مسلم ممالک کا اتحاد اور مشرق وسطیٰ

مسلم ممالک کا اتحاد اور مشرق وسطیٰ
 مسلم ممالک کا اتحاد اور مشرق وسطیٰ

  

گزشتہ ماہ کے وسط میں اچانک یہ خبر سامنے آئی کہ سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لئے 34ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد تشکیل دیا ہے،جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔پاکستان کی جانب سے اس پر جو فوری رد عمل آیا،اس سے یہی ظاہر ہوا کہ وہ ایسے کسی اتحاد سے لاعلم ہے،بہر حال پاکستان نے جلد ہی اس اتحاد کا حصہ ہونے کا اعلان کردیا۔بعد ازاں پہلے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور پھر سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان السعود کے دورۂ پاکستان اور وزیراعظم نواز شریف،آرمی چیف جنرل راحیل شریف اوردوسرے اعلیٰ حکام سے ان کی ملاقاتوں سے واضح ہوگیا کہ پہلے سے قریبی طور پر منسلک یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہے ہیں۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو پاکستان سخت جواب دے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اتحاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی ختم کرانے کے لئے اسلامی ممالک کو کردار ادا کرنا چاہیے۔آرمی چیف کی جانب سے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان نے 34ملکی اتحاد کے حوالے سے چار شعبوں میں کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔یہ چار شعبے ہیں:انٹیلی جنس شیئرنگ،دہشت گردی کے خلاف تجربات سے آگاہی،دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ضروری تربیت اورہتھیاروں کی فراہمی۔اگر یہ پیش کش قبول کرلی گئی تو اس اتحاد میں پاکستان کی اہمیت وافادیت تمام رکن ممالک سے بڑھ جائے گی۔۔۔یوں تو پاکستان اور سعودی عرب پہلے بھی ایک دوسرے کے خاصے قریب ہیں اوردونوں ملکوں میں ہمیشہ دوستانہ اوربرادرانہ تعلقات رہے ہیں ،جس کی بنیادی وجہ تو سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کا ہونا اور دونوں کے مشترکہ جیو پولیٹیکل مفادات ہیں۔ پاکستانیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد سعودی عرب میں کام کرتی ہے۔علاوہ ازیں سیاسی یا معاشی بحران ہو یا زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفت سے ہونے والی تباہی ،سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی ہر طرح سے مدد کی ہے،چنانچہ سعودی عرب کے لئے کسی بھی مشکل صورت حال میں پاکستان کی جانب سے ضرور مدد کی جانی چاہیے،لیکن آگے بڑھنے سے پہلے چند اہم سوالات کے جواب ضرور تلاش کر لئے جانے چاہئیں۔ان سوالات پر نظر ڈالنے سے پہلے آئیے جائزہ لیں کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال کیا ہے؟جہاں ہمارا قریبی دوست ملک سعودی عرب بھی واقع ہے۔

شام میں پچھلے چار سال سے خانہ جنگی جاری ہے۔صدر بشارالا سد کسی طور پر بھی اپنے عہدے سے ہٹنے کو تیار نہیں۔روس شام کی مدد کر رہا ہے ،جبکہ ایران کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ در پردہ وہ بھی شام میں قائم حکومت کا حامی اورمدد گار ہے۔دوسری جانب سعودی عرب اوریمن کا تنازع ابھی طے نہیں ہوا کہ ایک دو واقعات کی بنا پر سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔پھر داعش نہ صرف مشرق وسطیٰ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، بلکہ اس نے یورپ کے بعد اب افغانستان اور پاکستان میں بھی اپنے پاؤں پھیلانا شروع کردیئے ہیں۔افغانستان میں داعش کی موجودگی مصدقہ تھی،البتہ پاکستان میں اس کے موجود ہونے کے بارے میں ابہام تھا،لیکن یہ ابہام بھی گزشتہ دنوں اس وقت دور ہو گیا جب ملک کے کئی علاقوں سے داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ان دونوں جگہوں سے اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔پچھلے سال نومبر میں پیرس حملوں کے بعد اگرچہ فرانس اور کچھ دوسرے مغربی ممالک مشرق وسطیٰ میں داعش(آئی ایس آئی ایس)کے مقبوضہ علاقوں پر بمباری کررہے ہیں اور اس عمل میں روس بھی ان کے ساتھ ہے،لیکن تاحال اس دہشت گرد تنظیم کا زور توڑا نہیں جا سکا۔

اب سوال یہ ہے کہ ان سارے حالات میں جو اتحاد تشکیل دیا گیا ہے،اس کی اصل ذمہ داری کیا ہوگی؟وہ صرف دہشت گردی کے خلاف کام کرے گا یامشرق وسطیٰ کے جغرافیائی اورسیاسی معاملات پر اثراندا ز ہونے کی کوشش بھی کرے گا؟۔۔۔یہ اتحاد محض مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کام کرے گا اور اس کا خصوصی ہدف صرف آئی ایس آئی ایس ہوگی یا دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی ہو رہی ہو،وہاں یہ اپنی سرگرمی دکھائے گا اوریہ کہ اس کے اخراجات کون پورے کرے گا؟ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اس کا مقصد آگے بڑھ کر دہشت گردی کو مزاحمت پیش کرنا ہوگا یا اس سے تحفظ کے لئے اقدامات؟علاوہ ازیں دو اہم باتیں،جن کا خیال رکھا جانا چاہیے۔پہلی یہ کہ کچھ ممالک اس اتحاد کا حصہ ہیں اورکچھ نہیں۔اس طرح کیا مسلم دنیا دو حصوں میں تقسیم نہیں ہو جائے گی؟اس طرح امت مسلمہ کا اتحاد پارہ پارہ ہونے کا خطرہ تو پیدا نہیں ہو جائے گا؟اورسب سے اہم یہ کہ شام،یمن کے حوالے سے جن مسلم ممالک کی سوچ میں اختلاف پایا جاتا ہے،اس اتحاد کے اس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟چنانچہ ایسا اتحاد ضرور تشکیل دیا جانا چاہیے کہ اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ،لیکن یہ کام اگر متفقہ طور پر ہو اور سبھی مسلم ممالک اس کا حصہ بنیں تو اس سے متعینہ اہداف حاصل کرنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔

مزید :

کالم -