افغان ٹی ٹی پی کے حامی ۔پاکستان افغان طالبان کا حامی۔ امن کیسے؟

افغان ٹی ٹی پی کے حامی ۔پاکستان افغان طالبان کا حامی۔ امن کیسے؟
 افغان ٹی ٹی پی کے حامی ۔پاکستان افغان طالبان کا حامی۔ امن کیسے؟

  

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی عجیب ہیں۔ قیام پاکستان پر بھی افغانستان میں برسر اقتدار بادشاہ نے پاکستان کو قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن پھربھی جب روس نے افغانستان پر چڑھائی کی۔ تو روس کو روکنے اور امریکی مفادات کی تکمیل کے لئے پاکستان افغانستان کی جنگ میں کود گیا۔ افغان پناہ گزینوں کو پناہ دی۔ مجاہدین کو ٹریننگ دی۔ فوجی دانشوروں نے بڑا فلسفہ پیش کیا کہ افغانستان کو پاکستان کی strategic depth قرار دیا۔ اس لڑائی کے ثمرات بیان کئے گئے۔ لیکن پھر بھی نیک نامی پاکستان کے حصہ میں نہ آئی۔حتیٰ کہ مجاہدین بھی پاکستان سے ناراض ہو گئے۔ درمیانی مدت کے لئے افغانستان مین طالبان کی حکومت قائم ہوئی توپاک افغان تعلقات کچھ بہتر ہوئے۔ پاکستان اور دو دوسرے ملکوں کے علاوہ کسی نے طالبان کی حکومت کو قبول نہیں کیا۔ دنیانے طالبان کو قبول نہیں کیا۔ ان کی پا لیسیوں پر تنقید ہوئی۔ لیکن وہ ہمیں قبول تھے۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کر دی تو ہم امریکہ کے ساتھ اس چڑھائی میں شامل ہو گئے۔ اس چڑھائی کے نتیجے میں ہماری حما یت یافتہ طالبان حکومت ختم ہو گئی۔ اور امریکہ افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت لے آیا۔ یہ نئی حکومت بھی ماضی کی افغان حکومتوں کی طرح پاکستان دوست نہیں تھی۔ اور نہ ہی آج تک ہے۔سابق افغان صدر حامد کرزئی کھلم کھلا بھارت نواز تھے اور پاکستان کے خلاف دشنام طرازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ حامد کرزئی نے ہی بھارت کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کھلی اجازت دی۔ حامد کرزئی کے دور میں ہی بھارت نے افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ اپنے کئی قونصل خانے کھولے جو پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہے ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حامد کرزئی نے خود اور ان کے خاندان نے اپنی تمام جلا وطنی پاکستان میں گزاری۔ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہتے تھے۔ لیکن ان کی پالیسی بھارت نواز تھی۔ اور انہوں نے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

کہا جا تا تھا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر طالبان افغانستان میں اپنا اقتدار قائم نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن آج وہی طالبان پاکستان کے خلاف ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ ٹی ٹی پی بھارت کی خفیہ ایجنسی راء کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔اور پاکستان میں دہشت گردی کی ہر کارروائی کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت عدم اعتماد کی فضا ہے۔ جب افغانستان میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو تا ہے تو وہ اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیتا ہے۔ کیونکہ یہ مانا جا تا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ لہذا افغان طالبان کی افغانستان میں ہر کارروائی کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم پاکستانی طالبان کی ہر کارروائی کا ملبہ افغانستان پر ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے کے طالبان کی حمایت کر کے ایک دوسرے کے خلاف پراکسی لڑائی شروع کی ہوئی ہے۔ جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہیں ۔ بلکہ دونوں طرف دہشت گردی کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔

چارسدہ یونیورسٹی کے واقعہ کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی۔ چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ اور امریکی فوجی سربراہ کو فون کئے ہیں۔ کہ با چا خان یونیورسٹی کے واقعہ میں افغان سر زمین استعمال ہوئی ہے۔ دہشت گردوں کو افغانستان سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ لیکن یہ کوئی پہلا دفعہ نہیں ہوا۔ آرمی پبلک سکول کے واقعہ کے بعد بھی یہی داستان سامنے آئی تھی۔ آرمی پبلک سکول کے واقعہ کے بعد تو جنر ل راحیل شریف خود افغانستان گئے تھے۔ ان کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی بھی گئے تھے۔ تب بڑی امید تھی کہ افغانستان میں پاکستانی طالبان نیٹ ورک کے خلاف آپریشن ہو گا۔ ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ تو اس لئے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ اس بار جنرل راحیل شریف کے فون پر افغان حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی لا سکیں گے۔

یہ خبر بھی کوئی نئی نہیں کہ با چا خان یونیورسٹی واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو افغان انٹیلی جنس کے افسران کی حمایت حاصل تھی۔ جب افغان صدر اشرف غنی پاکستان آئے تو افغان انٹیلی جنس چیف نے افغان صد ر کے دورہ پاکستان پر احتجاجا استعفیٰ دے دیا تھا۔ یہ کہا جا تا ہے کہ انہیں چیف ایگز یکٹو عبداللہ عبد اللہ کی حمایت حاصل ہے۔

جو لوگ آج کے افغانستان کو جانتے ہیں کہ بھارتی لابی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را نے افغان انٹیلی جنس کو پاکستان کے خلاف تیار کر لیا ہوا ہے۔ وہاں تمام پاکستان مخالف لوگ بھرتی کر لئے گئے ہیں۔ جو ہر وقت پاکستان کے خلاف کام کرتے ہیں۔ جس نے را کو بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب پاکستان ہر وقت افغان طالبان کا مقدمہ لڑتا رہے گا تو افغانستان میں پاکستان مخالفین کو ٹی ٹی پی کا مقدمہ لڑنے کا جواز ملتا رہے گا۔

بلا شبہ پاک فوج کو ضرب عضب میں بہت کامیابیاں ملی ہو نگی۔ دہشت گردوں کا نیٹ ورک ٹوٹ گیا ہو گا۔ دہشت گرد پاکستان سے افغانستان بھاگ گئے ہونگے۔ بڑے بڑے دہشت گرد یا تو گرفتار ہو گئے یا آپریشن میں مارے گئے۔ لیکن یہ سب کامیابیاں ادھوری ہیں۔ جب تک پاکستان اپنے معاملات افغانستان کے ساتھ ٹھیک نہیں کرتا۔ جب دہشت گرد افغانستان بھاگ جاتے ہیں تو انہیں اپنا نیٹ ورک دوبارہ قائم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جبکہ افغان حکومت کو بھی یہی گلہ ہے کہ جو افغان طالبان افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں وہ پاکستان بھاگ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان کے ایک بڑے حصہ پر آج بھی افغان طالبان کی غیر اعلانیہ حکومت ہے، اور انہیں بھاگ کر پاکستان آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن پھر بھی کوئٹہ شوریٰ کاشور مچا یا جا تا ہے۔

بہر حال پاکستان کو اس کے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے والے اداروں کو افغانستان کے ساتھ نئے رولز آف گیم طے کرنا ہو نگے۔ورنہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو مکمل کامیابی نہیں مل سکتی۔ را کی موجودگی میں یہ بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ لیکن شاید اسی لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ با چا خان یونیورسٹی کا سانحہ پٹھانکوٹ پر راکا جواب ہے۔ بہر حال صورتحال دلخراش ہے۔ اور حل سمجھ نہیں آرہا۔

مزید :

کالم -