شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف راجووالویؒ

شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف راجووالویؒ

  

حکیم محمد یحییٰ عزیز ڈاھروی

آج صرف خطہ برصغیر میں50کروڑ سے زائد فرزندان توحید حق کا علم تھامے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ہم ان نصف ارب مسلمانوں کے شجرہ نصب کی کھوج لگائیں توان کی روح میں کوئی نہ کوئی دینی مدرسہ کار فرما نظر آئے گا۔ مدارس میں طلبہ کی جاری تدریس، مساجد میں نمازیوں کی حاضری اور معاشرے میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے جو آثار نظر آ رہے ہیں یہ دراصل صحابہ کرامؓ ، اہل بیتؓ ، تابعین ؒ ، تبع تابعین ؒ ، آئمہ دین ؒ ، محدثین عظام ؒ ، شہدائے اسلام ؒ ، علماء اولیا ؒ کرام کی بے لوث قربانیوں، جدوجہد ، اشاعت اسلام و خدمات اسلام کا ثمر ہے۔ پوری دنیا میں دین اسلام کی تحریکیں پھیل چکی ہیں۔ عالم کفر کی تمام تر سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود دین اسلام کی تعلیمات قرآن و حدیث کے مجموعے کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ہر طرف نظام اسلام کا غلبہ ہو گا۔ ان شاء اللہ

