داعش میں شمولیت کیلئے شام جانے والی پاکستانی خاتون کا اپنے شوہر کو بھیجا جانے والا آڈیو پیغام سامنے آگیا، ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی پریشان ہوجائیں گے

داعش میں شمولیت کیلئے شام جانے والی پاکستانی خاتون کا اپنے شوہر کو بھیجا ...
داعش میں شمولیت کیلئے شام جانے والی پاکستانی خاتون کا اپنے شوہر کو بھیجا جانے والا آڈیو پیغام سامنے آگیا، ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی پریشان ہوجائیں گے

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو داعش سے محفوظ رکھنے کے لئے ریاست اور اس کے ادارے کوشاں ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ افراد ایسے ہیں کہ جو اس تنظیم کے نظریات سے متاثر ہیں، اور ان میں سے کچھ تو داعش میں شمولیت کے لئے شام جانے کا انتہائی قدم بھی اٹھاچکے ہیں۔ ایسے افراد کی ذہنی حالت اور نظریات کیا ہیں، اس کا اندازہ لاہور سے گزشتہ سال اپنے چار بچوں کے ساتھ غائب ہونے والی خاتون کی طرف سے اپنے شوہر کو بھیجے گئے آڈیو پیغام سے لگایا جاسکتا ہے۔ بشریٰ نامی یہ خاتون مبینہ طور پر پاکستان سے اپنے بچوں سمیت فرارہوکر شام پہنچی اور داعش میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔ خاتون نے اپنے شوہر خالد چیمہ کو دو منٹ پر مشتمل آڈیو ٹیپ بھیجی، جس میں اسے بھی شام آنے کی ترغیب دی، جبکہ یہ دعا کرنے کو بھی کہا کہ اس کے بچوں اور بیوی کو جنگ و جدل کی موت نصیب ہو۔

مزید جانئے: برطانیہ میں 10 سالہ مسلمان بچے سے پولیس کی تفتیش، کس معمولی غلطی کی سزا دی گئی؟ جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

جریدے ”نیوز ویک“ کی طرف سے شائع کی جانے والی ٹیپ میں خاتون اپنے شوہر سے کچھ یوں مخاطب ہے: ”رہا میرے نکلنے کا سوال تو یقینا میں چاہتی ہوں کہ مقبول شہادت کی موت مروں، آپ کچھ اور نہیں کرسکتے تو اپنے اور میرے بچوں کے لئے یہ دعا کردیں۔ آپ سے ریکویسٹ ہے کہ اب تک آپ کے میسجز سے، جو کہ ہم نے صرف آپ سے رابطہ کیا تھا، شام کے بارڈر پر بیٹھ کر عبداللہ آپ سے روتا رہا ساری رات، ساری رات وہ بچہ روتا رہا، میں بیہوش ہوگئی لیکن آپ کو کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن آپ صرف اپنی سیلف کے لئے جی رہے ہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ پھنسے ہیں اگر آپ پھنسے ہوتے تو اپنے گھر میں بیٹھے نہ رہتے، ہاسٹپلز میں نہ جارہے ہوتے۔ ہماری اطلاع کے مطابق جس جس کا بھی تعلق کسی تنظیم کے ساتھ تھا، جس کا ذرا سا بھی تعلق تھا وہ گرفتار ہوچکے ہیں، وہ آئی ایس آئی کے قبضے میں ہیں۔ میری انفارمیشن کے مطابق فرحانہ بھی انڈرگراﺅنڈ ہیں اور خنسہ بھی انڈرگراﺅنڈ ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہیں، ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ بہرحال میں بلال کی امی کے گھر ہوں اور ہم الحمداللہ بالکل خیریت سے ہیں۔ میں عائشہ کو خود چھوڑنے جاتی ہوں اور خود لینے جاتی ہوںاور میں نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ میں تصویریں اور ویڈیوز آپ کو بھیجوں گی لیکن آپ مجھے کچھ ٹائم دے دیں، آپ کی بڑی مہربانی۔ میرے پاس انٹرنیٹ موجود نہیں ہوتا۔ان کا بیٹا جس وقت کام سے آتا ہے، ریکویسٹ کے بعد اس کا موبائل اندر آتا ہے، خواتین کے پاس جہاں ہمارے کمرے ہیں۔ میرے پاس اس وقت کوئی گھر نہیں ہے۔ میرے بچے ٹریننگ سے واپس آئیں گے، تو مہاجرین کو گھر الاٹ ہوتے ہیں۔ اس سے زیادہ انفارمیشن میں آپ کو نہیں دے سکتی اور آپ کو یقین نہیں کرواسکتی۔خاتون کی جانب سے اپنے شوہر کو بھیجا گیا آڈیو پیغام یہاں نیچے دیا گیاہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -