قائد اعظم کا جا نثار ینگ لیڈر ڈاکٹر جمشید ترین

قائد اعظم کا جا نثار ینگ لیڈر ڈاکٹر جمشید ترین
 قائد اعظم کا جا نثار ینگ لیڈر ڈاکٹر جمشید ترین

  

تحریک پاکستان میں ویسے تو لاکھوں افراد نے دامے، درمے سخنے حصہ لیا، لیکن نمائندگی کا حق چند افراد کو ملا، جنہیں تاریخ تحریک پاکستان کے ہیروز کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ جمشید احمد ترین کا شمار بھی ایسے ہی چند ہیروز میں ہوتا ہے ،جنہوں نے سٹوڈنٹ لیڈر کی حیثیت سے قائد اعظمؒ کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور بڑے ہو کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بھی بنے اور فوج میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ تحریک پاکستان کے سینکڑوں کا رکن زندہ ہیں ،لیکن انہیں معاشرے میں وہ عزت اور مقام حاصل نہیں ہے جو انہیں ملنا چاہئے، چنانچہ انہوں نے مجید نظامی سے ملاقات کر کے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی بنیاد رکھی ۔وہ مرتے وقت بھی اس ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین تھے۔

نوجوان رفاقت ریاض کی بھی نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ،خصوصاً پاکستان موومنٹ ورکرز ٹرسٹ کے لئے بہت اہم خدمات ہیں ،لیکن بد قسمتی سے اس کی اعلیٰ کارکردگی ہی اس کی دشمن بن گئی ،جس کی وجہ سے آج کل وہ ملازمت کی تلاش میں ہے۔ رفاقت ریاض، ڈاکٹر جمشید احمد ترین کے ساتھ ورکرز ٹرسٹ میں بطور سیکرٹری کام کرتا رہا ہے۔ ڈیفنس کی جامع مسجد میں رسمِ قل کے بعد اس نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ ڈاکٹر جمشید ترین کی خدمات زریں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ تحریک پاکستان کے ورکرز کو انہوں نے کھوج کھوج کر نکالا، ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، گولڈ میڈل دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے خاندانوں کو احساس دلایا کہ جس شخص کو انہوں نے پرانے سامان کی طرح گھر کے کونے میں جگہ دے رکھی ہے، اس کی اہمیت اس معاشرے میں آج بھی ہے، چنانچہ تحریک پاکستان کے ورکرزکو نہ صرف گولڈ میڈلز دے کر حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں سر چھپانے کے لئے پلاٹس بھی لے کر دیئے گئے۔ورکرز کی اپنی ذاتی جیب سے بھی خدمت کی، ہر کسی سے مسکرا کر ملتے تھے اور ہمیشہ سر اٹھا کر جینے کا درس دیتے تھے۔

پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ نظریہء پاکستان ٹرسٹ میں ان کی کرنل جمشید ترین سے اکثر گپ شپ رہتی تھی۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر جمشید ترین پاکستان اور قائد اعظمؒ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔کسی کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ قائد اعظمؒ یا پاکستان کی شان میں گستاخی کرے یا ان کے خلاف کوئی بات کرے۔ بڑی محبت سے بتاتے تھے کہ پاکستان کتنی قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے اور نظریہء پاکستان میں بچوں کے لئے نظریاتی سمر سکول میں بھی ان کی کاوشوں کا بہت عمل دخل ہے۔ بچوں کو بہت محبت سے پاکستان کی تاریخ بتایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر جمشید ترین کے صاحبزادوں میں سے شوکت ترین نے بینکاری کے شعبے میں عالمی سطح پر بہت نام کمایا ہے اور پاکستان کی حکومت کو ماضی میں معاشی مسائل سے نکالنے کے لئے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں ،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چند سال پہلے ہی عالمی سطح پر دیوالیہ قرار دے دیا جاتا۔

میری ذاتی رائے میں بطور وزیر خزانہ شوکت ترین کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ چاروں صوبوں کی قیادت کو ایک میز پر بٹھا کر مالیاتی امور طے کئے۔ اس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے باقی صوبوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے پنجاب کی طرف سے اربوں روپے کی قربانی بھی دی۔شوکت ترین نے اپنے والد کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اپنے والد کرنل ڈاکٹر جمشید ترین سے متاثر ہوا ہوں، ان کی شخصیت بہت قد آور اور متاثر کن تھی،بقول علامہ اقبال:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

بہت سادہ طبیعت اور انصاف پسند تھے ،اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا رہتے تھے۔ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور بہت بیباک تھے۔ کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے۔ ہمیں بھی انہوں نے راست گوئی اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی تربیت دی۔ سٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر قائد اعظم محمد علی جناح انہیں بہت پسند کرتے تھے اور انہیں مستقبل کا لیڈر قرار دیتے تھے۔ حقیقت میں قائداعظم کو نوجوانوں سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں پاکستان کا مستقبل قرار دیتے تھے۔ زندگی میں نشیب و فراز آتے ہی رہتے ہیں ، لیکن ڈاکٹر جمشید ترین کبھی حالات سے دل برداشتہ نہیں ہوئے تھے۔ انہیں دو مرتبہ قید و بند میں بھی ڈالا گیا۔ پہلی بار 1944ء میں بطور سٹوڈنٹس لیڈر اور دوسری بار 1971ء میں مشرقی پاکستان میں جنگی قیدی بنایا گیا۔ جب میجر نادر پرویز فرار ہوئے چونکہ ڈاکٹر جمشید ترین بھی ان کے ساتھ ہی بند تھے ،لہٰذا دشمنوں نے ان پر بہت سختی کی اور کہا کہ اس کے فرار میں آپ کا ہاتھ ہے تو اس وقت کرنل جمشید ترین نے سینہ تان کر کہا ،اگرچہ میرا اسے فرار کرانے میں کوئی کردار نہیں ہے ،لیکن اگر وہ کہتا تو میں ضرور اس کی مدد کرتا، جس کی وجہ سے میرے والد پر مزید سختیاں کی گئیں۔ جنگی قیدی کی حیثیت میں وہ دن رات تلاوت قرآن پاک میں مصروف رہتے اور بعض اوقات تو دن میں ایک پورا قرآن حکیم پڑھ لیتے۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت میں رکھے ،کیونکہ وہ اللہ کے سپاہی تھے ۔ہمیں اپنے والد کی شخصیت اور کارناموں پر فخر ہے اور یہی ہمارا حقیقی اثاثہ ہے۔

مزید :

کالم -