بدعنوان عناصر سے 265ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے:چیئرمین نیب

بدعنوان عناصر سے 265ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے:چیئرمین نیب

  

اسلام آباد (آئی این پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب نے انسداد بدعنوانی کا موثر قومی لائحہ عمل تیار کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ، اس حکمت عملی پر 2016ء میں بھی عمل جاری رہے گا، نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی 265 ارب روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے۔ وہ جمعرا ت کو نیب راولپنڈی علاقائی بیورو کے دورہ کے دوران نیب افسران سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دورہ کے دوران نیب کے علاقائی بیورو راولپنڈی کی مقداری گریڈنگ سسٹم کے تحت کارکردگی کا جائزہ بھی لیا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن کو پہلی بار نظم و نسق کے تناظر میں ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے، پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے 11ویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے میں کرپشن کے خاتمہ کو شامل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی 265.9772بلین روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے، نیب کو اپنے قیام سے لے کر اب تک 3 لاکھ 209 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 6 ہزار 662 کی انکوائری کی منظوری دی گئی، 3391 کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا اور بدعنوانی کے 2451 ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے کئی اصلاحات کی گئی ہیں، پلڈاٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 42 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ پولیس پر30 فیصد اور سرکاری افسران پر 29 فیصد لوگ اعتماد کرتے ہی۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کرپشن پرسیپشن انڈکس میں پاکستان 175 ویں نمبر سے 126 ویں نمبر پر آ گیا ہے اور پاٖکستان نے یہ پوزیشن نیب کی کوششوں سے حاصل کی ہے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ امور کار کیلئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جس کے تحت کام کو نمٹانے کے لئے اوقات کا تعین کیا گیا ہے۔ مقدمات کی شکایات ار جانچ پڑتال ، انکوائری اور انوسٹی گیشن احتساب عدالت میں بھیجنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دس ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ نیب کی تفتیش کے معیار میں بہتری لانے اور انوسٹی گیشن افسران کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے تحقیقات کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ جس میں ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر اور سینئرلیگل قونصل شامل ہوتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ معیاری گریڈنگ کا جامع نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے یکساں معیار اختیار کیا گیا ہے۔ 80 فیصد نمبر حاصل کرنے پر شاندار/بہترین، 60 فیصد سے 79 فیصد پر بہت اچھا، 40 فیصد سے 49 فیصد پر اچھا اور 40 فیصد ٖسے کم نمبر حاصل ہونا اوسط سے کم کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔چیئرمین انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم نے معیاری گریڈنگ سسٹم کے تحت آپریشنل کارکردگی انڈیکس 65 فیصدکی بنیاد پر نیب راولپنڈی بیورو کی کارکردگی کو بہت اچھا قرار دیا ہے۔

مزید :

علاقائی -