باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے شکوک و شبہات نے سر اٹھا لیا

باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے شکوک و شبہات نے سر اٹھا ...

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) با چا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے شکوک و شبہات نے سر اُٹھا لیا ۔ 54سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں چار دہشت گرد وں کی یونیورسٹی آمد اور بڑے پیمانے پر تباہی نے سیکیورٹی کی قلعی کھول دی ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک روز پہلے بھی سیکورٹی اقدامات اور حملے کے حوالے سے اگاہ کیا گیا تھا مگر کسی نے توجہ نہ دی ۔ یونیورسٹی کے بیشتر سیکورٹی اہلکاروں کو رائفل چلانا بھی نہیں آتا اور نہ اُنہوں نے کوئی تربیت حاصل کی ہے ۔ یونیورسٹی کے سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کے پاس دیسی ساختہ کلاشنکوف اور رپیٹر ز کی موجودگی کا انکشاف ۔ تفصیلات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد سرکاری ذرائع نے صرف چار دہشت گردوں کا یونیورسٹی پر حملے کے حوالے سے بیان جاری کیا جبکہ عینی شاہدین کے مطابق دہشت گردوں کی تعداد بیس سے پچیس تک تھی اور وہ عقبی دیوار سے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوکر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے ایڈمنسٹریشن بلاک کی طرف بڑھ گئے اور سیکورٹی گارڈ کو آسانی سے نشانہ بنا کر ہاسٹل کی طرف پیش قدمی کی اور کمروں میں سوئے طلباء کو جگا کر گولیوں کا نشانہ بنایا ۔ واقعہ کے بعد پاک فوج اور پولیس کے کمانڈوز نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اپریشن شروع کرکے چار دہشت گردوں کو پار کردیا جبکہ باقی دہشت گردوں کے حوالے سے ریاستی اداروں نے چھپ سادھ لی جس سے شکوک شبہات نے جنم لیا اور عوام یہ پوچھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ 54سیکورٹی اہلکارچار دہشت گردوں کا کیوں مقابلہ نہ کرسکے اور کس طرح چار دہشت گردیونیورسٹی کے اندر داخل ہوگئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق ایک روز پہلے بھی ڈی ایس پی چارسدہ اور دیگر اداروں نے یونیورسٹی جا کر ذمہ دار لوگوں کو سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ چند دِن پہلے بھی ان کو مراسلہ بھیجا گیا تھا جس سے ایسا لگتا ہے کہ وائس چانسلر اور دیگر ذمہ داران نے انتہائی غفلت اور لاپرواہی کی مثال قائم کرکے معصوم طلباء کی زندگی داؤ پر لگا دی ۔ دوسری طرف ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے سیکورٹی پر مامور بیشتر اہلکار غیر تربیت یافتہ تھے اور ان کو رائفل چلانا بھی نہیں آتا جبکہ یہ بھی شواہد مل رہے ہیں کہ سیکورٹی اہلکاروں کے پاس دیسی ساختہ کلاشنکوف اور رپیٹرز تھے جن کے حوالے سے انکوائری ضروری ہوچکی ہے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -