گورنمنٹ کالج ٹائون شپ لاہور

گورنمنٹ کالج ٹائون شپ لاہور

  

گورنمنٹ ایف سی کالج لاہور جسے 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں سرکاری تحویل میں لیا گیا تھا۔ سال 2003ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں جبکہ چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب تھے، گورنمنٹ ایف سی کالج کو امریکن چرچ کے حوالے کر دیا گیا۔ اس موقع پر کالج کے آخری پرنسپل ڈاکٹر زکریا بٹ تھے جنہیں لاہور بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سپیشل سیکرٹری ہائی ایجوکیشن نذیر سعید کو یہ ذمہ داری سونپی کہ گورنمنٹ ایف سی کالج کے اساتذہ اور دفتری عملے کے لئے ٹاؤن شپ میں ایک کالج قائم کیا جائے، چنانچہ کالج کے 215 اساتذہ کے لئے گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ قائم کیا گیا۔ گورنمنٹ ایف سی کالج کے کچھ اساتذہ مقامی کالجوں میں بھی تعینات ہوئے پروفیسر ڈاکٹر طارق عزیز اور فخر عمر لالیکا کو گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ جبکہ پروفیسر احمد علی مرحوم کو اسلامیہ کالج کینٹ میں پرنسپل مقرر کیا گیا۔ تمام اساتذہ کرام اور دفتری عملے نے انتہائی دل شکن اور نامساعد حالات میں اپنی جدوجہد اور نئے سفر کا آغاز کیا۔

کالج کے پرنسپل صاحبان اور اساتذہ کالج کی تاسیس کے بعد پروفیسر تحسین احمد پرنسپل مقرر ہوئے اور کچھ عرصہ گورنمنٹ ماڈل کالج ماڈل ٹاؤن کے پرنسپل پروفیسر اخلاق حسین شمسی کے پاس کالج کے اقتصادی و مالی امور کی ذمہ داری بھی رہی۔ ازاں بعد راولپنڈی بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر طارق جلیل کو پرنسپل مقرر کیا گیا لیکن وہ بھی طویل رخصت پر چلے گئے۔ ازاں بعد پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد بیگ جو گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ کے پرنسپل تھے تبدیل ہو کر گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کے پرنسپل مقرر ہوئے ۔ ڈاکٹر افتخار احمد بیگ نے کالج کی تعمیر و ترقی کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔

ڈاکٹر افتخار احمد بیگ راولپنڈی بورڈ کے چیئرمین مقرر ہوئے تو پروفیسر ڈاکٹر محمد اصغر چودھری اس ادارے کے پرنسپل مقرر ہوئے اور بعدازاں ڈاکٹر محمد اعجاز بٹ کو پرنسپل مقرر کیا گیا۔ اس دوران گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم مرزا کو گریڈ بیس میں ترقی کے بعد اس ادارے کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ اس دوران ڈاکٹرمحمد اعجاز بٹ کی گریڈ بیس میں پروموشن ہوئی تو ڈاکٹر عبدالقیوم مرزا گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ چلے گئے اور ڈاکٹر محمد اعجاز بٹ کو دوبارہ اس کالج کا پرنسپل مقرر کیا گیا اور وہ گزشتہ چھ سال سے اس عہدے پر فائز چلے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اعجاز بٹ اولڈ راوین ہیں اور بذات خود مختلف ٹیلی ویژن پروگراموں میں بھی بطور میزبان اینکر پرسن شریک ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف کالج کی عمارت میں توسیع اور یہاں کی گراؤنڈز میں مختلف کھیلوں کا اہتمام کرنے اور یہاں باغیچے اور سبزہ زار بنانے میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔

