اتحاد بین المسلمین کی ضرورت و اہمیت

اتحاد بین المسلمین کی ضرورت و اہمیت

  

فوزان الٰہی خان پسروری

تاریخ اس بات پر شاہد عدل ہے کہ قوموں کے عروج و زوال،اقبال مندی و سربلندی،ترقی و تنزلی،خوش حالی و فارغ البالی اور بد حالی کے تقدم وتخلف میں اتحاد و اتفاق،باہمی اخوت و ہمدردی اور آپسی اختلاف و انتشار اور تفرقہ بازی اور باہمی نفرت و عداوت کلیدی رول ادا کرتے ہیں،چنانچہ اقوام و ملل کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے اندر جب تک اتحاد و اتفاق پایا جاتا رہا تب تک وہ فتح ونصرت اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتے رہے اور جیوں ہی انہوں نے اتحاد و اتفاق کے دامن کو چھوڑ کر اختلاف و انتشار پھیلانا شروع کیا تو ان کو سخت ترین ہزیمت و شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا نیز ساتھ ہی ساتھ اتحاد و اتفاق اور اجمتاعیت کے فقدان کی وجہ سے ان قوموں کا نام صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا،مولانا حالی نے صحیح فرمایا ہے؂

قوم جب اتفاق کھو بیٹھی

اپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھی

کسی بھی قوم وملت کے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے سب سے ضروری اور اہم چیزان کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا پایا جانا ہے،اتحاد ایک زبردست طاقت و قوت اور ایسا ہتھیار ہے کہ اگر تمام مسلمان متحد ومتفق ہو جائیں تو کوئی دوسری قوم مسلمانوں سے مقابلہ تودورکی بات آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتی۔آنحضرتؐ،خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے عہد کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جس کام کو بڑی بڑی قومیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں کر سکیں اس کو مسلمانوں نے باہمی اتحاد و اقفاق،اخوت و ہمدردی،آپسی بھائی چارگی اور اجتماعیت سے کر دکھایا۔

اسلام ہی ہو واحد مذہب ہے جس نے اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کا مثبت تصور امت مسلمہ کے سامنے پیش کیا اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق پر ہمیشہ زور دیا ہے یہی وجہ ہے کہ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے اندر کافی حد تک اتحاد و اتفاق کا جذبہ کار فرما نظر آتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر اتحاد و اتفاق اوراجتماعیت کے جذبہ کو بڑھانے کیلئے اسلامی عبادات خاص طور پر نماز کیلئے جماعت کی تاکید کی گئی اور جمعہ و عیدین میں مسلمانوں کے اجتماع کا خاص اہتمام کیا گیا،تاکہ ملت اسلامیہ کا باہمی اتحاد و اتفاق اور مرکزیت قائم رہے اس کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی بھی امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا سب سے بڑا مظہر اور وحدت و مساوات کی سب سے بڑی نشانی وعلامت ہے،واضح رہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کا داعیہ اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب وہ اپنے فروعی و فقہی اورجزوی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلامی وحدت و اخوت اور بھائی چارگی کے رشتہ کو مضبوط و مستحکم کریں کیوں کہ برق رفتار ترقی،میڈیا وٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں موجودہ وقت و حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملی اتحاد قائم ہو اور اسی وقت عالم اسلام میں رونما ہونے والے انتشار و اختلافات اور فسادات نیز خود ہمارے ملک کی جو موجودہ صورتحال ہے ایسی حالت میں تو امت مسلمہ کیلئے اتحاد و اتفاق کی ضرورت اور ناگزیر ہو جاتی ہے۔

کیوں کہ ان تمام پیش آمدہ مسائل و مصائب کا حل ایک مضبوط و منظم اور مستحکم اتحاد و اتفاق ہی میں پنہاں ہے،افسوس کہ اتحاد بین المسلمین کے بجائے’’اتفقوا علی ان لا یتفقوا‘‘پر امت مسلمہ متحدو متفق ہو گئی ہے،اس وقت امت مسلمہ کا ہر فرد اتحاد و اتفاق،قومی یکجہتی و ہم آہنگی،اخوت و بھائی چارگی اور اجتماعیت کی بات کرتا ہے۔سوال اس بات کا ہے کہ امت مسلمہ کا اتحاد کیوں کر،کیسے اور کس طرح قائم ہو؟اس کاجواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ کا اتحاد واتفاق محض پر زور نعروں اور شیریں بیان وشعلہ بیان مقررین کی سحر انگیز اور ولولہ انگیز تقریروں اور آئے دن وجود میں آنے والی ملی و اتحادی تنظیموں کے ذریعے نہ قائم ہوا ہے اور نہ ہی کبھی قائم ہونے کا امکان ہے،اسی طرح اتحاد بین المسلمین،مادی اغراض و مقاصد،معاشی منفعتوں اور سیاسی و ملکی و قومی ضرورتوں کی بنیاد پر بھی قائم نہیں ہو سکتا ہے کیوں کہ وقتی اغراض ومقاصد کے پیش نظر اگر کوئی اتحاد قائم ہو بھی جاتا ہے تووہ زیادہ سود مند اور دیر پا ثابت نہیں ہوتا،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وقتی منفعتوں اور مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایسی بنیاد تلاش کی جائے جس پر امت مسلمہ کا اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کی مضبوط و مستحکم عمارت تعمیرکی جا سکے اور یہ اتحاد اسلام کی سر بلندی اور مسلمانوں کی ملی و قومی اور مسلکی واختلافی مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکے۔

