دہشت گردی کے باوجود پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ملک ہے

دہشت گردی کے باوجود پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ملک ہے

  

تجزیہ :: قدرت اللہ چودھری

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس وقت جب وزیراعظم نواز شریف ڈیووس (سوئٹزرلینڈ) میں عالمی اقتصادی فورم میں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے ملک میں سرمایہ کاری کا مقدمہ پیش کرنے والے تھے، پاکستان میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیل دی۔ اب وزیراعظم کے لئے خاصا مشکل تھا کہ وہ اگر یہ بات کرتے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ملک ہے تو سوال اٹھے گا کہ دہشت گردی کی وارداتوں کے ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم نواز شریف نے اس مشکل صورت حال میں ایک متوازن خطاب کے دوران یہ یقین دلانے میں بڑی حدتک کامیابی حاصل کرلی کہ دہشت گردی کی یہ وارداتیں ایسی نہیں ہیں جو سرمایہ کاری کی مجموعی فضا کو متاثر کرتی ہوں، یہ درست ہے کہ ان وارداتوں سے بیرون ملک ایک منفی تاثر ضرور جاتا ہے تاہم دنیا یہ سمجھتی ہے کہ دہشت گرد ایسی وارداتوں کے لئے جو اہداف منتخب کررہے ہیں وہ ایسے مقامات ہیں جہاں عمومی طورپر سیکیورٹی کے انتظامات غیرمعمولی نہیں ہوتے، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر کہیں دہشت گرد کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ پورے ملک کو یرغمال بنانے کی پوزیشن میں ہیں، یونیورسٹی پر حملے میں تمام دہشت گرد ہلاک ہوگئے اس سے پہلے بھی گزشتہ کئی برسوں میں جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں ان میں اگرچہ دہشت گرد ابتدائی چند منٹوں میں کارروائی میں کامیاب ہوگئے تاہم انہیں جلد ہی جواب مل گیا بڈھ بیر میں یہی ہوا، اے پی ایس اور کراچی ائرپورٹ میں بھی تمام دہشت گرد ماردیئے گئے، چارسدہ ، پشاور سے آدھ پون گھنٹے کی مسافت پر ہے اور دہشت گردوں کے مقابلے کے لئے خصوصی دستے پشاور ہی میں متعین ہوتے ہیں جونہی اطلاع ملی یہ دستے بغیر کسی توقف کے جائے واردات کے لئے روانہ ہوگئے، اور جتنا وقت چارسدہ پہنچنے میں لگنا ضروری تھا اس سے بھی کم وقت میں موقع پر پہنچ گئے اور جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کا صفایا کردیا۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کو اندر سے بھی مزاحمت ملی اور اسسٹنٹ پروفیسر نے جان پر کھیل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، حاضرجوابی کے مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے، یونیورسٹی کے باہر عوام الناس بھی مقابلے کے لئے سامنے آگئے یہ ساری صورت حال کسی بھی حساب سے مایوس کن نہیں ہے، وزیراعظم نواز شریف نے ڈیووس میں دہشت گردی اورتوانائی کے بحران کا اکٹھا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت اس پر قابو پانے کے لئے کوشاں ہے جس کے بہتر نتائج نکل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا چارسدہ پر دہشت گردوں کا حملہ آسان ہدف تھا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں اور کامیابیاں حاصل کی ہیں جب وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی ختم ہورہی ہے تو ان کی بات کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس طرح کے حالات آپریشن ضرب عضب سے پہلے درپیش تھے۔ وہ حالات اب بالکل نہیں ہیں، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی تذکرہ کیا اور اسے پورے خطے کے لئے مفید قرار دیا، انہوں نے حکومت کی کامیاب اقتصادی پالیسیوں اور ان سے ملنے والے نتائج کا بھی ذکر کیا۔

عالمی اقتصادی فورم کسی حکومت کا فورم نہیں ہے اور نہ ہی یہ حکومتوں کے زیراثر ہے، حکومتوں کے سربراہ یہاں آتے ہیں اور اقتصادی امور کے حوالے سے ماہرین کے سامنے بات کرتے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاری کی ہرملک کو ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو سہولتیں دی جاتی ہیں، دنیا کے امیر ترین ممالک بھی اپنے ہاں غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں چاہے اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ، پاکستان جیسے ممالک جو گوناں گوں اقتصادی مسائل میں الجھے ہوتے ہیں ان کے لئے تو غیرملکی سرمایہ کاری کسی نعمت سے کم نہیں، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے ملکوں میں بیوروکریٹک سوچ کے شکنجے میں کسی ہوئی پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں آتی یا اتنی نہیں آتی جتنی آنی چاہئے۔ پاکستان میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ناروا پابندیوں کی وجہ سے سرمایہ کار گھبرا کر واپس چلے گئے اس تجزیئے میں ان کا تذکرہ تو ممکن نہیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ اگر غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انوسٹمنٹ فرینڈلی پالیسیاں اختیار کی جائیں تو ہی سرمایہ کاری کی فضا پیدا ہوتی ہے، ورلڈ اکنامک فورم ایک ایسا ہی پلیٹ فارم ہے جو اس مقصد کے لئے انتہائی مفید اور پرکشش ہے، چارسدہ دہشت گردی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب اور ایران کے ہنگامی دورے کے بعد تہران سے ہی ڈیووس روانہ ہوگئے تھے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی انہوں نے چین سے بلالیا تھا جو وہاں ایک بینک کے افتتاح کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے جو اپنی جگہ ایک تاریخی واقعہ تھا۔

ادھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں اتحادی افواج (نیٹو فورسز) کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور چارسدہ حملے کے شواہد کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ حملے کے ذمہ داروں تک پہنچنے میں تعاون کا مطالبہ کیاکیونکہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو افغانستان سے کنٹرول کیا گیا،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کارندے نے افغان ٹیلی فون کے ذریعے دہشت گردوں کو ہدایات دیں۔ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ اس معاملے میں بڑی پیش رفت جلد ہوگی، اور افغان اور اتحادی فورسز کے تعاون سے دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے والوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ عالمی اقتصادی فورم میں دنیا کے تین ہزار کے لگ بھگ حکومتی اور غیرحکومتی دماغ ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں، امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے یہاں روسی نائب صدر سے ملاقات کی، اور شام کے بحران پر تبادلہ خیال کیا اس لحاظ سے یہ فورم دنیا بھر میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔

مزید :

تجزیہ -