راہداری منصوبے سے پاک چین تعلقات مستحکم ہونگے،شاہد کریم اللہ

راہداری منصوبے سے پاک چین تعلقات مستحکم ہونگے،شاہد کریم اللہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل سینٹر فا ر میری ٹائم پالیسی ریسرچ بحریہ یونیورسٹی کراچی کیمپس کے زیرِ اہتمام تیسرے نیشنل میری ٹائم سیمینار کا انعقاد جمعرات کو بحریہ یونیورسٹی آڈیٹوریم میں کیا گیا ۔سیمینارکا موضوع چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کے پاکستان کی سمندری حدود پر پڑنے والے اثرات تھا۔ سیمینار کے مہمانِ خصوصی ایڈمرل (ریٹائرڈ)شاہد کریم اﷲ، سابق چیف آف نیول اسٹاف تھے۔ جبکہ وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ)خالد محمد میر نے اعزازی مہمان کے طور پر شرکت فرمائی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ایڈمرل(ریٹائرڈ) شاہد کریم اﷲ نے کہا کہ اقتصادی راہداری پاکستان اور چائنا دونوں کی اسٹریٹیجک منصوبہ بندی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے مراسم پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کواقتصادی فائدہ ہو گا۔ انہوں نے اس موضوع پر شعورپیدا کرنے اور ماہرین کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دینے کے لئے نیشنل سینٹر فا ر میری ٹائم پالیسی ریسرچ کے کردار کو سراہا۔قبل ازیں وائس ایڈمرل خالد محمد میر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقتصادی منتقلی کے عمل سے گذر رہا ہے اور پاکستان کی معاشی خوشحالی و ترقی کے لئے گوادر یقیناًایک قابلِ عمل قدم ہے۔ یہ امر ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کر کے خطے میں معاشی استحکام کا باعث بنے گا جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خصوصا بلوچستان کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی۔سیمینار میں ملک کے مایہ ناز اسکالرز کو مذکورہ موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لئے مدعو کیا گیا ۔ سیمینار کے پہلے سیشن میں گوادر پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) پرویز اصغر نے عالمی میری ٹائم اکانومی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے شئیر کا تذکرہ کیا ۔جبکہ خالد رحمٰن ڈی جی، آئی پی ایس نے پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے سماجی،سیاسی اورسفارتی مضمرات کا جائزہ لیا اور کہا کہ اگرچہ یہ راہداری پاکستان اور چین کا مشترکہ اقدام ہے لیکن اس کے دونوں ممالک کے علاوہ پورے خطے پر بے شمار سماجی،سیاسی اور سفارتی اثرات ہوں گے۔سیمینار کے دوسرے سیشن میں کموڈرو علی عباس نے اس راہداری کودرپیش میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری سے آنے والی معاشی ترقی کے ساتھ کئی ایک روائتی ملٹری اور نان ملٹری میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز بھی سامنے آئیں گے جن سے نبرد آزما ہو کر ہی اس پراجیکٹ کو ایک حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔تقریب کے اختتام پر ریکٹر بحریہ یونیورسٹی وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) تنویر فیض مہمانِ خصوصی اور دیگر مقررین و مدعوین کا شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے پاک چائنا اقتصادی راہداری کے قیام میں پاک بحریہ کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاک بحریہ کی تھرڈ میرین بٹالین کے تقریبا400 جوان گوادر کی بندرگاہ کو ہمہ وقت سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ سیکیورٹی اور باہمی تعاون بڑھانے کے لئے حال ہی میں پاک بحریہ نے دو مزید بٹالین گوادر میں تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔تقریب میں صنعت و تجارت سے وابستہ معززین ،میری ٹائم شعبہ سے وابستہ افراد ، نیول افسران،دانشوروں اور محققین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -