نیشنل ایکشن پلان ،2ہزار سے زائد دہشتگرد ہلاک،1700گرفتار،332مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا

نیشنل ایکشن پلان ،2ہزار سے زائد دہشتگرد ہلاک،1700گرفتار،332مجرموں کو تختہ دار ...

  

لاہور(شہباز اکمل جندران) وزارت قانون ، وزارت دفاع ، وزارت خزانہ اور آئی ٹی کی وزارت نے صوبوں کے ہمراہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد میں بھر پور حصہ لیا۔ وزارت قانون نے ایک سال کے دوران نیپ کے تحت ملک بھر میں مجموعی طورپر 3سو 32مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں بنائیں اشتعال اور نفر ت انگیز تقاریر 2اورلاؤڈ سپیکر کا غلط استعمال کرنے والے۔فورتھ شیڈول میں شامل افراد اور کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی۔9کروڑ 83لاکھ موبائل فون سموں کو بلاک کیا۔وزارت دفاع نے دو ہزار سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔17سو سے زائد گرفتار کیے۔وزارت خزانہ نے سٹیٹ بینک کے ذریعے ہنڈی ، حوالہ اور منی لانڈرنگ کرنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کی نشاندہی کی۔جبکہ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر ہرممکن عمل در آمد کروایا۔معلوم ہواہے کہ 16دسمبر 2014کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد 24دسمبر کو وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان اور فوجی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا۔گزشتہ ایک سال کے دوران وزارت قانون ، وزارت دفاع ، وزارت خزانہ اور آئی ٹی کی وزارت نے صوبوں کے ہمراہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد میں بھر پور حصہ لیا۔وزارت قانون کی کاوشوں سے ملک بھر میں ایک سال کے دوران 3سو 32مجرموں کو سزائے موت دیتے ہوئے پھانسی پر لٹکایا گیا۔11فوجی عدالتیں قائم کرتے ہوئے ایک سو 48کیس ان عدالتوں میں ٹرانسفر کئے گئے۔ملک بھر میں شرانگیز ، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والے دو ہزار3سو37اافراد کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے دو ہزار ایک سو 95افراد کو گرفتار کرکیا۔جبکہ لاؤڈ سپیکر کا غلط استعمال کرنے پر 9ہزار ایک سو 64مقدمات میں 9ہزار 3سو 40افراد کوگرفتار کیا۔اور2ہزار 4سو 52کیسوں میں سپیکراور دیگر آلات ضبط کئے گئے۔وزارت قانون اور پی ٹی اے نے مشترکہ طورپر 9کروڑ 83لاکھ غیر رجسٹرڈ موبائل فون سمیں بلاک کیں۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزارت دفاع نے ایک سال کے عرصے کے دوران 2ہزار ایک سو 59دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔اور ایک ہزار 7سو 24دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔وزارت دفاع ، وزارت قانون ، خفیہ اداروں اور صوبوں نے اس ایک سال کے عرصے میں 8ہزار ایک سو 95افراد کے نام چوتھے شیڈول میں شامل کئے ۔اور ان میں سے 2ہزار 52کو نظر بند کیا۔اور کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی۔آئی ٹی کی وزارت نے 9سو 33یوآر ایل اور 10ویب سائٹوں پر پابندی عائد کی۔وزارت خزانہ نے سٹیٹ بینک کے ذریعے حوالہ اور ہنڈی کے دو سو 14کیسوں میں 3سو 22افراد کو گرفتار کیا۔اور ان سے 35کروڑ روپے کی رقم برآمد کی۔ جبکہ منی لانڈرنگ کے ایک سو 37کیسوں میں اتنے ہی ملزمان کو گرفتار کیا۔ایک سال کے دوران صوبہ پنجاب نے نیپ کے تحت ایک ہزار 3ایک سو 32دہشت گردون کو گرفتار کیا۔ 4سو 5 ملزمان کو فور تھ شیڈول میں رکھا۔اشتعال انگیز تقاریر کرنے پر 78ملزمان کو جبکہ دہشت گردوں کے 6سو 49سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔صوبہ سندھ میں ایک سال کے دوران نیشنل ایکشن پلان کے تحت ٹارگٹ کلنگ میں 53فیصد ، قتل کے واقعات میں 50فیصد ،دہشت گردی میں 80فیصد ، ڈکیتی کے واقعات میں 30فیصداور بھتہ خوری کے واقعات میں 56فیصد کمی ہوئی۔سندھ میں اس ایک سال کے عرصے میں 69ہزار جرائم پیشہ افراد کو گرفتارکیا گیا۔جن میں 11ہزار سے زائد اشتہاری ملزمان ایک سو 24اغوا کار پانچ سو 45بھتہ خور اورایک ہزار 8سو 34قاتل گرفتار کیے۔جبکہ ایک سال کے دوران نیشنل ایکشن پلان کے تحت بلوچستان کی صوبائی حکومت ، وفاقی حکومت اور وزارت دفاع و وزارت قانون کی مشترکہ کاوشوں سے بلوچستان میں متعدد دہشت گردوں اور ملزمان نے ہتھیار ڈالے اور قومی دھارے میں شامل ہوئے۔کے پی کے میں بھی نیشنل ایکشن پلان پر بھر پور طریقے سے عمل در آمد کروایا گیا۔

مزید :

علاقائی -