کالج میں کمپیوٹرسائنس کے صدر شعبہ آصف محمود جبکہ شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر مشتاق احمد ہیں۔ شعبہ صحت و جسمانی تعلیم کی سربراہ مسز تبسم عباس شعبہ اسلامیات کے سربراہ عبدالعزیز خان شعبۂ ریاضی کے سربراہ پروفیسر عبدالغنی، سیاسیات کے محمد الیاس اختر، شعبہ فزکس کے محمد جمیل اعوان شماریات کے زاہد مسعود جبکہ شعبہ اُردو کے سربراہ پروفیسر محمد رضوان الحق ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی میں جو اساتذ اس ادارے سے وابستہ رہے انہیں شعبۂ پنجابی کے پروفیسر سلیم منصور خالد اور شہزاد ملک، شعبہ سیاسیات کے ناصر غوری، کالج لائبریریرین افتخار احمد خاں، شعبہ ریاضی کے منیر احمد چودھری اور سعادت حسن جعفری، شعبہ فارسی کے پروفیسر قاضی اکرام بشیر اور میاں مظفر عالم وٹو، ڈاکٹر اورنگزیب خان، حمد ابراہیم، جرنلزم کے محمد واصف ادریس ناگی اور محمد توفیق بٹ، اسلامیات کے عبدالقادر نیازی، حافظ طارق محمود، ڈاکٹر مدثر حسین سیان، ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی اور میاں سعید احمد، شعبۂ ریاضی میں بشریٰ صادق، شعبہ سیاسیات میں عاصم حمید بٹ اور محمد سعید خان، شعبۂ فارسی میں آغا علی مزمل، علی عمران اور ظہیر الدین بابر، شعبۂ ابلاغیات میں عاصم حمید بٹ، عثمان عمر، عثمان ابراہیم اور وزیٹنگ پروفیسر تاثیر مصطفی، شعبۂ نفسیات میں شیبا سعید،شعبۂ فزکس میں توصیف الرحمن اور راحیل چودھری، جبکہ موجودہ صدر ڈاکٹر عزیز الحق قریشی، پروفیسر محمد اقبال چیمہ،اسلم پرویز، آغاز باقر، جاوید اقبال ناصر، سعید اقبال،شعبۂ معاشیات میں فائزہ عنایت،شعبۂ اُردو کے اساتذہ میں پروفیسر محمد افضل باٹھ، ڈاکٹر سلیم اللہ شاہ، ڈاکٹر رضوان مجاہد، ڈاکٹر لیاقت علی، ناصر علی رضا، راشد ارشد، حافظ غلام مصطفی، ڈاکٹر فیصل کمال حیدری، پروفیسر ڈاکٹر ریاض قدیر، پروفیسر محمد افضل چودھری،شعبہ زبان و ادبیات انگریزی میں جو اساتذہ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں، اُن میں تنویر ہمدانی مرحوم، زاہد منیر، سعید احمد چودھری، مسعود احمد، فرخ محمود، نیاز احمد جبکہ، شعبۂ صحت وجسمانی تعلیم میں محمد اصغر بھٹی اور نسیم بشیر ڈوگر، شعبۂ کیمسٹری میں ڈاکٹر محمد شاہد اور فرقان احمد قریشی،شعبۂ معاشیات میں فرزانہ شفقت، رانا شہزاد احمد جبکہ شعبہ ایجوکیشن میں شاہد قدیر، شعبۂ اردو میں محمد افضل چودھری اور قاسم محمود احمد، شعبۂ زوالوجی میں محمد الیاس اور شعبۂ لائبریری سائنس میں افتخار احمد خان شامل ہیں۔

کالج کے پوسٹ گریجویٹ شعبے

گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ میں انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ سطح پر جن آٹھ شعبہ جات میں تدریس کی جاتی ہے انہیں شعبہ اُردو، انگریزی، سیاسیات، معاشیات، اسلامیات، ریاضیات، نفسیات اور ابلاغیات شامل ہیں۔

اساتذہ اور طلبا کی تعداد

گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ میں150 سے زائد اساتذ اور چار ہزار سے زائد طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

کالج کے مختلف بلاک اور عمارتیں

پوسٹ گریجویٹ بلاک، نیو بلاک، اولڈ بلاک،ایڈمنسٹریشن بلاک کے علاوہ ایک خوبصورت مسجد لائبریری ، جدید اور نو تعمیر شدہ لیبارٹریز ، کیفے ٹیریا، سائیکل سٹینڈ،کار پارکنگ،یہ تجربہ گاہیں، فزکس، کیمسٹری، زوالوجی، باٹنی، کمپیوٹر سائنس، شماریات اور جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ میں تعمیر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کالج میں ایک وسیع و عریض پرنسپل ہاؤس بھی موجود ہے جس میں کالج کے پرنسپل اقامت پذیر ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے اعزاز

کالج کو اُس کے وسیع سبزہ زار، باغیچوں، صفائی، نظم و ضبط اور حسنِ ترتیب کی وجہ سے ڈبلیو (W) کیٹگری کا ایک مخصوص اعزاز عطا کیا گیا ہے۔

کالج میگزین اور گزٹ

کالج میگزین ASPIRATIONS اسیپیریشنز کے مدیر اعلیٰ پروفیسر محمد رضوان الحق اور گزٹ کے مدیر پروفیسر آغا علی مزمل ہیں۔کالج میں مختلف علمی و ادبی سوسائٹیز بھی کام کر رہی ہیں جن میں مجلس اقبال، بزم مباحثہ کوئز سوسائٹی، بزم شعر و سخن کے علاوہ شعبہ جاتی سوسائٹیز بھی علمی، ادبی اور ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہیں۔

دیگر سہولیات

کالج میں طلبا و طالبات کے لئے دو بسیں موجود ہیں ایک وسیع و عریض باغ اور دس باغیچوں کے علاوہ باغ نباتات بھی موجود ہیں۔

اساتذہ کی اضافی ذمہ داریاں

کالج کے نظم و ضبط اور دیگر امور کے سلسلے میں مختلف اساتذہ کرام کو اضافی ذمہ داریاں دی گئی ہیں، پروفیسر محمد رضوان الحق کالج کونسل کے رکن، پوسٹ گریجویٹ شعبہ جات کے کنونیئر، تعمیر سیرت و کردار کمیٹی کے کنونیئر اور کالج میگزین کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ علی عمران کالج کی سیکنڈ شفٹ کے انچارج، پروفیسر حسین کالج آفس کے انچارج عمران اللہ چیف سیکیورٹی آفیسر کے اضافی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -