روس کا سب سے خطرناک اقدام، ترکی کی سرحد پر روسی فوجوں نے ایسا کام شروع کردیا کہ بہت بڑے تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا

روس کا سب سے خطرناک اقدام، ترکی کی سرحد پر روسی فوجوں نے ایسا کام شروع کردیا ...
روس کا سب سے خطرناک اقدام، ترکی کی سرحد پر روسی فوجوں نے ایسا کام شروع کردیا کہ بہت بڑے تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا

  

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) روس اور ترکی کے درمیان کشیدگی خطرناک صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ ترکی کی طرف سے روس کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد روس کی طرف سے سخت ردعمل کی دھمکیاں دی گئیں۔ اب یہ انکشافات بھی سامنے آچکے ہیں کہ روس شمالی شام کے علاقے کامیشلی میں اپنی تجربہ کار اور اعلیٰ تربیت یافتہ افواج کو بھیج رہا ہے، اور وہاں موجود شامی ائیرپورٹ کی توسیع کررہا ہے۔ روس کی طرف سے اس انتہائی متنازعہ اقدام کو ترکی کی جنوبی سرحد پر اپنا ایک بڑا فوجی اڈا قائم کرنے کی خطرناک سازش قرار دیا گیا ہے، جسے ترکی میں مسلح کارروائیوں کا مرکز بنایا جائے گا، اور جس کا نتیجہ تباہ کن تصادم کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

ترک اخبار ’حریت ڈیلی نیوز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صحافی فتح کیکرج کا کہنا ہے کہ روس ترکی کی سرحد پر اپنا فوجی اڈہ قائم کرکے کردستان ورکرز پارٹی سے ملحقہ جماعت ڈیموکریٹک یونین پارٹی کو ملٹری اور لاجسٹک مدد فراہم کرے گا، تاکہ یہ گروپ ترکی میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے عدم استحکام پیدا کرسکے۔ شمالی شام میں روس کی موجودگی کا ایک مطلب یہ بھی ہوگا کہ ترکی اس علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرے گا تو اسے روس کے خلاف کارروائی تصور کیا جائے گا۔

مزید جانئے: لندن سے آنے والی پرواز میں بم کی اطلاع، سویڈن میں ہنگامی لینڈنگ

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ استعمار کا کبھی ناتبدیل ہونے والا اصول یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے خوابوں کا استحصال کرکے انہیں ایک بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے۔ روس شمالی شام میں یہی کررہا ہے اور مقامی لوگوں کی امنگوں کا استحصال کرکے وہاں اپنا فوجی اڈہ قائم کررہا ہے جس کا اصل مقصد ترکی کی سالمیت اور بقاءکو خطرے میں ڈالنا ہے۔روس یہی کچھ یوکرین ، جارجیا، کرائمیا اور آرمینیا میں بھی کررہا ہے۔ بحیرہ روم میں اس کا ہدف شام ہے۔

امریکا اس صورتحال میں کیا کرسکتا ہے؟ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ امریکا خود اس خطے میں یہی کچھ کررہا ہے۔ عراق میں امریکا نے کرد پیشمرگہ کی تربیت کرکے اور اپنے فوجی اڈے قائم کرکے یہی حکمت عملی تیار کررکھی ہے۔ ترکی کو اپنے دفاع اور بقاءکی جنگ خود لڑنا ہوگی اور استعماری قوتوں کی چالوں کے سامنے اتحاد اور مضبوطی کا ثبوت دینا ہوگا۔

مزید :

بین الاقوامی -