آج عالم اسلام کی نازک صورتحال اور خود پاکستانی مسلمانوں کی حالت زار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام مسلمان خصوصاً وارثین انبیاء اتحاد اور اجتماعیت کی دعوت دینے اور اس کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ عملی پروگرام اور لائحہ عمل بھی بنائیں اس صورت میں امت مسلمہ کے اندر اتحاد و اتفاق قائم ہو سکتا ہے اور اس کا کھویا ہوا وقار بھی واپس آ سکتا ہے۔

امت مسلمہ کا وہی اتحاد مفید و پائیدار ہوگا جو کتاب و سنت پر عمل کے جذبہ اور صحیح نیت سے ہو،شرک و بدعت پر مسلمانوں کے متحد ہونے کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ اسلام کو ایسے اتحاد کی ضرورت ہے اس نوعیت کے اتحاد سے اگر عارضی طور پر کوئی مقصد حاصل بھی ہوگا تو بعد میں امت کو اس سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا،مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قول و عمل کا تضاد اورحق پرستی کا بیجا غرور ہے ہم زبان سے بات اتحاد کی کرتے ہیں لیکن ہمارا عمل افتراق پیدا کرتا ہے۔

امت مسلمہ کا ایک عظیم المیہ ہے کہ وہ ایک خدا ایک رسول اور ایک قرآن کی حامل ہونے کے باوجود افتراق،انتشار اور اختلافات کا شکار ہے اور یہ انتشار ہمارے بعض عمائدین ملت،علمائے دین اور نام نہاد ملت فروش قائدین نے مسلک و جماعت اور عقیدہ و نظریہ کے اختلاف کو ہوا دے کر پیدا کیا ہے،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی تناظر میں ہم مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق کا جائزہ لیتے چلیں اور دیکھیں کہ اتحاد کی کون سی صورت زیادہ دیر پا کار آمد، پائیدار اور سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔

عام طور سے اتحاد و اتفاق کی دو صورتیں ہوتی ہیں اول نمائشی وسطحی اتحاد اور یہ ایسا اتحاد ہے کہ پورا معاشرہ و سماج افتراق و انتشار اور اختلافات کے شعلوں میں جھلس رہا ہے اور وقتی طور پر نہ معلوم کتنی جماعتوں،تنظیموں،پارٹیوں میں منتشر ہو مگر کسی جذباتی بنیاد پر اتحاد امت مسلمہ کے مسائل و مصائب کا حل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ اتحاد و اتفاق ریت کا تودہ اورسراب ثابت ہوگا،اتحاد و اتفاق کی دوسری صورت حقیقی اورٹھوس اتحاد ہے اورحقیقی اتحاد یہ ہے کہ مضبوط و منظم اور مستحکم بنیادوں پر اتحاد و اتفاق کی ایسی عمارت تعمیر کی جائے جسے کفر و طاغوت کے ایوانوں سے اٹھنے والے طوفان ٹس سے مس اورمتزلزل نہ کر سکیں،اتحاد بین المسلمین کے اصول اور بنیادوں کے متعلق پہلا نظریہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہر فرقہ اپنے فرقے سے الگ ہو جائے اور کسی ایک مسلک کو قبول کرے اور اس طرح مسلمان متحد ہو جائیں گے ۔

امت مسلمہ کے اتحاد کا دوسرا نظریہ یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے مسلک پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہو اور بنیادی طور پر تمام مسلکوں و فرقوں کی بقاء تحفظ کے ساتھ ساتھ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں،بظاہر یہ ایک ایسا عمدہ اورخوشنما اتحادی تصور ہے جس پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کیا جا سکتا ہے ۔