مدارس دینیہ میں دارالحدیث جامعہ کمال راجو وال ضلع اوکاڑہ اور اس کے بانی ولی کامل تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما، تحریک ختم نبوت کے اسیر، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے نامور بزرگ عالم دین شیخ الحدیث والتفسیر استاذ العماء مولانا محمد یوسف کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ بلاشبہ ایک فقیر منش، خاموش طبع، لائق ترین مدرس، قابل اتالیق، لائق تقلید استاد، علم کا خزانہ، عمل کا نمونہ اور منیب الی اللہ ولی اللہ تھے۔ عاجزی، انکسار، مہمان نوازی ان کی فطرت میں رچ بس گئی تھی۔پیرانہ سالی میں بھی جوانوں سے زیادہ کام کرتے تھے۔ وہ مایوسیوں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید کی کرن تھے۔ وہ استقامت اور ہمت کا ایک کوہسار تھے، آپ دلوں کو موہ لینے، مسکرانے والے، محبت کرنے والے، غرباء، مساکین، بے سہارا، مساجد، مدارس کی بے لوث خدمت کرنے والوں میں باکمال تھے۔ اپنی زندگی کی 95سال کی بہاریں گزارنے کے بعد اندرون و بیرون ملک لاکھوں سوگواروں کو غم سے نڈھال کر کے12ربیع الاول14جنوری2014ء کو علم و عمل کا آفتاب غروب ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت بابا جی شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف نے اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث کی تعلیمات دینے میں صرف کی۔ آپ کی درس گاہ سے فیض علم حاصل کرنے والے علمائے اکرام، شیوخ عظام اور قاری حضرات اس وقت ناصرف پاکستان بھر میں بلکہ بیرون ممالک میں دین اسلام کی اشاعت و ترویج میں مصروف کار ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف نے1919ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور کے گاؤں چک سومیاں عرف اعوان میں جنم لیا۔ آپ کے والد محترم کا نام کمال دین اور دادا جان حق نواز کی و فات حالت سجدہ میں ہوئی۔ آپ کا خاندان سادگی، تقویٰ، مہمان نوازی میں مثالی تھا۔ آپ نے دارالحدیث نذیریہ فیروز پور، مدرسہ قمر الہدیٰ عثمان والا، مرکز اسلامیہ جامعہ محمدیہ لکھو کے، مدرسہ غزنویہ امرتسر، مدرسہ دارالکتاب والسنہ دہلی جیسے مدارس میں زیر تعلیم رہ کر مولانا دل محمد اعوان ؒ ، مولانا محمد قلعوی ؒ ، شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی ؒ ، مولانا محمد داؤد ارشد کوٹلوی ؒ ، مولانا عطاء اللہ لکھوی ؒ ، مولانا نیک محمد جہلمی ؒ ، مولانا محمد حسین ہزاروی ؒ ، مولانا عبداللہ بھوجیانی شہید ؒ ، مولانا عبدالرحیم بھوجیانی شہید ؒ ، محدث زماں حافظ محمد عبداللہ روپڑی ؒ ، امام حافظ عبدالستار دہلوی ؒ جیسے علماء شیوخ عظام سے علوم قرآنی، کتب احادیث نبویہ ؐ، منطق، فارسی، ادب و دیگر علوم و فنون کی تکمیل 1944ء میں حاصل کی۔ اس دوران تحریک پاکستان کے پلیٹ فارم پر قیام پاکستان کے حصول، مہاجرین کے لئے قیام و طعام کے لئے بھی سرگرم عمل رہے۔ بطور خطیب و امام جامع مسجد اہلحدیث شیخاں والی چونیاں، مدرسہ دارالعلوم ضیاء السنہ راجہ جنگ، جامع مسجد اہلحدیث تھہ کامل میں چند سال خدمات سرانجام دیں۔ قیام پاکستان کے بعد 1949ء کو قصور تا ملتان روڈ برلب سڑک منڈی راجو وال ضلع اوکاڑہ کے قصبہ میں دارالحدیث جامعہ کمالیہ کے نام سے محدث زماں حافظ محمد گوندلویؒ اور مجتہدالعصر مفتی دوراں حافظ محمد عبداللہ روپڑیؒ جیسے شیخیں کریمین نے دارالعلوم کا سنگ بنیاد رکھا۔ اسی جگہ پر بیٹھ کر ہر طرح کے حالات و واقعات میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کو فروغ دینے میں کمر بستہ رہے۔ خواہ تحریر، تقریر، فتویٰ اور تدریس کا میدان ہو یا ملکی سطح پر اٹھنے والی مرزائیت کے خلاف تحریک ختم نبوت ؐ، نظام مصطفیﷺ، دفاع و بقا پاکستان کی تحاریک ہوں، ہر ایک میں آپ نے اپنے اکابرین مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے حکم پر دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ شانہ بشانہ خدمات سرانجام دیں۔1953ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران چار ماہ مسلسل ڈسٹرکٹ جیل ساہیوال میں قید رہے۔ جیل میں بھی درس قرآن و حدیث اور خطبہ جمعہ کی صورت میں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ ضلع قصور، ضلع ساہیوال ،ہیڈ سلیمانکی ،ضلع اوکاڑہ و پاکپتن تک بے شمار گاؤں اور قصبہ جات میں مساجد کا قیام اور تکمیل ان کی نگرانی میں ہوئیں۔ دارالحدیث کی عظیم الشان لائبریری، ہزاروں کتب پر مشتمل مثالی ہے۔ آپ نے فضائل رمضان المبارک، حیات عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، مقتدی کے لئے نماز میں امام کی طرح سورتوں کے جواب دینے کا مسئلہ، قربانی کے جانور کے مسنہ ہونے کی بحث، نیا جال لائے پرانے شکاری، تحفتہ الجمعہ جیسی علمی تحقیقی کتب تصانیف کیں، جبکہ دیگر علماء و شیوخ کی درجنوں کتب جن میں فتویٰ حصاریہ جو کہ سات جلدوں پر مشتمل ہے، ان کو دارالحدیث کی اکیڈمی دعوت ارشاد کی طرف سے مفت تقسیم کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بار حج بیت اللہ شریف اور تقریباً25بار صحیح بخاری شریف کا درس دینے کی سعادت سے نوازہ تھا۔ خدمت خلق کا جذبہ آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ غرباء، لاوارث، پریشان حال، یتیم طلباء، مساجد و مدارس اور دینی رسائل و جرائد کے ساتھ تعاون و معاونت کرنا، زندگی بھر رہا۔ دارالحدیث میں جب بھی کوئی مہمان آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا، بغیر مہمان نوازی کے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے بڑے بیٹے ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن یوسف نے پڑھائی۔ آپ کی نماز جنازہ میں بے پناہ لوگوں کا ہجوم تھا، تمام مکاتب فکر اور تمام شعبہ زندگی سے وابستہ ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ آپ کی اولاد صالحہ سینکڑوں حفاظ کرام، علمائے کرام، دارالحدیث جامعہ کمال، ریاض الحدیث برائے طالبات، مساجد اور کئی دینی کتب کو اپنی باقیات الصالحات کے طور پر چھوڑ گئے ہیں۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -