پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے ایک ہی موقف کا اظہار کرے ‘غلام نبی نوشہری

پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے ایک ہی موقف کا اظہار کرے ...

  

اسلام آباد(کے پی آئی)جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر شعبہ خارجہ امور کے چیئرمین مولاناغلام نبی نوشہری نے پاکستان اور بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے کر دونوں ممالک پائیدار تعلقات کی بنیاد رکھیں۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو نظر انداز کرکے پاکستان اور بھارت کسی سطح کے مذاکراتی عمل کو کامیابی کے راستے پر نہیں ڈال سکتے ۔ گزشتہ رز اسلام آباد میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے مولانانوشہری نے کہا کہ کشمیریوں کی ہمدردی اور دلچسپی کا مرکز پاکستان ہے۔ اس لیئے کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا بھر پور ترجمان ہے تاہم بدقسمتی سے اب صورتحال کشمیریوں کے مفاد میں نظر نہیں آتی۔ صرف اعلانات اور بیانات سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں ملے گا۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے ایک ہی موقف کا اظہار کرے۔ ماضی میں مختلف فارمولوں اور تجاویز سے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریک کو کمزور کیا گیا ایسی اطلاعات ہیں کہ اب بھی انہی فارمولوں اور تجاویز کی وکالت ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے 4نکاتی فارمولے نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا تھا اب بھی اس فارمولے کے حمایت کرکے تقسیم کرشمیر کی حمایت کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قوام متحدہ کی قراردادوں یا سہہ فریقی مذاکرات سے مسلہ کشمیر کے حل کی ابتداء کی جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ کے سلسلے میں مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن محاصرے اور چھاپے تیز کردیئے گئے ہیں۔ بھارت کو کشمیر میں یوم جمہوریہ کی تقریبات منانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اس لیے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے طول و عرض میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ مولانانوشہری نے باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ انسانوں کو قتل کرنا بدترین فعل ہے ۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ہمدردی کا اظہار کیا ۔جماعت اسلامی کے رہنماء نے مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند قیادت کی مسلسل نظر بندی کی مذمت کی کی اور مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ۔

مزید :

عالمی منظر -