واضح رہے کہ مذہب اسلام امت مسلمہ میں اس طرح کے اتحاد واتفاق کی اجازت نہیں دیتا اس لئے کہ ایسے اتحاد واتفاق سے افتراق وانتشار اور اختلافات کو مزید فروغ حاصل ہو گا،ملت اسلامیہ کو متحد و متفق کرنے کا جو تیسرا بنیادی و مستحکم تصور ہے وہ’’اعتصام بحبل اﷲ اور تمسک بالکتاب والسنۃ‘‘ہے یعنی آپسی فرقہ بندیوں کو ختم کرکے قرآن و احادیث کو اپنا آئیڈیل اور مشعل راہ بناتے ہوئے سب سے پہلے امت مسلمہ اپنے عقائد و اعمال اور افکار و نظریات میں اتحاد پیدا کرے اور جب عقائد و اعمال درست ہو جائیں گے تو فطری طور پر مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا پیدا ہونا لازمی امر ہے کیوں کہ کتاب و سنت پر ہی عمل کرنے سے مسلمانوں کے اندر صحیح معنوں میں اتحاد پیدا ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں عقائد و اعمال کی درستگی پر مسلمانوں کوخصوصی طور سے متوجہ کیا گیا ہے،چنانچہ اس سلسلے میں تمسک بالکتاب والسنہ پر زور دیتے ہوئے آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:’’ترکت فیکم امزین لن تضلوا ما تمستکم بھما کتاب اﷲ وسنۃ رسولہ‘‘۔میں تم میں دو چیزیں قرآن وحدیث چھوڑے جاتا ہوں جب تک تم اس کومضبوطی سے پکڑے رہو گے گمراہ نہیں ہو گے۔

باہمی اتحاد پیدا کرنے کیلئے امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اپنے آپسی نزاعات اور مسلکی و جماعتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیں نیز افتراق و انتشار اور باہمی اختلافات کو فراموش کرکے متحد و متفق ہو جائیں۔موضوع کی مناسبت سے اس سلسلہ میں ایک تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جس سے باذوق قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ باہمی اختلافات امت مسلمہ کیلئے اتحاد کبھی بھی رکاوٹ ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

حضرت علیؓ کے عہد خلافت میں جب مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوئے تو قسطنطنیہ کے عیسائی حکمراں نے حضرت علی اور حضرت امیر معاویہؓ کے باہمی اختلافات کودیکھ کر ناجائز فائدہ اٹھانے کیلئے سوچا کہ ایران کے شمالی صوبوں پر حملہ کر دے،اس وقت وہ صوبے حضرت علیؓ کی خلافت میں شامل تھے،عیسائی حکمراں نے سوچا کہ حضرت امیر معاویہؓ آپس میں اختلافات کی بناء پر ہو سکتا ہے کہ حضرت علیؓ کا ساتھ نہ دیں،لیکن جب حضرت امیر معاویہؓ کو اس سازش کا پتہ چلا تو انہوں نے باہمی انتشار و اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عیسائی حکمراں کو جو جواب لکھا وہ اسلامی اتحاد کا درس دیتا ہے اور امت مسلمہ کیلئے مشعل راہ کا کام دیتا ہے،انہوں نے لکھا ہے کہ:

یہی وہ اتحاد ہے جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور اپنے ماننے والوں سے اس کا مطالبہ بھی کرتا ہے کیوں کہ اتحاد کی راہ میں اختلافات اور مخالفت کو ہوا دے کر مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے والے ہمیشہ اپنے ناپاک عزائم اور منصوبوں میں ناکام و نامراد رہے ہیں،لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک متحدہ قوم وملت کی شکل میں رہیں جھبی جا کر ہم اپنے دشمنوں کو سازشوں کا دندان شکن جواب دے سکتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اپنے فروعی و مسلکی اختلافات اور ذاتی نزاعات و انتشارکو دور کرکے اتحاد اسلامی کی لڑی میں منسلک ہو جائے اور’’اعتصام بحبل اﷲ تمسک باکلتاب والسنۃ‘‘کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑے کیوں کہ اتحاد اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب لوگ قرآن وحدیث پر عمل پیرا ہو جائیں۔

افسوس کہ اس وقت عالمی پیمانہ پرامت مسلمہ کی جو صورتحال ہے وہ ناگفتہ بہ ہے۔آج عراق و افغانستان اور فلسطین کی مثالیں ہمارے لئے درس عبرت ہیں،پڑوسی ملک جس کا قیام ہی اسلام کے نام پر ہوا تھا وہاں پر صورتحال تو اور بھی زیادہ بد ترین ہے،فقہی اختلافات اور مسلکی موشگافیوں نے نفرت و عداوت کے ایسے خطرناک بیج بوئے ہیں جس کے نتیجے میں مساجد جیسے مقدس مقامات پر بم بلاسٹ ہو رہے ہیں،کاش کہ ہم عذاب الہی سے ڈر کر اب بھی سنبھل جائیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -