بزرگ ادیب، پبلشر ملک مقبول احمد کی آج 86 ویں سالگرہ

بزرگ ادیب، پبلشر ملک مقبول احمد کی آج 86 ویں سالگرہ
بزرگ ادیب، پبلشر ملک مقبول احمد کی آج 86 ویں سالگرہ

  

لاہور (ادبی رپورٹر) معروف دانشور، پبلشر، 28 کتابوں کے مصنف ملک مقبول احمد 22 جنوری کو ان کی رہائش گاہ جوہرٹاؤن میں منائی جارہی ہے، ۔ ملک مقبول احمد 22 جنوری 1930ء کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وطن عزیز کے قیام کے بعد مقبول اکیڈمی کا سنگِ بنیاد لاہور میں رکھا 65 سالوں میں 2500 سے زائد معیاری کتب شائع کیں۔ پاکستان سمیت دنیا کی تمام بڑی بڑی لائبریریز میں مقبول اکیڈمی کی کتابیں موجود ہیں۔ ا علامہ عبدالستار عاصم چیئر مین قلم فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام 86 ویں سالگرہ کا کیک عقیدت و اہتمام سے کاٹیں گے۔ سالگرہ کے موقع پر ملک مقبول کے قریبی دوستوں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جبار مرزا، ڈاکٹر اجمل نیازی، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر طارق عزیز، افتخار مجاز، عالمی سیاح مقصود احمد چغتائی، علامہ عبدالستار عاصم، سعد اللہ شاہ، خالد یزدانی، مجیب الرحمن شامی، پروفیسر جمیل آذر، رانا عامر رحمن محمود، ظفر علی راجا، ناصر نقوی، کنول عاصم، خاور نعیم ہاشمی، ریاض صحافی، جمیل اطہر قاضی، صہیب مرغوب، الطاف حسن قریشی، پروفیسر اکرام اللہ عادل، علامہ خورشید کمال کے علاوہ بے شمار عقیدت مندوں نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے

اور صحت کے لئے خصوصی دعا کی ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک مقبول احمد کی 65 سالہ علمی، ادبی اور امن کو بحال رکھنے کی لازوال خدمات پر صدارتی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے۔ درجنوں علمی، ادبی تنظیمیں اعلیٰ، ادبی خدمات پر گولڈ میڈل دے چکی ہیں۔ ملک مقبول کی فیملی کے تمام ممبر ایم بی بی ایس، ڈاکٹر اور ادیب دانشور ہیں۔ ملک مقبول احمد کے پوتے بابر مقبول نے انگلش زبان میں انبیاء کرام ؑ کی ’اسٹوریز‘ نامی کتاب لکھ کر پوری دنیا میں شہرت حاصل کی وہ اس کتاب کے حوالہ سے 2012ء میں شارجہ میں منعقدہ کتاب میلہ میں دنیا کی بہترین کتاب کا بڑا انعام اور ڈائمنڈ کی ٹرافی بھی شارجہ کے سلطان سے لے چکے ہیں۔ اب یہ کتاب دنیا کے ہر ملک میں پڑھی جا رہی ہے۔ یہ پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہے۔ ملک مقبول احمد چیئر مین مقبول اکیڈمی نے اپنی ساری زندگی علم، ادب، دانش، شعور، امن، خدمتِ خلق کیلئے وقف کر رکھی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پوری قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ انسان کو سب سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہیے۔ پھر عملی زندگی کا آغاز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی انکم کا زیادہ حصہ خدمتِ خلق پر صَرف کرنے سے ہی انسان انسانی معراج کو چھو سکتا ہے۔ اسی میں انسانیت کی کامیابی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -