مقبوضہ کشمیر میں /26برس قبل 21جنوری کو بھارتی فوج نے گاوء کدل پر حملہ کر دیاتھا

مقبوضہ کشمیر میں /26برس قبل 21جنوری کو بھارتی فوج نے گاوء کدل پر حملہ کر دیاتھا

  

سری نگر(کے پی آئی) ۔مقبوضہ کشمیر میں /26برس قبل 21جنوری کو بھارتی فوج نے گاوء کدل میں فائرنگ کرکے 52شہری شہید کر دیے تھے ۔ تفصیلات کے مطابق کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچل دینے کے لئے جنوری 1990میں نئی دہلی نے جگموہن کو ریاست کا گورنر بنا کر بھیجاتھا۔ریاست کی زمام کار سنبھالنے کے چند روز بعد یعنی 21جنوری کو سی آر پی ایف کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کا پہلا بڑا واقعہ پیش آیااور اس سانحہ میں 52شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔وادی میں چلہ کلاں کی یخ بستہ سردی تھی مگر21جنوری کو موسم صاف تھا اورکرفیو کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے۔پائین شہر کے کئی علاقوں میں کرفیو کے باعث صورتحال انتہائی پریشان کن تھی ۔ لگاتار کرفیو کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے تھے اورگھروں میں اشیاخوردو نوش ختم ہو رہا تھا۔لگا تار کرفیو کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی تھی اور کئی علاقوں میں کرفیو کے خلاف احتجاج ہوا ۔اس دوران شہر کے پادشاہی باغ سے لوگوں نے ایک جلوس نکالا۔

یہ جلوس جواہر نگر اور راجباغ سے ہوتے ہوئے گا کدل پہنچ گیااور اس جلوس میں مرد و زن شامل تھے جو آزادی کے حق میں نعرے لگا کر آگے بڑ ھ رہے تھے ۔گا کدل پہنچے پراس پرامن جلوس پر سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکاروں نے بلاجواز اپنے بندوقوں کے دہانے کھول دئے اور گاکدل کومقتل میں تبدیل کیا۔ انجینئر فاروق کیسے بچ گیا؟ گا کدل قتل عام میں معجزاتی طور زندہ بچ جانے والے اور اس سانحہ کے چشم دید گواہ سابق چیف انجینئر فاروق احمد وانی کیلئے یہ سانحہ جیسے کل کی بات ہے جس کو ابھی تک وہ فراموش نہ کرسکے۔فاروق احمد کہتے ہیں مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ کئی علاقوں میں اس وقت پینے کے پانی کی قلت تھی جس کے لئے بطور اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر میں نے پانی کے ٹینکروں کیلئے ضلع مجسٹریٹ سرینگر سے کرفیو پاس اجراکرنے کیلئے ان کی دفتر کی طرف رخ کیا ۔انہوں نے بتایا کہ میں گھر سے ٹینکروں اور ملازمین کیلئے کرفیو پاس لانے کیلئے راجباغ سے نکلا تاہم جہانگیر چوک میں تعینات پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مجھے آگے جانے کی اجازت نہیں دی اور کسی دوسرے راستے سے جانے کیلئے کہا ۔انہوں نے کہا اس کے بعد میں نے لال چوک جنگلات گلی کا راستہ اپنایا تاکہ میں بنڈ پر کشتی میں سوار ہوکر گھر واپس جاں تاہم وہاں بھی سی آر پی ایف نے مجھے آگے جانے کی جازت نہیں دی ۔انہوں نے بتایا پھر میں نے مائسمہ کی راہ لی تاکہ میں مندر باغ اپنے چاچا کے ہاں جا سکوں ۔انہوں نے کہا یہاں سے ایک بڑا جلوس جارہا تھا ،جلوس کے پیچھے خواتین کی ایک بڑی تعداد تھی جو آزادی کے نعرے لگا رہیں تھیں اور میں بھی اسی جلوس کے پیچھے پیچھے جانے لگا ۔وانی نے بتایا جب میں گا کدل پل پر پہنچا تو بسنت باغ بجلی گھرمیں تعینات سی آر پی ایف اہلکاروں نے بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی لوگ گولیاں لگنے کے بعدخون میں لت پت ہوکر گرنے لگے۔انہوں نے بتایا لوگ خود کو بچانے کیلئے پل سے چونٹھ کول میں چلانگ لگانے لگے اور میں نے بھی کوشش کی تاہم مجھے دھکا لگا اور میں پل پر گر پڑا ۔وانی کہتے ہیں فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور لوگ گولیاں لگنے سے خون میں لت پت ہورہے تھے ،یہ دیکھ کر جان بچانے کیلئے میں گا

مزید :

عالمی منظر -