لاہور کے 60 سے زائد تھانوں میں ٹاؤ ٹ مافیا کا راج

لاہور کے 60 سے زائد تھانوں میں ٹاؤ ٹ مافیا کا راج

  

 لاہور(بلال چودھری) صوبائی دارالحکومت کے 60سے زائد تھانوں میں ٹاؤٹ مافیا کا راج قائم ہو گیا اور یہ افراد پولیس سٹیشنوں میں کئی تھانیداروں سے بھی زیادہ بااثر ہوچکے ہیں جو کہ ایس ایچ اوز کی جگہ تھانہ کا مکمل کنٹرول صاحل کر کے ان کو چلا رہے ہیں جبکہ پولیس حکام نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے ۔ذرائع کے مطابق لاہور کے تھانوں میں 300سے زائد ایسے ٹاؤٹ موجود ہیں جنہیں ایس ایچ او کا کار خاص کہا جاتا ہے، ان کا پولیس کی نوکری سے دور دور تک تعلق نہیں مگر یہ کئی تھانیداروں سے طاقتور ہیں اور اکثر تفتیش اور مقدمات میں ان کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔ تھانہ ہربنس پورہ میں حنیف ،ماجداور عبدالجبار، تھانہ شمالی چھاؤنی میں لیاقت ،عرفان اور جاوید، تھانہ گلبرگ میں تین ٹاؤٹ فہد، شہزاد بٹ اور صداقت، تھانہ مغل پورہ میں منظور احمد، تھانہ شالیمار میں جاوید، قمر اور اویس تھانہ گجر پورہ میں فیاض بھٹی اور بھولا ، تھانہ مزنگ میں اویس، تھانہ اقبال ٹاؤن میں فیصل بٹ، تھانہ جوہر ٹاؤن میں تین کار خاص ہیں جن میں مظہر، ثاقب اور مظفر، تھانہ لاڑی اڈہ میں منیراکلٹی، تھانہ نولکھا میں بلا، تھانہ شاہدرہ میں شکیل، تھانہ شادباغ میں حاجی مقصود اور آصف بٹ، تھانہ شفیق آباد میں حمید بٹ عرف ٹیڈی بٹ ، تھانہ فیصل ٹاؤن میں قمر، تھانہ غالب مارکیٹ میں ارشد، تھانہ شادمان میں ارشد گجر، تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں عرفان سلہری، تھانہ باٹا پور میں بشیر، تھانہ ستوکتلہ میں رشید پراپرٹی ڈیلر اور جاوید بٹ وغیرہشامل ہیں۔ ان ٹاؤٹس کے ذریعے تھانوں میں آنے والوں کے ساتھ مک مکا کیا جاتا ہے، مختلف سب انسپکٹروں کو ان کی بیٹس تک ان ٹاؤٹوں کے کہنے پر ملتی ہیں اور تھانوں کی ماہانہ منتھلی اکٹھی کرنا بھی انہی کا کام ہوتا ہے، بعض ایس ایچ او تو ایسے بھی ہیں جو تعیناتی یا تبادلے کی صورت میں اپنے کار خاص کو ساتھ ہی لے کر آتے ہیں۔ پولیس اہلکار ان ٹاؤٹس اور کار خاص کو سیکنڈ صاحب کہہ کر پکارتے ہیں اورکئی اہلکار اپنی چھٹیاں بھی انہی کے ذریعے منظور کرواتے ہیں جبکہ تھانوں کے اندر لوگوں کے ریمانڈ تک کا کام ان سے لیا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر افراد رہتے بھی تھانوں میں ہیں ۔

مزید :

علاقائی -