کراچی کو بچا لو

کراچی کو بچا لو
کراچی کو بچا لو

  

 سندھ کے وزیراعلٰی مراد علی شاہ کے سامنے بہت سے مسائل ہیں لیکن اگر وہ حقیقت میں کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں وہ تمام مسائل  پر کچھ ہی عرصہ میں بآسانی قابو پا سکتے ہیں۔رینجرزنے انہیں کراچی کا امن واپس کیا ہے لہذااس امن کو سیاست گردی سے بچانا انکی ذمہ داری ہے۔ سندھ گورنمنٹ کے پاس وسائل کے ساتھ حکومتی مشینری، قانون، آئین، نظام اور سسٹم موجود ہے لیکن انکے پاس اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ نیک نیت، سچی لگن، ایمانداری، فرض شناسی  ہے جس کا فقدان پایا جاتا ہے۔ دہشت گردی، کرپشن، لوٹا کھسوٹ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، قتل اقدام قتل، چائنا کٹنگ، سٹریٹ کرائم، سیاسی بھرتیاں، پینے کا پا نی، صفائی و ستھرائی،  ٹرانسپورٹیشن،   وسائل کی تقسیم، یہ وہ بیماریاں ہیں جو کینسر کی طرح کراچی کے معصوم شہریوں کو سالوں سے لاحق ہیں۔

 پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم یہ دو نوں بڑی سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی شکل و صورت میں طویل عرصے سے اقتدار پر قا بض رہی ہیں لیکن دونوں جماعتوں کے اقتدار حکومت میں جرائم کو ختم کرنے کی بجائے خوب بڑھاوا ملا۔ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم دونوں جماعتوں کے کئی اہم رہنما ؤں کے نام ان جرائم میں آئے۔ پیپلزپارٹی کی اعلٰی قیادت سمیت کئی رکن اسمبلی ملک سے فرار بھی رہے ان پر کرپشن کے میگا سیکنڈل کے کیس درج ہیں۔

 پاکستان کا شہر کراچی2 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے یہ پاکستان کی سب سے بڑا تجارتی و اقتصادی حب ہے۔ کراچی آپریشن کے بعد زندگی کی رمق دوبارہ بحال ہو گئی جہاں ماضی میں کراچی کو ایک خوف و دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا، آئے روز دھماکے، دہشت گردی، اغواء، قتل و غارت، لوٹ مار کے جرائم سر عام اور دن دہاڑے رونما ہوتے،جہاں سیاست صرف لاشوں پرہوتی۔ رینجر اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے آگے بڑھ کر اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرکے امن و سکون کو دوبارہ اس شہر کو لوٹایاہے۔ گلیوں، بازاروں، مارکیٹوں میں گہما گہمی اور چہل پہل کا سماں ہے عوام نے رینجر پر بھرپور اعتماد کیا ہے ہر طبقہ فکر میں ان کی عزت بڑھ گئی ہے اس لئے کراچی کے شہری ان کی کاوشوں پر انھیں دل و جان سے سلام پیش کر تے ہیں اور ان کا درینہ مطالبہ ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہنا چاہیے۔کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے خلاف1303 پیپلز امن کمیٹی کے خلاف  1035  اے این پی کے خلاف28  بار  ایکشن لیا گیا۔ آپریشن کے دوران  838  ٹارگٹ کلرز  1236  دہشت گرد گرفتار ہوئے جنہوں نے  7000  ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ 

 امجد صابری کا بہیمانہ قتل،سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کا اغوا، پولیس کے ڈی ایس پی کی ٹارگٹ کلنگ اور اب حال ہی میں حساس ادارے کے دو اہلکار کی شہادت یہ ایسے واقعات ہیں جن نے خوف و دہشت کو دو بارہ جنم دیا ہے۔ اویس شاہ کی بازیابی بھی پاک فوج کی مرہون منت ہے جوخیبر پختو خواہ کے علاقہ ٹانک میں سرچ آپریشن کے نتیجے عمل میں آئی۔ سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال ہماری صوبائی حکومتوں اور بارڈ کنٹرول ایجنسی کے لئے ہے۔ اویس شاہ کراچی سے اغواء ہوئے اور بآسانی خیبر پختونخواہ پہنچ گئے، ا ب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اغواء کارکس طرح120  سے زیادہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیاں اور چیکنگ پوائنٹ کراس کرنے میں کامیاب ہوئے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ماضی میں اس سے ہی ملتا جلتا واقعہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کا ہے جس کو اغواء کار ملتا ن سے افغانستان لے گئے جو بعد میں نیٹو کی کاروائی کے دوران بازیاب ہوئے۔ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اویس شاہ کے اغواء میں طالبان کا گروپ ملوث ہے۔

 کراچی بد امنی کیس کے دوران بہت سے شواہد سے پردہ فاش ہوا، ماضی کے اندر ہر سیاسی پارٹی (پی پی پی، متحدہ، اے این پی) کے ٹارگٹ وینگ موجود رہے ہیں جو ہر سیاسی پارٹی اپنے مخالفین کودبانے کے ساتھ ساتھ شہر کے حالات خراب کرنے اور عام شہریوں کو خوف و ہراس پھیلانے کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔کراچی میں سیاسی پارٹیوں کے شدت پسند وں کے ساتھ دہشت گردی میں مطلوب شمالی وزیرستان سے بھاگے دہشت گرد بھی یہاں رو پوش رہے ہیں جن کی شناخت یقیناً مشکل ہے۔ باہر سے ٹارگٹ کلرز کو پیسے اور ہدایت جاری کرنے والے ہاتھ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی راء کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں جس کے بہت سے کارندے سندھ اور بلوچستان سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنی تحویل میں لئے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی راء نے کراچی کے ساتھ پاکستان کے دیگر شہروں میں دہشت گردی اور حالات کو خراب کرنے کے لئے اب ساؤ تھ افریقہ اور دبئی میں اپنے اڈے قائم کر رکھے جہاں سے وہ اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں اس کے ساتھ عالمی فنڈنگ کی مد میں برطانیہ اور تھائی لینڈ سے دہشت گرد کی پشت پناہی بھی جاری ہے۔ کراچی اور اندورن سندھ میں جرائم پیشہ گروہ اوران کے نیٹ ورک کی سیاسی سرپرستی کا بنیادی سبب کرپشن اور پیسے کے بل بوتے پر ہونے والی تباہ کن سیاست ہے۔ کراچی کے اندر گڈ گروننس کی بجائے مٹھی بھرکر پٹ سیاسی اور شدت پسند گروہوں نے سندھ کے عوام کو جمہوری ثمرات سے دُور رکھا ہوا ہے۔

  2013کے بعد  سے کراچی آپریشن پر رینجر احکام نے رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق اب تک 7900  ملزموں میں سے6360 کوپولیس کے حوالے اور 221 کو کسٹم حکام کے سپرد کیا گیا۔  5518 افراد کو بغیر ایف آئی آرکے کراچی پولیس اور ایف آئی اے نے سیاسی دباؤ پر رہا کر دیا ہے جبکہ  313 افراد کو ضمانت ملی، جب کہ صرف  188  ملزمان کو سزا سنائی گئی۔ اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ کے حکمرانوں کس قدر محب وطن ہیں اور صوبائی گورنمنٹ کس ایجنڈے کے تحت حکومت کر رہی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کس قدر بے بس اور مجبور ہیں اور کیا وجہ ہے کہ رینجر کا آپریشن اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ پار ہا ہے۔رینجر حکام مجرم پکڑ کر قانون کے رکھوالوں کے سپرد کرتے ہیں جبکہ پولیس سیاسی دباؤ اور ذاتی مفادات کے تحت ان کو چھوڑ دیتی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پی پی پی کی قیادت ان تما م سیاسی بہانوں کو چھوڑ دے اور صوبائی حکومت کسی قسم کی حیل و حجت نہ دیکھائے، کراچی کے اندر امن و امان ان کی پہلی ترجیحی ہونی چاہئے اس کے لئے جو بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ان کو فوراً نافذالعمل کیا جائے۔کراچی کوحقیقی معنوں میں امن و سکون کا گہوارہ بنانے کے لئے سندھ حکومت کو مصلحتوں سے بالا تر ہو کر عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی دباؤ سے نکل کر جرائم کے خاتمے کے لئے یکساں کاروائی کرے، مجرم چاہے کوئی بھی ہو،اس کا کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق ہو، جو چاہئے کتنا ہی بااثر اور طاقت ور ہو، اس کو گرفتار کرے کہ عدالت کے کٹہرے میں پیش کر ے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -