سپریم کورٹ کی پیپلز پارٹی کو سیکٹر جی سکس سے دفتر ختم کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت

سپریم کورٹ کی پیپلز پارٹی کو سیکٹر جی سکس سے دفتر ختم کرنے کیلئے ایک ہفتے کی ...

  

 اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں تجارتی ،کاروباری سرگرمیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پیپلزپارٹی کو سیکٹرجی سکس میں قائم سیاسی دفترختم کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے وفاقی ترقیاتی ادارے( سی ڈی اے) کورہائشی علاقوں میں قائم اسکولوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی اجازت دیدی ہے۔سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ سے حکم امتناع لینے والے اسکولوں کے مقدمات جلد نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سی ڈی اے عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے، جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل عدالت عظمی کے دورکنی بینچ نے مقدمہ کی سماعت کی ۔عدالت کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کے قواعد کے مطابق سفارتخانوں سمیت کسی کو بھی استثنی نہیں۔دوارن سماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے انہوں نے موقف اختیار کیاکہ پیپلزپارٹی کا جی سکس میں سیاسی دفترذوالفقارعلی بھٹو نے قائم کیا، پیپلزپارٹی کا یہ دفتر دہائیوں سے قائم ہے۔جس پر جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ اسکا مطلب سے پیپلزپارٹی دہائیوں سے قانون کی خلاف ورزی کررہی ہے، جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ اگرپیپلز پارٹی کایہ موقف ہے کی دہائیوں سے قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے اب بھی اسکی اجازت دی جائے، یہ کوئی جواز نہیں، جسٹس اعجازافضل کاکہنا تھا کہ قانون پرعملدرآمد سے ہی قانون کی راہ ہموار ہوتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون ساز نہیں قانون کی تشریح کرنا ہمارا کام ہے اگرکسی کو سی ڈی اے کا قانون پسند نہیں تو پسند کی ترمیم کرالے، لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سیاسی دفتر بنانے کیلئے کسی چوبارے پر نہیں جاسکتے،سی ڈی اے نے ہمیں صرف 3دن کا نوٹس دیا، ایسے دھکا نہ دیا جائے،بعد ازاں عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی مزیدسماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ۔سپریم کورٹ نے دفاتر خالی کرانے کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ق کی درخواست بھی خارج کردی۔

سپریم کورٹ

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -