زندہ نوجوان کے سینے سے دل غائب کرنے کے الزام میں لوگوں کا 4 جادوگر لڑکیوں پر بدترین تشدد، ایک کا اپنا دل بند کردیا

زندہ نوجوان کے سینے سے دل غائب کرنے کے الزام میں لوگوں کا 4 جادوگر لڑکیوں پر ...
زندہ نوجوان کے سینے سے دل غائب کرنے کے الزام میں لوگوں کا 4 جادوگر لڑکیوں پر بدترین تشدد، ایک کا اپنا دل بند کردیا

  

پورٹ مورسبی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاپوانیوگنی میں شہریوں نے 4جادوگرنیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا،جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی، مگر اس واقعے کا پس منظر جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ ان جادوگرنیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے جادو کے ذریعے ایک شخص کا دل نکال کر کھا لیا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ شہریوں نے ان خواتین کو پکڑ کر تشدد کرنا شروع کیا اور مطالبہ کیا کہ اس شخص کا دل واپس لوٹا دو، پہلے تو وہ انکار کرتی رہیں مگر جب ان میں سے ایک کی ہلاکت ہو گئی تو باقی تینوں نے اس شخص کا دل واپس لوٹا دیا جس سے وہ دوبارہ زندہ ہو گیا۔

مزید جانئے: بھارتی گاﺅں کے درجنوں گھروں میں حکومت نے ٹوائلٹ بنا کر دئیے، اس کے بعد گاﺅں والوں نے ان کا کیا استعمال کیا؟ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ پاپوانیوگنی کے صوبے اینگا کے ایک گاﺅں میں پیش آیااور اس شخص کا نام میکس ہے، جس نے دعوٰی کیا ہے کہ جادوگرنیوں نے اسے ہلاک کیا تھا۔ میکس نے پولیس کو بتایا کہ ”ان خواتین نے جادو کے ذریعے میرا دل نکالا تھا جس سے میری موت واقع ہو گئی۔ میری لاش گھر میں پڑی تھی اور گھر والے ماتم کر رہے تھے کہ اس دوران یہ خواتین بھی وہاں آ گئیں۔ شہریوں نے انہیں پکڑ لیا اور میرا دل واپس کرنے کو کہا۔ ان کے انکار پر شہریوں نے انہیں مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور آگ لگا دی جس سے ایک ہلاک ہو گئی جبکہ باقی نے میرا دل لوٹا دیا جس سے میں دوبارہ زندہ ہو گیا۔“

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق میکس کا کہنا تھا کہ” جس خاتون نے مجھے میرا دل واپس کیا اس نے مجھے آ کر کہا کہ ”بیٹے! مجھ سے تمہارا دل نکالنے کی غلطی ہوئی لیکن مجھے اس کام کے لیے کسی نے بھیجا تھا۔ اب میں تمہارا دل لوٹا رہی ہوں اور اب تم گھر واپس جا سکتے ہو۔“پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کمانڈر نیلی کا کہنا ہے کہ” ابھی تک کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے آیا میکس دوبارہ زندہ ہوا ہے یا وہ مرنے کا محض ڈرامہ کر رہا تھا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -