ایک سال میں دہشتگردی کے 710واقعات ،1350افرادجاں بحق ،1464زخمی ہوئے

ایک سال میں دہشتگردی کے 710واقعات ،1350افرادجاں بحق ،1464زخمی ہوئے

  

لا ہور (ر پو رٹ شعیب بھٹی ) پا کستا ن میں خود کش حملو ں اور د ہشت گردی کے 710واقعا ت میں گزشتہ ایک سال کے دورا ن 1350انسانی جا نیں ضا ئع ہو ئی ،جبکہ 1464افرا د زخمی ہو ئے ۔ دوسر ے صوبو ں کی پنجا ب میں خود کش حملو ں میں اضا فہ د یکھے میں آ یا ہے ۔ قانو ن نا فذ کر نے والے اداروں اور پو لیس نے700کے قر یب د ہشت گرد گرفتا ر کئے جبکہ 2300 سے زائد شدت پسند جوا بی کا رروا ئی میں مارے گئے ۔ تفصیلا ت کے مطابق سانحہ آرمی پبلک سکول پشاورکے بعد آپریشن ضرب عضب میں ملنے والی کامیابیوں اوردہشت گردوں کی بڑے پیمانے پرگرفتاریوں کی وجہ سے ملک میں امن وامان کی مجموعی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ صرف پنجاب میں خودکش حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان میں دہشت گردی اور ریاست مخالف حملوں کی تعداد زیادہ رہی۔رپورٹ کے مطابق2015 میں 710 دہشت گرد حملوں میں1350انسانی جانیں ضائع ہوئی جن میں619 شہری اور348سیکیورٹی اہلکار تھے۔گزشتہ سال دہشت گرد حملوں میں1464 افراد زخمی بھی ہوئے۔2015ء بلوچستان میں سب سے زیادہ 280 دہشت گرد حملوں میں 355 افراد جاں بحق اور335 زخمی ہوئے،۔رپورٹ کے مطابق فاٹا میں170دہشت گر حملوں میں396انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔خیبر پختونخوا میں 139دہشت گرد حملوں میں224 انسانی جانیں قربان ہوئیں۔صوبہ سندھ میں بھی سلامتی کی صورتحال بہتر ہوئی اورگزشتہ سال یہاں89 دہشت گرد حملوں میں240 افراد جاں بحق ہوئے پنجاب میں باقی ملک کی نسبت خودکش حملوں کی تعدادبڑھ گئی ۔وفاقی دارالحکومت میں بھی پچھلے سال دواورگلگت بلتستان میں ایک دہشت گرد حملہ ہوا۔گرچہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جاری قومی ایکشن پلان کے تحت حکومت ہزاروں مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتی رہی ہے لیکن وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق اس سال 700 دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔ سب سے بڑی تعداد خیبر پختونخوا سے یعنی 301 ایک رہی۔ذرا ئع کا کہنا ہے کہ 2015 میں 193 واقعات کے ساتھ خیبر پختونخوا تیسرے نمبر پر رہا جہاں جہاں 73 شدت پسندوں کی جانیں گئیں۔ پنجاب میں 55 جبکہ سندھ میں 36 شدت پسند ہلاک ہوئے۔قبائلی علاقے سرفہرست رہے جہاں 373 مبینہ شدت پسند مارے گئے۔ذرا ئع کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں مجموعی طور پر 2300 سے زائد شدت پسند جو ابی کا رروا ئی میں ؂ مارہ گئے ہیں۔دوسرے نمبر پر بلوچستان رہا جہاں سے 267 گرفتاریاں ہوئیں۔ فاٹا میں ہلاکتیں تو سب سے زیادہ رہیں لیکن گرفتاریاں محض 88 ہی ہوئیں۔پنجاب سے حیران کن طور پر محض 50 دہشت گردوں کی گرفتاری کی معلومات دی گئی ہیں۔ سندھ میں یہ تعداد 52 رہی۔

مزید :

علاقائی -