پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت کا فروغ

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت کا فروغ

  

معاشی استحکام ، سیاسی خود مختاری اور دفاعی خود انحصاری کے لئے ترقی، ہمہ جہت ، ہمہ وقت اور مسلسل ترقی بقا اور ارتقاء کا ایک لازمی جزو بن چکاہے۔جن قوموں نے اس راز کو پایا وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہیں۔ چین، انڈیا، برازیل، جرمنی، جاپان، ملائیشیا اور ایسے ہی دیگر اقوام اور ممالک اپنی بقاو غلبے کے لئے تعمیر و ترقی کے سفر پر گامزن ہو چکے ہیں۔ ان سب اقوام نے فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت کے فروغ کے ذریعے اپنی نوجوان نسل کو تعمیرو ترقی کے عمل میں شریک کر لیا ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کے ذریعے ان ممالک کے نو جوانوں کی صلاحیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ قومی ترقی کے عمل میں ایک فعال اور بھرپور عامل کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ جس کے اثرات و ثمرات ہمیں ان قوموں کی ہو شربا ترقی کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ فنی تعلیم کے فروغ کے باعث ہی یہ اقوام دنیا میں با عزت مقام حاصل کر چکی ہیں۔

2023 میں قطر فیفا ورلڈ کپ منعقد کرانے جا رہا ہے جس کے لئے ایک نیا شہر بسانے کا پروگرام بنایا ہے۔قطر حکومت نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اسے 2 لاکھ ہنرمند بھجوائے جو اس شہر کی تعمیرمیں اس کا ساتھ دیں۔ پاکستان میں سر کاری سطح پر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA) ہی ایسا محکمہ ہے جو فنی تعلیم اور ووکیشنل ٹریننگ کا بندوبست کرتا ہے۔ ٹیوٹااپنے اداروں کے ذریعے 137ٹریڈز میں سالانہ 198000 ہنر مند تیار کرتا ہے جبکہ 300 سے زائد غیر سرکاری ادارے بھی ٹیوٹا کی چھتری تلے 50 ہزار ہنر مند سالانہ کی بنیاد پر تیار کرتے ہیں۔

ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی(TEVTA) اپنے چیئرمین عرفان قیصر شیخ کی قیادت میں مثبت تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ عرفان قیصر شیخ کا تعلق سرمایہ کار اور صنعت کار طبقے سے ہے وہ ٹیوٹا کو سست سرکاری ادارے سے نکال کر ایک فعال اور متحرک اتھارٹی بنانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔ گزرے دس ماہ کے دوران انہوں نے یہاں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے ملاپ و اشتراک کی پالیسی کے تحت فنی تربیت کے کئی منصوبے شروع کئے ہیں جو کامیابی سے چل رہے ہیں پبلک پرائیویٹ پا رٹنرشپ (PPP) کے نظریے کے تحت نجی شعبے کو ٹیوٹا چلانے کے لئے مشاورت میں شامل کر کے ایسے ٹریڈ کورسز کانصاب تیارکیا جا رہا ہے جن کی مارکیٹ میں طلب ہے ٹیوٹا کے چیئر مین کا کہنا ہے کہ ٹیوٹا کو ایسے ہنر مند تیار کرنے چاہئیں جن کی مارکیٹ میں طلب ہو، ایسی ہنر مندی کو فروغ ملنا چاہئے جو نہ صرف لوکل انڈسٹری کے لئے فائدے مند ہو بلکہ یہ ہنرمند بیرونِ ملک جا کر بھی نہ صرف اپنے آپ کے لئے بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی فائدے مند ثابت ہوں یہی وجہ ہے کہ نجی شعبے کی مشاورت سے ٹیوٹا ایسے ہی ہنر مند تیار کرنے کے لئے مستعد ہو چکا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پا رٹنرشپ کا نظریہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہا ہے۔

سرکاری انداز میں چلنے والے ٹیوٹا کی کار کردگی گزرے دس سال میں مجموعی طور پرتسلی بخش نہیں رہی ہے۔ 2000ء میں قائم کی جانے والی اتھارٹی مختلف سربراہوں کی قیادت میں کام کرتی رہی ہے لیکن ہنر مندوں کی بیرون ملک کھپت تودور کی بات ہنر مندوں کی اندورنِ ملک ضروریات بھی پوری نہیں کی جا سکی ہیں۔ محمد شہباز شریف نے نجی شعبے کے ایک جوان سال صنعتکار ، عرفان قیصر شیخ کو حال ہی میں اتھارٹی کا سربراہ بنایاہے ۔

عرفان قیصر شیخ چینوٹ کے ایک صنعتکار ، کاروباری اور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا حلقہ نیابت اور سیاست چینوٹ میں ہے لیکن حلقہ اثر بیک وقت کراچی اور لاہور میں بھی ہے ایک وقت ایسا بھی تھا کہ عرفان قیصر شیخ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر تھے اور ان کے والد قیصر شیخ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر تھے کاروباری اور صنعتی حلقوں میں عرفان قیصر کو کامیاب اور مدبر بزنس مین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی ایسی ہی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے عرفان قیصر شیخ کو بدلتے ہوئے لوکل اینڈ انٹرنیشنل لیبر مارکیٹ حالات سے ٹیوٹا کوہم آہنگ کرنے کے لئے ٹیوٹا کا چیئرمین مقرر کیا۔

عرفان قیصر شیخ نے اپنی تعیناتی کے ساتھ ہی یہاں ٹیوٹا میں وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے وژن اور ہدایات کے مطابق پبلک۔ پرایؤیٹ پارٹنر شپ ماڈل پر عمل درآمد کرنا شروع کر دیا۔ یہاں پڑھائے جانے والے ٹریڈز کے چناؤ سے لے کر نصاب کی تیاری و نظر ثانی اور پاس آؤٹس کی کھپت اور ملازمتوں کے حصول تک تمام مراحل انڈسٹری کی مشاورت اور شراکت سے طے کرنا شروع کر دیئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 4 سالوں میں قطر، دبئی اور دیگر خلیجی ممالک میں پاکستان سے 2 لاکھ ہنر مند افراد کو بھجوانے کا ٹارگٹ طے کیا ہے۔ سکلز ڈویلپمنٹ سیکٹر پلان میں 2018 تک 20 لاکھ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کا ہدف طے کر لیا ہے تاکہ ملک و بیرون ملک ہنر مندوں کی طلب کو پورا کیا جا سکے اور معاشی تعمیر و ترقی کے پیدا ہونے والے امکانات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ حکومت پنجاب اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے شبانہ روز مصروفِ عمل ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے اور کسی کو رعائت نہ دینے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ٹیوٹا اس حوالے سے مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ٹارگٹ کے حصول کے لئے ٹیوٹا میں پرائیویٹ سیکٹر سے ایک جوان ہمت اور بالغ نظر عرفان قیصر شیخ کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ ٹیوٹا کو طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے متحرک کریں۔ عرفان قیصر شیخ نے چیئر مین کا چارج سنبھالتے ہی وزیر اعلیٰ کے وژن کے مطابق یہاں بڑی تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔

ٹیوٹا نے حال ہی میں سہ ماہی اور شش ماہی کورسزکا اجراء کیا ہے جن کی لوکل اور فارن مارکیٹ میں شدید طلب ہے۔ استاد شاگرد پروگرام کا اجراء بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت کارآمد ہنر مندی کو فروغ دیا جا رہا ہے اس پروگرام کا مقصد ایسے ہنر مندوں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا، انہیں سرٹیفائی کرنا ہے جو مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں ان کے پاس ہنر ہے صلاحیت ہے لیکن ان کے پاس ہنر مندی اور صلاحیت کا سرٹیفیکٹ نہیں ہے اس لئے وہ نہ تو باہر جا کر ملازمت کر سکتے ہیں اورنہ ہی اندرون ملک کہیں بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں (RECOGNITION OF PRIOR LEARNING)یعنی استاد شاگرد پروگرام کے ذریعے ٹیوٹا ایسے ہی ہنر مندوں کو بہتر روزگار حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے اس طرح ٹیوٹا صنعت کے دونوں اطراف میں کام کر رہا ہے مارکیٹ کو درکار ہنر مند بھی تیار کر رہا ہے اور ہنر مندوں کے لئے مارکیٹ بھی بنا رہا ہے۔

ٹیوٹا کے چیئر مین کے بقول " ہم صرف لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کی کاوش نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہنرمندی کے اقتصادی ، معاشی اور غیر اقتصادی فوائد حاصل کر نے کے لئے بھی کاوشیں کر رہے ہیں۔ ہم نے مشرقِ وسطیٰ کی لیبر مارکیٹ میں اپنے ہنر مندوں کو کھپانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹیوٹا سیکریٹریٹ میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا ہے جو بڑے منتظم انداز میں ہنر مندوں کو بیرونِ ممالک بھجوانے کا کام کر رہا ہے۔"

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت فیفا ورلڈکپ کے انعقاد کے لئے قطر کو 14لاکھ ہنر مندوں کی ضرورت ہے۔ انفراسٹرکچر سٹیڈیم ، ریلوے لائنز ، سڑکیں ، ہوٹلز اور اسی طرح کے دیگر پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے جو ہنر مندی درکار ہے ٹیوٹا اپنے بالغ نظر اور متحرک چیئر مین عرفان قیصر شیخ کی قیادت میں اس کی دستیابی کے لئے کوشاں ہے۔ انکی کاوشوں سے تھوڑے ہی عرصے میں ٹیوٹا نے فعالیت کی کئی منازل طے کر لی ہیں اور کئی منصوبے اپنی تکمیل کی منازل طے کر رہے ہیں۔ ٹیوٹا ہنر مندوں کی تیاری اور انہیں روزگار کے حصول میں معاونت کی فراہمی کے ذریعے ایک فعال اور موثر ادارے کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔

ٹیوٹا پنجاب 2 لاکھ ہنر مند سالانہ تیار کر رہا ہے

شارٹ کورسز اور اُستاد ۔شاگرد پروگراموں کے اجراء سے فنی تعلیم کا شعبہ انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنار ہو رہا ہے۔***

مزید :

ایڈیشن 2 -