دنیا کی سب سے زہریلی چیز، ایک ذرا بھی انسانی جسم پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے

دنیا کی سب سے زہریلی چیز، ایک ذرا بھی انسانی جسم پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ جان کر ...
دنیا کی سب سے زہریلی چیز، ایک ذرا بھی انسانی جسم پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں یوں تو کئی خطرناک ترین زہریلے مادے پائے جاتے ہیں مگردنیا کا سب سے خطرناک ترین مادہ ”پلونیئم “ (Polonium) ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پلونیئم کا ایک ذرہ بھی ہائیڈروجن سائیانائیڈ( Hydrogen Cyanide) جیسے خطرناک مادے سے ایک کھرب گنا زیادہ زہریلا ہے۔ پلونیئم اپنے زہریلے پن کے ساتھ ساتھ تابکار مادہ بھی ہے جو خطرناک قسم کی ”الفا“(Alpha)شعاعیں چھوڑتا ہے ۔ یہ شعاعیں ہیلیئم آئنز(Helium Ions) نامی ذرات کی حامل ہوتی ہیں۔ پلونیئم ان کی وجہ سے انسان کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ یہ ذرات آسانی کے ساتھ دیگر مادوں میں جذب ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ کاغذ کی شیٹ میں بھی جذب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید جانئے: سب سے بڑی تباہی بہت قریب آگئی، دنیا کے معروف ترین سائنسدان نے خطرے کی گھنٹی بجادی

یہ الفا ذرات اپنے جذب ہوجانے کی صلاحیت کے باعث تابکاری کی نشاندہی کرنے والے ڈی ٹیکٹرز سے بھی خفیہ رہتے ہیں۔ اس لیے دیگر خطرناک مادوں کی نسبت پلونیئم کا سمگل کیا جانا بھی آسان ہے۔ اگر پلونیئم کے انسان کے جسم کے اندر چلے جانے کا جلدپتا چل جائے تو اس کے جسم سے نکالے جانے کے کچھ امکانات ہوتے ہیں اور انسان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ فوری طور پر معدے کو دھو دیا جائے۔ دیگر زہریلے مادوں کے تریاق کے طور پر استعمال ہونے والے ایجنٹ پلونیئم کو بھی صاف کر سکتے ہیں اور انسانی جسم سے نکال سکتے ہیں لیکن اگر بہت جلدی علاج کر دیا جائے۔ اگر ایک بار پلونیئم انسانی خون میں داخل ہو جائے تو اس سے بچنا ناممکن ہوتا ہے۔ خون میں داخل ہو کر پلونیئم سے تابکاری ہوتی ہے اور انسان کے مختلف اعضاءناکارہ ہو جاتے ہیں جس سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -