مجاہد کمانڈر کے جنازے کے اجتماع پر بھارتی فورسز کی فائر ایک شہید 40 زخمی

مجاہد کمانڈر کے جنازے کے اجتماع پر بھارتی فورسز کی فائر ایک شہید 40 زخمی

  

سری نگر(کے پی آئی) جنوبی کشمیر میں مجاہد کمانڈر شارق احمد بٹ کے جنازے کے اجتماع پر بھارتی فورسز نے فائرنگ شروع کر دی جس سے ایک شہری شہید ہو گیا40 افراد زخمی ہوگئے۔ پلوامہ واقعے کے خلاف حریت کانفرنس کی اپیل پر جمعرات کو مکمل ہڑتال رہی ۔ ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ ۔ تفصیلات کے مطابق نائن بٹہ پورہ پلوامہ میں فورسز اور مجاہدین میں خونریز تصادم میں حزب المجاہدین کا ایک مجاہد شہید ہوگیا شہید کی نماز جنازہ کے دوران مظاہرین اور فورسز کے مابین جھڑپوں کے دوران فورسز کی ایک گاڑی نذر آتش کی گئی اور فورسز کی فائرنگ سے ایک عام نوجوان بھی جاں بحق ہواجبکہ تین مزید افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ جھڑپوں میں ایک پولیس افسر سمیت کم از کم 40 افراد کو چوٹیں آئیں۔ ان واقعات کے بعد پورے علاقے میں زبردست مظاہرے ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے دونوں کے نمازجنازے میں شرکت کی۔ انتظامیہ نے علاقے کی صوررتحال کے پیش نظر دن بھرریل سروس کو معطل رکھا۔ عسکریت پسند اور عام شہری کی ہلاکت کے نتیجے میں بدھ کو درجنوں دیہات کے علاوہ اونتی پورہ اور ترال میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ اس دوران تمام دکانیں بند جبکہ ٹریفک بھی معطل رہا۔ فورسز نے بٹہ پورہ نائینہ نامی بستی کا محاصرہ کیاتھا اس دوران بھارتی فائرنگ سے شارق احمد بٹ نامی نوجوان مارا گیا نوجوان حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا۔ ذرائع پر یقین کیا جائے تو وہاں 3عسکریت پسند موجود تھے جن میں سے دو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ 20سالہ شارق احمد بٹ ولدعبدالرشید ساکن برا بنڈنہ پلوامہ8ماہ قبل اچانک لاپتہ ہونے کے بعد مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔دوپہر کے قریب مارے گئے عسکریت پسند کی لاش لوگوں نے اپنے قبضے میں لی جس کے بعد وہاں صورتحال بگڑ گئی۔اسے جلوس کی صورت میں برا بنڈنہ لیا گیا جہاں ہزاروں لوگوں نے اسکی نمازہ جنازہ میں شرکت کر کے اسے سپرد خاک کیا گیا۔ فورسز جب تصادم آرائی کی جگہ پر تلاشی کارروائی میں مصروف تھے توچاروں اطراف سے سینکڑوں لوگوں نے ان پرپتھرا کیا اور آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کی۔ اس موقعہ پر صرتحال انتہائی کشیدہ ہوئی اور فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے سینکڑوں آنسو گیس کے گولے داغے جس سے جھڑپوں کا سلسلہ پورے علاقے میں پھیل گیا۔جھڑپیں نائینہ کے علاوہ کئی دوسرے دیہات میں بھی پھیل گئیں۔ اسی بیچ مشتعل نوجوانوں نے فورسز کی ایک رکھشک گاڑی کو گھیرے میں لیا اور اس کو نذر آتش کیا۔ فورسز نے مشتعل مظاہرین کو بھگانے کے لئے ٹیر گیس اور گولیاں چلائیں ۔ جس سے چار نوجوانوں کوگولیاں لگیں۔ اگرچہ انہیں فوری طور پر اونتی پورہ اسپتال لیجایا گیا لیکن ان میں سے ایک زخمی پرویز احمد گورو ولد غلام قادر گورو ساکن گھاٹ نائنہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھاجبکہ باقی تین زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا۔

ان کی شناخت جنید احمد ولد بشیر احمد ساکن چرسو، شبیر احمد بٹ ولد محمد ابراہیم بٹ ساکن ڈوگری پورہ اور فاروق احمد ڈار ساکن ڈوگری پورہ کے طور ہوئی۔ پرویز احمد کی موت کی خبر پھیلتے ہی پورے علاقے میں زبردست احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد مشتعل نو جوانوں کی کئی جگہوں پر فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ جھڑپوں میں ایک پولیس افسر اور درجنوں فورسز اہلکاروں سمیت کم از کم چالیس افراد زخمی ہوئے ۔سہ پہر کو جوں ہی شہری پرویز احمد کی میت اس کے گاں پہنچائی گئی تو ہر سو رونے بلکنے اور چیخوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ہر شخص پرویز کو دیکھنے کے لئے دوڑنے لگا۔ اس دوران مردو زن روتے ہوئے دیکھے گئے۔کچھ وقت کے بعد اس کی میت کو ایک بہت بڑے جلوس کی صورت میں قبرستان لے جایا گیا۔جہاں ظفر اکبر بٹ سمیت کئی حریت لیڈران نے خطاب کیا۔ بنڈنہ میں کچھ ہی لمحوں میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے جن میں مردو خواتین، بچے بوڑھے شامل تھے۔ لوگ آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بلند کررہے تھے۔ بعد میں عسکریت پسند کی میت کوہزاروں لوگوں کی موجودگی میںآبائی قبرستان پہنچایا گیا جہاں نماز جنازکے بعد اسے سپرد خاک کیا گیا۔

مزید :

عالمی منظر -