ایک جیسی شکل والی 2 اجنبی خواتین، ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو آپس میں کیا رشتہ نکلا؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

ایک جیسی شکل والی 2 اجنبی خواتین، ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو آپس میں کیا رشتہ ...
ایک جیسی شکل والی 2 اجنبی خواتین، ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو آپس میں کیا رشتہ نکلا؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

  

ڈبلن (نیوز ڈیسک) آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ لڑکی نیما گینی دنیا میں اپنی ہمشکل لڑکی ڈھونڈنے نکلی تو ایسے ایسے دلچسپ معاملات پیش آئے کہ سوشل میڈیا پر ایک تہلکہ مچ گیا۔ نیما گینی نے اپنی ہمشکل ڈھونڈنے کے لئے ویب سائٹ ”ٹوین سٹرینجرز“ کی بنیاد رکھی اور جب اس کی ملاقات اپنی پہلی ہمشکل لڑکی کیرن برینی گن سے ہوئی تو وہ حیرت زدہ رہ گئی۔ دونوں نے اکٹھے تصاویر بنائیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔ یہ تصاویر اس قدر حیرت انگیز ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پر ہزاروں بار شیئر کیا جاچکا ہے۔ 

کیرن نیما کی واحد ہمشکل نہیں تھی بلکہ کچھ ہی عرصے بعد اٹلی میں لوئیزا گیزارڈی نامی لڑکی سامنے آگئی جو اس کی دوسری ہمشکل تھی۔ یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ آئرلینڈ میں ہی مقیم ایک اور لڑکی آئرین ایڈمز کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ نیما کے ساتھ حد سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو وہ آپس میں حد سے زیادہ مشابہت دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔ نیما کا کہنا ہے کہ آئرین کی اس کے ساتھ مشابہت صرف شکل تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ان کا بات کرنے کا انداز، ہنسنا، مسکرانا، چلنا اور حتیٰ کہ سوچ اور فکر کا انداز بھی کافی حد تک ملتا جلتا تھا۔ وہ بالکل ایک دوسرے کا عکس نظر آتی تھیں اور بظاہر اس بات میں شک نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ جڑواں بہنیں ہیں۔ یہ تجسس اس قدر گہرا ہوا کہ انہوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا، لیکن جب اس ٹیسٹ کے رزلٹ ٓئے تو انہیں اور زیادہ حیرانی کا سامنا کرنا پڑا۔

نیما اور آئرین ناصرف جڑواں بہنیں نہیں تھیں، بلکہ وہ سوتیلی بہنیں بھی نہیں تھیں، اور تیسرے ڈی این اے ٹیسٹ میں پتہ چلا کہ گزشتہ 20 ہزار سال تک ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہ تھا، یعنی وہ مکمل طور پر اجنبی تھیں اور ناصرف ان کے درمیان، بلکہ ان کے آباؤ اجداد کے درمیان بھی کوئی رشتہ نہ تھا۔

نیما کا کہنا ہے کہ وہ قدرت کے اس کرشمے پر حیران ہیں کہ آپس میں ذرہ برابر رشتہ بھی نہ ہونے کے باوجود وہ 100 فیصد جڑواں بہنیں نظر آتی ہیں۔ نیما کی ویب سائٹ جو کہ انہوں نے اپنی ہمشکل ڈھونڈنے کے لئے بنائی تھی، اب لاکھوں لوگوں میں مقبول ہوچکی ہے اور اس کے ارکان کی تعداد ساڑھے 7 لاکھ سے زیادہ ہے، جو دنیا بھر میں اپنے اپنے ہمشکل ڈھونڈ رہے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -