ایک تھا مغل شہنشاہ۔۔۔ اور ایک ہے عمران خان

ایک تھا مغل شہنشاہ۔۔۔ اور ایک ہے عمران خان
 ایک تھا مغل شہنشاہ۔۔۔ اور ایک ہے عمران خان

  



روپ متی اُس کی معشوقہ تھی۔باز بہادر اس پر دل وجان سے فریفتہ تھا۔یہ مالوہ کا حکمران تھااور روپ متی کی محبت میں ریاستی امور اور دشمنوں کی سازشوں سے بے خبر ہو چکا تھا۔اُس وقت برصغیر پاک وہند کے مغل بادشاہ نے اپنے چہیتے اوربااعتمادسپہ سالارادھم خان کی قیادت میں مالوہ پر فوج کشی کا فیصلہ کیا۔باز بہادر کو شکست ہوئی۔خزانے لاؤ لشکر ،ہاتھی ،گھوڑے اورخوبصورت گانے والیاں سب کچھ ادھم خان کے تصرف میں آگیا۔اس نے سارا مال غنیمت اپنے ہاتھ میں رکھا اور صرف چند ہاتھی دربار میں بھجوا دیے۔یہ ادھم خان کی کرپشن کی شروعات تھی۔ریاستی اصولوں کے مطابق مال غنیمت ریاست کا حق تھا اور اسے پوری ایمانداری کے ساتھ بادشاہ تک پہنچانا سپہ سالار کا فرض تھا۔بادشاہ کو جب ادھم خان کی اس بد عنوانی کا علم ہواتو لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے اس نے وزیروں کا اجلاس بلایا۔وزیروں نے کرپشن کے الزامات ثابت کرنے کیلئے کمیشن بنانے کا مشورہ دے دیا۔بادشاہ چونکہ اپنے عدل وانصاف کی بدولت مشہور تھااور کمیشن کی کارروائی کی سست روی سے باخوبی واقف تھا چنانچہ اس نے کمیشن کو مسترد کر دیااورخود مالوہ جا کر معاملے کی تہہ تک جانے کا فیصلہ کیا۔آگرہ سے مالوہ تک پہنچنے کا سفر30دن کا تھا۔مشیروں نے سفر نہ کرنے کامشورہ دیالیکن بادشاہ خودکواس بد عنوانی کا ذمہ دارسمجھتا تھااورضمیر کی آواز پرمعاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔اُس نے پانچ سو گھوڑ سواروں کا لشکر تیار کیااور تیس دنوں کا سفر صرف سات دن میں طے کر کے مالوہ پہنچ گیا۔ادھم خان سے اختیارات واپس لیے اور کرپشن کی تحقیقات شروع کر دیں۔دوران تفتیش ثابت ہوا کہ لوٹا گیا تمام مال غنیمت ادھم خان کے تصرف میں تھا۔چنانچہ بادشاہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ادھم خان بددیانتی اور کرپشن کا مرتکب ہوا ہے ۔باد شاہ نے مال غنیمت قبضے میں لیا،اپنے چہیتے سپہ سالار سے تمام اعزازات اور سہولتیں واپس لیں ،اسے پوری عمر کیلئے نااہل قرار دیا،فوج کی کمان پیر محمد خان کے سپرد کی اور ادھم خان کو عبرت کا نشان بنا کر آگرہ واپس چلا گیا۔

جی ہاں آپ اب تک جان چکے ہوں گے کہ یہ مغل سلطنت کے عظیم بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کی انصاف کی فراہمی کیلئے کی گئی کوششوں کی چھوٹی سی جھلک تھی ۔اب آپ ایک اور کہانی ملاحظہ کیجیے۔اپریل2016میں خیبر پختونخوامیں بینک آف خیبر کے ایم ڈی شمس القیوم نے ملک کے تمام بڑے اخبارات میں اشتہار دیا کہ خیبر پختونخواکا فنانس منسٹرمظفر سعید اور اس کا پرائیویٹ سیکرٹری خلیل الرحمان بینک آف خیبر کے پیسوں کو سرکاری جلسوں کے انعقاد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ یہ بینک میں غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث ہیں اور بورڈ کے فیصلوں پربھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔جیسے ہی کرپشن کی یہ کہانی سامنے آئی تو عمران خان نے مشیروں اور وزیروں کو لائحہ عمل طے کرنے کیلئے بلایا۔یہاں بھی مشیروں نے کرپشن کا فیصلہ کرنے کیلئے کمیشن بنانے کا مشورہ دیا۔خان صاحب نے انصاف کے تمام تقاضوں کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے آزاد عدلیہ کے بجائے قومی وطن پارٹی کے سکندر خان شیر پاؤکی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دے دیااور آپ یہ جان کرحیران ہوں گے کہ قومی وطن پارٹی کے سکندر خان شیر پاؤ کی وجہ شہرت صرف کرپشن کرنا ہے۔ ان پر بدعنوانی اور بددیانتی کے سینکڑوں الزامات ہیں اورانھیں کے پی کے حکومت سے صرف کرپشن کی بنا پر نکال دیا گیا تھا۔ دورانِ تفتیش فنانس منسٹر بدستور اپنے عہدے پر کام کرتا رہااور عمران خان کے انصاف نے اس سے استعفیٰ لینا تک گوارا نہ کیااور جب کرپٹ سربراہ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن نے کرپشن کی تحقیقات کیں تواُسے فنانس منسٹر بھی اپنی طرح بے گناہ،کرپشن سے پاک،ایمانداراوردیانتدارمحسوس ہوا۔ اُس نے کرپٹ فنانس منسٹر کو کلین چٹ دے دی اور تمام الزامات بینک آف خیبر کے ایم ڈی کی جھولی میں ڈال دیے اور یہ جان کر آپ یقیناً صدمے سے گر جائیں گے کہ اُس کمیشن نے ایم ڈی کو بھی بے گناہ قرار دے دیااور دونوں آج تک اپنے عہدوں پر قائم ہیں اوردھڑلے سے سیاست اور نوکری کر رہے ہیں۔یعنی کہ الزام لگانے والا بھی بے گناہ اور جس پر الزام لگایا گیا وہ بھی بے گناہ قرار پایا۔اگر یہ دونوں بے گناہ تھے تو پھر گناہ گار کون تھا؟خان صاحب کسی دن فرصت کے لمحات میں آ پ اس کیس کو سامنے رکھیں اور سوچیں کہ آپ نے اس کیس میں انصاف کی فراہمی کیلئے کیا اقدامات کیے؟کیا باد شاہ اکبر کی طرح آپ نے خود کو اس واقعہ کا ذمہ دار سمجھا؟اورجس طرح بادشاہ اکبر نے انصاف کی فراہمی کیلئے تیس دن کا سفر سات دن میں طے کر کہ اپنے چہیتے سپہ سالار کیخلاف خود تحقیقات کا حصہ بن کر عوام کو اپنے عدل وانصاف کا یقین دلایا؟کیا آپ نے عوام کو انصاف کی فراہمی کا یقین دلانے کیلئے سپریم کورٹ کی آزاد عدلیہ سے اس کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کروائیں؟کیا آپ نے ایک مرتبہ بھی ملزما ن کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کیلئے دباؤ ڈالا؟کیا آپ نے ایک مرتبہ بھی سکندر خان شیر پاؤ جیسے کرپٹ سیاستدان کو انکوائری کمیشن کی سربراہی سونپنے کی مخالفت کی؟مجھے یقین ہے کہ آپ ان سوالوں کے جواب نہیں دے پائیں گے۔خان صاحب آپ اپنے صوبے میں انصاف تو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کو فراہم کرنے کیلئے کوشش نہیں کرنا چاہتے ۔آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کو انصاف پسند اورکامیاب حکمران کے حوالے سے صدیوں یاد رکھے ۔لیکن آپ یہ عزت بغیر کسی کوشش ،قربانی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔خان صاحب خود کو انصاف پسند ثابت کرنے کا پہلا اصول اپنے دوستوں اور قریبی لوگوں کو احتساب کیلئے پیش کرنا ہوتا ہے لیکن آپ ان کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی بجائے خود ان کی ڈھال بن چکے ہیں اورآپ کے ان فیصلوں کی بدولت خیبر پختونخواہ میں کرپشن کم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔5ہزار والا کام 10ہزار روپے میں اور 10لاکھ والا کام 20لاکھ میں ہو رہا ہے۔ خان صاحب آپ کوآج فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ نے اپنے لوگوں کی کرپشن کے احتساب کیخلاف ڈھال بننا ہے یا جلال الدین اکبر کی طرح کرپشن کے خاتمے کیلئے اپنے چہیتے سپہ سالار کوعمر بھر کیلئے نا اہل قرار دے کر عبرت کا نشان بنانا ہے اور اگر آپ نے آج یہ فیصلہ نہ کیا تو دنیا آپ کو ایمان دار ،دیانتدار، منصف اور کامیاب حکمران کی بجائے بدیانت ،کرپٹ اورناکام عمران خان کے نام سے یاد کرے گی اور آنے والی نسلیں آپ کا نام تک بھول جائیں گی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