میاں محمد شہباز شریف :مستقبل کے وزیر اعظم

میاں محمد شہباز شریف :مستقبل کے وزیر اعظم
 میاں محمد شہباز شریف :مستقبل کے وزیر اعظم

  

ہمارے ہاں سیاست میں روایت ہے کہ نئے آنیوالے حکمران، رخصت ہونے والے حکمرانوں کے منصوبوں کو نقشِ کہن سمجھ کر مٹانے اور ان کی تعینات کردہ انتظامیہ کو ناکارہ قرار دے کر ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے قوم و ملک کو کیا نقصان ہو سکتا ہے اسکی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ جن کی ملازمتیں ختم ہوتی ہیں انکے بچوں کی تعلیم و صحت سے تو کیا غرض ہونی ہے آیا ان کو ایک وقت کا کھانا بھی میسر ہوگا یہ سوچ بھی ضمیر پر بوجھ نہیں بنتی۔ جانیوالے حکمرانوں کے نام کی تختیاں اتارنا اولین ترجیح اور اپنے نام کے بینر، فلیکس اور ہورڈنگ لگوانا انا کی تسکین کا باعث ہوتا ہے۔ پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو ترقیاتی، فلاحی اور رفاہی کاموں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اس دور میں عوامی فلاح کے کئی منصوبے شروع ہوکر پایہ تکمیل کو پہنچے۔2008ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں حکومت بنائی۔ میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے جمہوریت پر شب خون کے موقع پر شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے۔ ان کو اپنے شروع کئے گئے منصوبے مکمل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ گورنروں نے ان کے منصوبوں کو نقش کہن کی طرح مٹانے کو جنرل پرویز مشرف کی خوشنودی کا وسیلہ سمجھ لیا۔

2008ء میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے عوامی ترقی و خوشحالی، توانائی بحران پر قابو پانے ، میٹرو، اورنج ٹرین اور تعلیم وصحت سمیت کئی شعبوں میں انگنت منصوبوں کاآغاز کیا، اسکے ساتھ ساتھ گزشتہ حکومت کے منصوبے بھی جاری رکھے۔ 1122 ایمرجنسی سروس اور شاہراہوں پر پولیس پٹرولنگ سسٹم آج بھی جاری و ساری ہے۔ بڑے شہروں میں گریجوایٹ وارڈن ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہیں بھی اپنی انا آڑے نہیں آنے دی۔ فیصلے میرٹ اورقوم اور صوبے کے عوام کے مفاد میں کئے۔ وہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں مگر انکی پورے ملک کے مفاد پر نظر ہے۔گزشتہ برسوں میں جب بھی سیلاب آیا یا بارشوں اور طوفان سے تباہی آئی تو سندھ،بلوچستان اور خیبر پی کے میں پنجاب سے بلاتاخیر امداد وافر مقدار میں روانہ کی گئی۔26 اکتوبر کے زلزلے میں خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے فوری طور پر پنجاب سے متاثرین کیلئے ریلیف کا سامان بھجوا دیا۔ تعلیم کے میدان میں شہباز شریف کی صوبے کیلئے گرانقدر خدمات ہیں۔ دانش سکولوں کا سلسلہ شروع کیا گیا، لاکھوں طلبا کو سکالر شپ اور لیپ ٹاپ دئیے گئے۔ ذہین طلباء کیلئے بیرون ممالک تعلیمی دوروں کا اہتمام کیا۔ ذہین بے وسیلہ طلباء طالبات کیلئے انڈومنٹ فنڈ کا اجرا کیا گیا۔ تعلیم کے حوالے سے سارے اقدامات صرف پنجاب تک ہی محدود نہ رکھے گئے ان سے دوسرے صوبوں کے طلبا و طالبات بھی مستفید ہو رہے ہیں۔میں محمد شہباز شریف کو مستقبل کا وزیر اعظم سمجھتا ہوں۔ان میں بلامبالغہ وزیراعظم پاکستان بننے کی تمام تر صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

شہباز شریف نے پنجاب کو دوسرے صوبوں کیلئے رول ماڈل بنا دیا ہے۔انکی قیادت میں پنجاب واقعی دوسرے صوبوں کیلئے بڑے بھائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ان صوبوں کے عوام پنجاب کی ترقی کو دیکھ کر اس خواہش کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ کاش شہباز شریف انکے صوبے کے وزیراعلیٰ ہوتے۔لاہور اور اسلام آباد راولپنڈی میں میٹروکا اجرا ایک کارنامہ ہے ان شہروں میں مسافر بیس روپے کے ٹکٹ میں شہر کے ایک کونے سے دوسرے تک اے سی بس میں سفر کرتے ہیں۔ میٹرو ملتان اور فیصل آباد میں بھی چلانے کا منصوبہ ہے۔ اورنج ٹرین کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے اور برق رفتاری سے کام جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی پنجاب کو ترقی سے مزین کرنے کی نیت پر دورائے نہیں ہو سکتیں۔ مسلم لیگ ن کی کئی پالیسیوں کوہم بھی ہدف تنقید بناتے ہیں تاہم جن شعبوں میں کارکردگی بہتر ہوئی ہے انکا اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا۔ اکثر 12گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ یہ دورانیہ کئی علاقوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک بھی محیط ہوجاتا۔ ایک بار بجلی گئی تو کوئی پتہ نہ ہوتا کہ کب آئیگی۔ لوڈشیڈنگ واقعی ایک عذاب مگربتدریج اس میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے شہباز شریف کے پنجاب کو خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ بنانے اور عوام کو سہولتیں پہنچانے کیلئے جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جو ایک طائرانہ نظر کی متقاضی ہے۔حکومت کے قومی تعمیر کے اداروں نے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کامنصوبہ شروع کیا یہ نظام تمام اضلاع میں جاری کیا جارہا ہے۔143تحصیلوں میں سنٹر آپریشنل کر دیئے گئے ہیں۔ توانائی بحران پر قابوپانے کیلئے کوئلے سولر ،گیس اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے زیر تکمیل اور کئی مکمل ہوچکے ہیں۔پنجاب ایپریل پارک کا قیام،ای لرننگ پروگرام،قائداعظم سولر پارک کا قیام اور مستحق و غریب خاندانوں کی امداد کیلئے پروگرام اہمیت کے حامل ہیں۔ کڈنی اور لیورٹرانسپلانٹ یونٹ ،صاف پانی پراجیکٹس،ماڈل بازاروں کے قیام ،خدمت کارڈز اور خود روز گار سکیم اورغیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سپیشل اکنامک زونز کے قیام کی افادیت سے بھی صرفِ نظر کیا جاسکتا۔

مزید :

کالم -