بھارت پاکستان میں دہشتگردی کیلئے تکفیری گروہوں کو استعمال کر رہا ہے:حافظ سعید

بھارت پاکستان میں دہشتگردی کیلئے تکفیری گروہوں کو استعمال کر رہا ہے:حافظ ...

  

لاہور( نمائندہ خصوصی )امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کی پاکستان کو کھلے عام دھمکیوں کے بعد پہلے پشاور میں چیک پوسٹ اور اس سے اگلے دن ہی چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ سے ساری صورتحال کھل کرواضح ہو چکی ہے۔بھارت پاکستان میں تخریب کاری و دہشت گردی کیلئے تکفیری گروہوں کو استعمال کر رہا ہے ۔ افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے دہشت گردی کے اڈے بن چکے ہیں جہاں دہشت گردوں کو تربیت دیکر خیبر پی کے اور ملک کے دیگر حصوں میں داخل کیا جارہا ہے۔ معصوم طلباء کو نشانہ بنانابدترین دہشت گردی ہے۔ بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کرملک میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والے تکفیری گروہوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔وہ جماعۃالدعوۃکے زیر اہتمام الدعوۃ ماڈل سکول پیپلز کالونی کشمیر روڈ گوجرانوالہ میں ایک تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی سرکارایک طرف پاکستان سے دوستی اور مذاکرات کی باتیں کرتی ہے اور دوسری جانب چارسدہ یونیورسٹی جیسے حملے کروائے جارہے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ازلی دشمن بھارت کی چانکیائی سیاست کے دھوکہ میں نہ آئیں اورہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی کو تمام بین الاقوامی فورمز پر بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ بھارتی وزیر دفاع کی دھمکیوں کا نتیجہ نظر آرہا ہے۔ پشاور آرمی پبلک سکول کی طرح حالیہ حملہ میں بھی بھارت سرکار اور اس کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔حکومت مصلحت پسندی چھوڑ کر انڈیا کی دہشت گردی کو پوری دنیا پر بے نقاب کرے۔انہوں نے کہاکہ امت مسلمہ فتنوں کی زد میں ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور مسلمانوں کی قوت بکھیرنے کی سازشیں ناکام بنانے کیلئے اسلام کی حقانیت کو دنیا پر واضح کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے میڈیا کو بھی مثبت انداز میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پر کشمیر میں بدترین ظلم و ستم ڈھا رہا ہے اور اس خطہ میں مسلمانوں کو قتل و غارت گری میں الجھانے کی کوششوں میں پیش پیش ہے تاکہ مسلمان اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد نہ کر سکیں ۔ ہمیں ان سازشوں کو بخوبی سمجھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسے فساد فی الارض اور دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو کافر اور منافق قرار دے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں یہ چیزیں اب بازیچہ اطفال بن چکی ہیں ۔ کم عمر لوگ مسلمانوں کے قتل کے فتوے دے رہے ہیں اور تنظیمیں بنا کر معاشروں میں فساد پھیلایا جارہا ہے۔ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو قائل کریں اور قرآن و سنت کی دعوت کے ذریعہ ان کے عقائد کی اصلاح کریں۔

مزید :

علاقائی -