سانحہ چارسدہ، بیرونی ہاتھ خارج از مکان نہ سمجھا جائے،مفتی ابوہریرہ

سانحہ چارسدہ، بیرونی ہاتھ خارج از مکان نہ سمجھا جائے،مفتی ابوہریرہ

  

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں بیرونی ہاتھ کو خارج از مکان نہ سمجھا جائے۔ معصوم طلبہ پر حملہ دہشتگردوں کی سفاکیت کا ثبوت ہے۔ ان کا قلع قمع کرنے کے لیے بھرپورکاروائی کی جانی چاہیے۔ ان خیالات کااظہار مجلس صوت الاسلام پاکستان کے چیئرمین مفتی ابوہریرہ محی الدین نے اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ تنظیم کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں شہید ہونے والوں کے ورثاء سے انتہائی دلی دکھ و رنج کا اظہار رکتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں اور بے گناہ عوام کو نشانہ بنانا سفاکیت کی بدترین مثال ہے۔ مفتی ابوہریرہ محی الدین نے کہا کہ دہشتگردوں کا کوئی دین ومذہب نہیں ہوتا۔ ان کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کو تتربتر کردیا ہے اور اب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تعلیمی اداروں کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے یہ بزدلانہ وار قوم کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بھارتی وزیر کی جانب سے گذشتہ دنوں دی گئی دھمکی کے تناظر میں کہا کہ حملے میں بیرونی ہاتھ خارج ازامکان نہیں ، سیکورٹی اداروں اور حکومت پاکستان کو اس پہلو پر تحقیقات کرنی چاہیے اور یہ تحقیقاتی رپورٹ قوم اور عالمی برادری کے سامنے آنی چاہیے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستان جو کہ پوری دنیا کو محفوظ بنانے کیلئے گذشتہ دو دہائیوں سے قربانیاں دے رہا ہے اس کے خلاف دشمن ملک کس طرح کی خونیں کاروائیاں کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان یا سعودی عرب ایران کے درمیان صلح و صفائی کی کوششیں کرتا ہے تو اس کی تنصیبات اور شہریوں پر حملے شروع ہوجاتے ہیں۔ اب ہمارے ملکی سلامتی کے اداروں کو گھر سے باہر کے دشمن پر بھی کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -