بھا رت اقلیتو ں کے لئے خطر نا ک تر ین ملک بن گیا

بھا رت اقلیتو ں کے لئے خطر نا ک تر ین ملک بن گیا
بھا رت اقلیتو ں کے لئے خطر نا ک تر ین ملک بن گیا

  

نئی دہلی(آن لائن) بھا رت اقلیتو ں کے لئے خطر نا ک تر ین ملک بن گیا ،بھارت میں مسیحیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ 2014 ء کے مقابلے میں گزشتہ برس ملک میں مسیحیوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف آٹھ ہزا رسے زائد حملے ہوئے۔سنگین حملوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا اور کم از کم آٹھ مسیحیوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ عیسائیوں کے علاوہ مسلمان ،سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی بھارتی ہندو انتہا پسندوں کے زیر عتاب ہیں اور آئے روز ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کیتھولک سیکولر فورم (سی ایس ایف) نامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس آزادی کے بعد سے بھارت میں مسیحیوں کے لیے سب سے بدترین سال رہا۔ مسیحیوں اور ان کے اداروں کے خلاف پْرتشدد حملوں کی تعداد میں کافی تیزی آئی اور انہیں مجرمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔سی ایس ایف کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں مسیحیوں پر حملے یا انہیں بری طرح ہراساں کرنے کے آٹھ ہزار واقعات پیش آئے۔ ایسے واقعات کا شکار ہونے والوں میں چار ہزار خواتین اور دو ہزار بچے شامل تھے۔ اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے کی پاداش میں مسیحیوں پر کم از کم 365 سنگین نوعیت کے حملے کیے گئے اوران حملوں میں آٹھ مسیحی مارے گئے جن میں سات پادری شامل تھے۔سی ایس ایف کے جنرل سیکرٹری جوزف ڈیاز کا کہنا ہے کہ 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ برس مسیحیوں کے خلاف حملوں میں کم از کم بیس فیصد کا اضافہ ہوا۔ جبکہ سنگین نوعیت کے حملوں کی تعداد میں تین گنااضافہ ہوا ہے۔ 2014ء4 میں ایسے حملوں کی تعداد 120تھی لیکن گزشتہ برس یہ تعداد بڑھ کر 365 ہوگئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسیحیوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف سب سے زیادہ حملے وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوئے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ اور اترپردیش کا نمبر ہے۔ چھتیس گڑھ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش بھی مسیحیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ حتٰی کہ دارالحکومت نئی دہلی بھی مسیحیوں کے خلاف حملوں کے لحاظ سے دس سر فہرست صوبوں میں شامل ہے، جہاں پانچ گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور مسیحی پادریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جوزف ڈیاز نے بھارت کے مغربی صوبہ مہاراشٹر کو ’ہندوتوا کی راجدھانی‘ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے گجرات ہندوتوا کی راجدھانی تھی لیکن اب یہ مقام مہاراشٹر نے حاصل کرلیا ہے۔ مہاراشٹر کے شہر پونے میں ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سب سے بڑی ریلی ہوئی تھی جس میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرایس ایس کے ایک کارکن نریندر مہاراج کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2015ء4 میں دو ہزار مسیحیوں کو دوبارہ مذہب تبدیل کرا کے ہندو بنایا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسیحیوں پر تشدد اور حملوں کے بہت سے واقعات کا پولیس میں اندراج نہیں ہوتا کیوں کہ متاثرین شکایت درج کرانے سے گھبراتے ہیں۔ اس رپورٹ کو صرف ایسے معاملات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے جو پولیس میں درج کرائے گئے تھے۔ جوزف ڈیاز نے کہا کہ تشدد کے بہت سے بھیانک واقعات کو ہم اس رپورٹ میں شامل نہیں کرسکے کیوں کہ پولیس اور سیاست دانوں نے متاثرین کو حملہ آوروں کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے مجبور کردیا تھا۔رپورٹ تیار کرنے میں مدد کرنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق جج ایم ایف سلدانا نے کہا کہ بھارت میں مسیحیوں کے خلاف ہونے والے پرتشدد جرائم کو بیرونی ملکوں کی حقوق انسانی کی تنظیموں نے بھی نوٹ کیا ہے۔جوزف ڈیازکا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے کارکنوں کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ہیں اور جن علاقوں میں آر ایس ایس کا غلبہ ہے وہاں مسیحیوں کے خلاف تشدد کے واقعات زیادہ پیش آرہے ہیں جب کہ متاثرین کو دھمکی دی جارہی ہے کہ ان معاملات کو پولیس میں درج نہ کرائیں اور نہ ہی میڈیا میں لے کر جائیں۔رپورٹ کے مطابق عیسائیوں کے علاوہ مسلمان ،سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی بھارتی ہندو انتہا پسندوں کے زیر عتاب ہیں اور آئے روز ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم اس تشدد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -