کرنے سے روکا جاتا ہے اور انہیں کوئی نہیں بتاتا کہ عہد نبویﷺ میں صلح و امن کے زمانے میں عورتوں کا جراحت و طبابت کا پیشہ اختیار کرنا مسلمہ امر ہے اور رفیدہ کا جراح خانہ خاص مسجد نبوی ﷺ کے پاس تھا۔ ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نے اپنے ایک مضمون میں عہد نبویﷺ میں صحابیات کی زندگی کی مثالیں پیش کی تھیں،وہ رقمطراز ہیں:

-1’’صحابیات وسیع پیمانے پر تجارت کرتی تھیں۔ حضرت خدیجہؓ کا کاروبار شام تک پھیلا ہوا تھا۔

-2مولدؒ ، ملیکہؓ، تقیفہؓ، انیب مخربہؓ عطر بناتی اور بیچتی تھیں۔

-3حضرت سودہؓ کھالیں تیار کرتی تھیں۔

باغبانی، کاشتکاری، خطاطی، دستکاری کون سا ایسا ہنر تھا جس میں صحابیات کو مہارت حاصل نہ تھی۔ مسلمان مرد یا عورت کو اس لیے جائز طریقے سے کسب معاش کی اجازت ہے کہ قرآن پاک میں کسب معاش کو بار بار فضل اﷲ کہا گیا ہے اور اﷲ کا فضل مرد اور عورت دونوں پر یکساں ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ضرورت کے مطابق مسلمانوں کے لیے وسعتیں پیدا کی جاتیں، جس طرح خلفائے راشدین کے وقت ہوا، مگر خودساختہ آئمہ دین، جنہیں علوم متعارفہ سے کوئی واقفیت نہیں، مسلمانوں کے سامنے اسلام کی ایسی مسخ صورت پیش کرتے ہیں کہ اس سے کئی قسم کے خطرات پیدا ہو رہے ہیں‘‘۔

مزید :

کالم -