قلم قتلے

قلم قتلے
 قلم قتلے

  

O۔۔۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13روپے فی لیٹر کمی کا امکان۔ ایک خوش کن خبر۔

*۔۔۔اس مجوزہ کمی پر اگر عملدرآمد ہوسکا تو رکشا یا کسی بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے میں ’’گڈگورننس ‘‘ ایک پیسے کی بھی کمی کراکے دکھائے تو مانیں ۔۔۔؟

O۔۔۔وزیراعظم، مودی کو دوست اور مولوی کو دشمن سمجھتے ہیں۔ سراج الحق ۔

*۔۔۔حالانکہ دونوں کو دشمن سمجھنا چاہئے۔

O۔۔۔پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن میں اراکین کی تنخواہیں بڑھانے پر خاموش اتفاق۔

*۔۔۔اتفاق کیوں نہ ہو آخر ممبر کس لئے بنے ہیں ؟:

ہے یوں توسارے حریفوں میں اختلاف بہت

مرے خلاف مگر اتحاد کتنا ہے ؟

O۔۔۔صوبائی حکومت کو کسی بھی ملزم کے خلاف مقدمات کی واپسی کا اختیار ۔ سندھ اسمبلی میں بل منظور:

*۔۔۔گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا

کارطفلاں تمام خواہد شد

افسوس کہ یہ کارآمد ’’سکیم ‘‘ بھٹو دور میں کسی کو نہ سوجھی ۔ وہ بھی ملزم سے نہ مجرم بنتے۔ نہ پھانسی چڑھائے جاتے ۔۔۔!

O۔۔۔حیرت ہے10سال قبل کالعدم قراردی گئی تنظیم کے دفاتر اب بندہورہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری۔

*۔۔۔اس میں حیرت کی کیا بات ؟ پاکستان میں ہرکام کیونکہ پہلی مرتبہ ہوتا ہے اس لئے یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

O۔۔۔گرپٹ لوگوں کو گریبان سے پکڑ کر لوٹی ہوئی دولت نکلوائیں گے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق ۔

*۔۔۔سراج الحق صاحب !

ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے

O۔۔۔اگر کسی بار کے صدر نے ججز کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے وکیل کا تحفظ کیا تو میں اپنے ساتھی وکلاء کے ساتھ بار کے اس صدر کے خلاف احتجاج کروں گی ۔!

محترمہ عاصمہ جہانگیر کا پرعزم اعلان ۔

*۔۔۔’’وکلاء گردی ‘‘ کے خلاف اس توانا آواز کو عوام کی بھرپور پذیرائی ملنی چاہئے، جو ملے گی۔

O۔۔۔’’جس گٹر پر ڈھکن نہیں وہاں میری تصویر لگادی جاتی ہے ‘‘۔ ایک ہفتے میں کراچی کے ہرگٹر پر ڈھکن لگانے کا حکم دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی دہائی۔

O۔۔۔کاش کوئی مصور یہی کام لاہور میں بھی کر دکھائے ۔

O۔۔۔’’فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ سننے کے باوجود ہمیں جمہوریت بہت عزیز ہے ‘‘ ۔۔۔خورشید شاہ۔

*۔۔۔لفظ ’’جمہوریت‘‘ کی جگہ ’’کرپشن‘‘ لگا لیجئے تاکہ ہم آپ سے سوفیصد اتفاق کرسکیں۔ اسی کی خاطر تو آپ رینجرز اور عدلیہ کے پر باندھنا چاہ رہے ہیں جو بندھیں گے نہیں۔ انشاء اللہ۔

O۔۔۔پی پی پی نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ ، غیرمنتخب عناصر، اور اسٹیٹس کو ‘‘ کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری۔

*۔۔۔اور اب پھر نقصان اٹھانے والے ہیں کہ تدارک پی پی پی کے بس کا روگ نہیں۔

O۔۔۔ہڑتالیں ہوں یا ججز پر جوتے پھینکے جائیں عدلیہ انصاف کی فراہمی میں پیچھے نہیں ہٹے گی، جسٹس میاں ثاقب نثار۔

*۔۔۔ آپ کے منھ میں گھی شکربجاارشاد فرمایا، یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ججز نہیں ججز کے فیصلے بولتے تھے اور وہ دور واپس لانا یقیناًاحسن عمل ہوگا۔ زندہ باد میاں ثاقب نثار صاحب !

O۔۔۔شہباز شریف ہستپال اور کڈنی سنٹر میں کروڑوں کی کرپشن۔ گورنر پنجاب کی جانب سے سپیشل آڈٹ کا حکم ۔ ایک خبر کی سرخی ’’پاکستان ‘‘ اخبار میں ۔

*۔۔۔چوکفر ازکعبہ برخیزدکجاماند مسلمانی ؟

خادم اعلیٰ کے نام پر قائم ادارہ اور یہ گھپلے؟

O۔۔۔گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور۔

*۔۔۔ایک جیسی شکلوں کے حکمران قوم کا مستقل مقدر بنا دیئے گئے ہیں تو یہ سب کچھ مقدر کیوں نہ ہو؟

O۔۔۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں کروڑوں کی خورد برد کا انکشاف

*۔۔۔خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، پنجاب میں ہسپتالوں کا حال دیکھ کر صوبہ پختونخوا کیوں پیچھے رہے کہ :

کند ہم جنس باہم جنس پرواز

کبوتر باکبوتر باز بہ باز

O۔۔۔بگٹی قتل کیس میں پرویز مشرف خصوصی عدالت میں پیشی کے بغیر ہی بری۔ اخبار ’’دنیا‘‘ کی سرخی ۔

*۔۔۔ثابت ہوگیا کہ مقدمہ سیاسی اور بے بنیاد تھا۔ پرویز مشرف کا مختصر تبصرہ۔ سچی بات ہے :

حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے

O۔۔۔نیب قانون کو کیوں نہ کالعدم قرار دے دیں 10کروڑ کرپشن کرنے والا ایک کروڑ لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ ۔

*۔۔۔آپ کو استقامت عطا ہو۔ خدارا۔

یہ کام جلد کیجئے اور کروڑوں عوام کی دعائیں لیجئے، خداکرے کہ یہ سلسلہ بھی پاک دھرتی سے ختم ہوکہ :

لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا

O۔۔۔قائد کے پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ شہباز شریف

*۔۔۔تو گویا یہ قائد کا پاکستان نہیں، جہاں دہشت گردی اور فرقہ واریت کا بازار مسلسل گرم ہے۔

مزید :

کالم -