جناب وزیر اعلیٰ! آپ کے خواب ٹوٹ رہے ہیں

جناب وزیر اعلیٰ! آپ کے خواب ٹوٹ رہے ہیں
جناب وزیر اعلیٰ! آپ کے خواب ٹوٹ رہے ہیں

  



ملتان سے شائع ہونے والے اخبارات دیکھ رہا تھا کہ میری نظر ایک خبر پر پڑی جسے پڑھ کر میرا ماتھا ٹھنکا،یہ کوئی اس نوعیت کی پہلی خبر نہیں تھی بلکہ اس طرح کے پہلے بھی کئی واقعات اخبارات کے صفحات کی زینت بن چکے ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب نے خواب دیکھا تھا کہ میں صوبے کے تھانوں میں پڑھے لکھے افسر بھرتی کروں گا تو تھانہ کلچر تبدیل ہوجائے گا،عوام کو انصاف ملے گا لیکن ان پڑھ افسروں نے شہباز شریف کی آنکھ کھلنے سے پہلے ہی ان کا خواب چکنا چو ر کردیا ،پولیس بیوروکریسی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے پولیس کلچر کی تبدیلی کے اقدامات کو سبوتاژکرنے کی کوششیں زور و شور سے شروع کردی ہیں ،افسر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیلئے جانے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کو پولیس کلچر کی بہتری کیلئے استعمال کرنے کی بجائے غیر اخلاقی رویہ سے بد ظن کرنے میں مصروف ہیں ۔

خبر یہ ہے کہ سی پی او ملتان کی جانب سے چند منٹ کی تاخیر کے جرم میں دو نوجوان تھانیداروں کو ہتھکڑیاں لگوادیں گئیں،صرف بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ ان جوانوں کو پولیس لائن کا طواف بھی کرایا گیا، ایس ایس پی احسن یونس نوجوان تھانیداروں کو ہتھکڑیاں لگوانے کے بعد تحکمانہ انداز میںدھمکیاں لگاتے رہے یہ سب کرنے کے بعد موصوف نے دونوں سب انسپکٹروں زوہیب اشفاق اور مہتاب حسین کوایس ایچ او چہلیک بشیر ہراج کو طلب کر کے حوالت میں بند کرنے کا حکم جاری کیا،دونوں جوانوں کو خوب تضحیک کرنے کے بعد گھر بجھوا دیا گیا جس سے دلبرداشتہ ہوکرسب انسپکٹر زوہیب اشفاق نے اپنے گھر میں موجود لائسنسی پستول سے خود کشی کی کوشش کی ہے۔

بیوروکریسی منہ زور،پولیس کلچر تبدیلی خواب،افسر تعلیم یافتہ ،تھانیداروں کی حوصلہ شکنی کرنے لگے

اسی طرح میڈیا پرپاکستانیوں کو غیرمعیاری اور غلاظت سے بھرپور کھانے کھلانے والوں کو نکیل ڈالنے والی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سابق ڈائریکٹر عائشہ ممتاز کے حوالے سے خبر زیر گردش ہے کہ ان کیخلاف کرپشن کے الزامات پر تفتیش کا امکان ہے جبکہ ان کے ڈرائیور کیخلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور یہ انکوائری موجودہ عہدیدارکی درخواست پر کی جارہی ہے، ان کے خلاف تحقیقات کی وجہ نورالامین مینگل اور عائشہ ممتاز کے درمیان ایک فیکٹری کو سیل کرنے کے معاملے پر اختلافات ہیں۔

عہدے سے ہٹا کر بھی تسلی نہ ہوئی ، اب عائشہ ممتاز کیخلاف حکومت پنجاب نے سخت ترین قدم اٹھا لیا

ادارے ایسے ہی تباہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کو تباہ کیا جاتا ہے،جب اختیارات میں بلا وجہ مداخلت کی جاتی ہے تو مسائل جنم لیتے ہیں،جب ماتحت عملے کورعب جمانے کیلئے بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے تو دفاتر قبرستان بن جاتے ہیں،ادارے ویران ہوجاتے ہیں،ایک سمجھ دار افسر کبھی بھی ماتحت عملے کو تنگ نہیں کرتا بلکہ اس کی جاہلیت یا نسلی فطرت اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسی حرکتیں کرکے اپنی ”فرسٹریشن“دور کرنے کی کوشش کرتا ہے یا پھر ایسا اس لیے کرتا کہ کوئی اس کی قابلیت پر سوال نہ اٹھا سکے۔

نااہل افسروں کی بات چل نکلی ہے تو مجھے ایک اپنے افسر یاد آگئے ہیں جوہمارے دفتر میںایک” نام“ کے افسر تھے جو آفس بوائے سے ترقی کرتے کرتے شفٹ انچارج بن گئے،وہ جس طرح شفٹ انچارج بنے اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے،وہ ہیں بڑے صحافی لیکن یہ الگ بات ہے کہ اردو کے لفظ تک نہیں لکھنے آتے،ان کی کامیابی کا راز مالکان کو اپنے ماتحت عملے کی شکایتیں کرنا ہے اورمالکان کو راضی کرنے میں آخری تک چلے جاتے ہیں،فرسٹریشن کی انتہا ہے کہ ہروقت منہ سے گالی ہی نکلتی اور غبارے کی طرح ہوا الگ سے بھری رہتی ۔

ویسے تو وزیراعلیٰ شہباز شریف چھوٹے سے چھوٹے معاملے پر نوٹس لیتے ہیں،جہاں کہیں سے کوئی خبر ملتی ہے تو اس پر ایکشن میں آجاتے ہیں،ایک چھوٹی سی نظر کرم ادھر بھی فرمائیں،کالی وردی میں ملبوس”کالی بھیڑوں“کی بھی خبر لیں،نوجوان افسروں کو اعتماد دیں وگرنہ وقت تو بدل جاتا ہے آج کرسی ہے کل شاید نہ ہو،امید ہے یہ وقت آنے ،اپنے خواب ٹوٹنے سے پہلے کچھ بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