سرکاری سکولوں میں ہزاروں طلبہ ڈراپ آؤٹ ،وجوہات سامنے آ گئیں

سرکاری سکولوں میں ہزاروں طلبہ ڈراپ آؤٹ ،وجوہات سامنے آ گئیں

  

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے سرکاری سکولوں میں 60ہزار سے زائد طلباء و طالبات کے ڈراپ آؤٹ ہونے کی بنیادی وجوہات سکولوں کی خطرناک عمارتیں، کمروں اور اساتذہ کی کم تعداد جبکہ بچوں کی زیادہ تعداد اردوسے انگلش میڈیم نصاب کا ایک ہی وقت میں نفاذ اور اساتذہ کی ٹریننگ یا انگلش میڈیم کے نصاب پر عبور نہ ہونا اور بڑھانے میں دشواری جیسے اہم مسائل کا ذکر کیا گیا ہے ۔’’پاکستان‘‘ کو محکمہ تعلیم سے لاہور میں قائم 1253ء سرکاری سکولز چھوڑ کر جانے والے بچوں کی تعداد 60 ہزار کی بجائے 70ہزار سے زائد بتائی گئی ہے کہ جس میں سرکاری سکولوں میں انرولمنٹ نئے داخل ہونے والے بچوں کی شرح انتہائی کم جبکہ سکولوں سے ڈراپ آؤٹ کی شرح دگنی ہے۔ سرکاری سکولوں سے ڈراپ ہونے کی بنیادی وجوہات میں سب سے زیادہ خطرناک عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں لاہور میں 275ایسے سرکاری سکولز ہیں جن کی عمارتیں انتہائی بوسیدہ ہو چکی ہیں اور ان سکولوں کی عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جا چکا ہے اسی طرح 150سے زائد ایسے سکولز ہیں جن سکولوں کی عمارتیں ایک یا دو کمروں پر مشتمل ہیں۔ وہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ ان سکولوں میں دو سے تین ٹیچرز ہیں اور ان میں سے بھی ایک یا دو استاد سکول آتے ہیں اور ایک استاد کو دو سے تین کلاسیں پڑھانا پڑتی ہیں، جس میں شہر کے گرد و نواح اور بالخصوص رورل ایریا میں 50سے 60فیصد ایسی شکایات ہیں ان سکولوں میں گورنمنٹ پرائمری سکول لکھن شریف، گورنمنٹ پرائمری سکول کھیرا، گورنمنٹ پرائمری سکول ڈیال سمیت درجنوں سکولز محض اللہ کے سہارے چل رہے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 60سے زائد مڈل سکولز ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ بچوں کے ڈراپ آؤٹ کی شرح موجودہ ای ڈی او لاہور پرویز اختر خان کی تعیناتی کے بعد بڑھی ہے جبکہ جس میں سرکاری سکولوں میں انتظامی معاملات میں کمزور گرفت نے زور پکڑا ہے ۔ای ڈی او لاہور پرویز اختر خان سمیت ڈی ای اوز کا کہنا ہے کہ سکولوں سے بچوں کے ڈراپ ہونے کی شرح کم ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہر سال انرولمنٹ بڑھ رہی ہے۔ کمزور سکولوں کی حالت زار کی بہتری کیلئے فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں، اس میں سرکاری فنڈز کے ساتھ مختلف این جی اوز کے ذریعے بھی سکولوں کے کمرے اور عمارتوں کی بہتری کا کام شروع ہے۔

مزید :

علاقائی -