لعنت والے اور جمہوریت

لعنت والے اور جمہوریت
 لعنت والے اور جمہوریت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اپوزیشن نے لاہور کی مال روڈ پر جلسہ کیا کیا کہ ہمیں اپنے گاؤں کا رحما بھونکا یاد آگیا ،رحمے کو بھونکا کسی اور نے نہیں ،سب سے پہلے اس کی ماں نے کہنا شروع کیا تھا،پھر سارا گاؤں اسی نام سے پکارنے لگا ،رحمے کی ایک ہی پکی نشانی تھی ،آؤ دیکھتا نہ تاؤ ،جو منہ میں آتا بکے چلے جاتا ،اپنے آپ ،اپنے گھر ، گاؤں اوراپنی ماں کے بارے ایسا اول فول بکتا کہ اس کا منہ سنبھالا نہ جاتا ، ماں اور گاؤں والوں سے مار بھی بہت کھاتا لیکن اپنی زبان پہ قابو نہ رکھ سکتا ،کئی بار ہم نے رحمے بھونکے کو اکیلے میں روتے ، کڑھتے دیکھا اور رونے کی جب بھی وجہ پوچھی تو ایک ہی جواب ملا ۔’’ میری زبان بہت گندی ہے، میَں کیا کروں، کدھر جاؤں، میری زبان بڑی گندی ہے ۔‘‘


خیر چھوڑیے ! رحمے بھونکے کا ذکر بلاوجہ ہی آ گیا ،ہم مال روڈ پر علامہ طاہرالقادری کی قیادت میں اپوزیشن کے جلسے کی بات کرنے جا رہے ہیں جس میں سٹیج بھری ہوئی مگر کرسیاں خالی تھیں،بہت سے لیڈر تھے اور بہت کم عوام ،ایسی عجیب و غریب تقریریں ہوئیں کہ خدا کی پناہ ،عمران خان جب پارلیمنٹ پر لعنتیں ڈال رہے تھے تو ان کی دائیں جانب چند گز کے فاصلے پر پنجاب اسمبلی کی عمارت کے قریب کھڑے ہمارے گاؤں کے چند نوجوان رحمے بھونکے کا ذکر چھیڑے ہوئے تھے جبکہ ہمیں میاں نوازشریف کا عمران خان کے بارے حالیہ بیان رہ رہ کر یاد آرہا تھا کہ یہ صاحب جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں ۔


سچی بات ہے کہ ہم جیسے جمہوریت پسند پارلیمنٹیرین اور پارلیمان کی دل سے عزت کرتے ہیں لیکن پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر جناب خورشید شاہ نے عمران خان اور شیخ رشید کی پارلیمنٹ پر لعنتوں پر ان کے منہ میں خاک ڈالی ہے، وزیرخارجہ خواجہ آصف نے انہیں گرفتار کرکے پارلیمنٹ لانے کا مشورہ دیا ہے جبکہ پوری پارلیمنٹ نے عمران خان اور شیخ رشید کے خلاف قرار داد مذمت منظور کی ہے،اے این پی کے غلام احمد بلور نے یہاں تک کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو گالی دینا ،ریاست کو گالی دینے کے مترادف ہے ،ایسا کرنے والے غداروطن ہیں اور غداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو گالی دینا 20کروڑ عوام کو گالی دینا ہے ،پاکستان کا استحکام ،ترقی اور سربلندی جمہوریت سے وابستہ ہے جبکہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں کو پاکستان میں سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں ،قومی اسمبلی میں جناب عمران خان اور شیخ رشید کو بے شرم ،بے حیاء بے ضمیر تک کہا گیا ہے لیکن ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرین کی دل سے عزت کرتے ہیں، چونکہ عمران خان ابھی تک قومی اسمبلی کے رکن ہیں، اس لئے ان کی عزت سر آنکھوں پر ہے مگر کیا کیا جائے کہ میاں نوازشریف کا بیان پھر سے یاد آرہا ہے کہ یہ صاحب جس تھالی میں کھاتے ہیں، اسی میں چھید کرتے ہیں ۔


اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ عمران خان کو کرکٹ کے بعد سیاست نے عزت بخشی، اگر وہ سیاست میں نہ ہوتے تو دیگر کرکٹرز کی طرح ریٹائرمنٹ اورگمنامی کی زندگی گزار رہے ہوتے، یہ سیاست ہی ہے جس کی بناء پر وہ عوام میں ہیں، پاپولر ہیں اور پارلیمنٹ کی تھالی سے اپنا حصّہ بقدر جُثہ وصول کر رہے ہیں۔ فرض کریں، اگر عمران خان سیاست کرتے ہوئے بار بار اپنے حلقہ سے شکست کھاتے ،پارلیمنٹ کا منہ نہ دیکھتے تو کیا آج ان کی عزت یا وقار برقرار رہتا۔؟

بالکل بھی نہیں ،وہ شکست خوردہ کھلاڑی کی طرح تلملا کر پویلین واپس چلے جاتے اور دوبارہ کبھی سیاست یا پارلیمنٹ کا خیال ذہن میں نہ لاتے، یہ پارلیمنٹ ہی ہے جس نے ان کو اور ان کی تحریک انصاف کو ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ وہ موجودہ پارلیمنٹ میں ساڑھے چار سال سے بیٹھے ہوئے ہیں ،پارلیمنٹ سے تنخواہیں ،مراعات اور آسائشیں لئے جارہے ہیں اور اپنی تنخواہوں ،مراعات اور آسائشوں پر لعنتیں بھی ڈالے جا رہے ہیں ۔


جناب عمران خان کا موقف ہے کہ لعنت بہت چھوٹا لفظ ہے ،وہ پارلیمنٹ پر اس سے زیادہ کچھ ڈالنا چاہتے ہیں ، انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ پارلیمنٹ ان کے خلاف ایک نہیں 100قراردادیں منظور کرے ،پروا نہیں ۔


واہ ! خان صاحب کے کیا کہنے ،انہیں واقعی کسی چیز کی پروا نہیں ،گھروں کی ،عزتوں کی، شادیوں کی ،طلاقوں کی اور بقول مریم نوازشریف باپ بیٹی کے رشتہ سمیت کسی رشتے کی پروا نہیں۔


ہمیں خان صاحب کی لاپروائیوں سے کوئی غرض نہیں ،نہ ہی ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ عمران خان یا شیخ رشید کے لئے کیا سزا تجویز کرتی ہے ،ہمیں دلچسپی ہے تو فقط اس بات سے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف مولانا طاہرالقادری کے جلسہ میں اکٹھی کیا ہوئیں کہ پل دو پل کے ملن کے ساتھ صدیوں کی لڑائی مول لے کر باہر آگئیں ،جلسے سے ذرا پہلے قیاس آرائیاں تھیں کہ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے جیالے جلسے میں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گے اور بار بار لڑائی جھگڑے یا ہلڑ بازی ہوگی مگر سب اس کے برعکس ہوا ،کارکن آپس میں نہیں لڑے البتہ دونوں جماعتوں کے لیڈروں میں گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ،پیپلزپارٹی کی قیادت کبھی بھی عمران خان کی طرف سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے بیان کو معاف نہیں کرے گی اور کسی صورت ان سے ہاتھ نہیں ملائے گی ،دوسری جانب عمران خان بھی اپنا وہی وطیرہ رکھیں گے جو انہوں نے جناب آصف علی زرداری کے خطاب کے دوران رکھا ،یعنی اسٹیج سے غائب رہنے کا وطیرہ۔۔۔ یقیناًیہ خلیج مٹنے والی نہیں ،یہ بیان بازی رکنے والی نہیں ،آصف علی زرداری سے بلاول بھٹو تک اور پیپلزپارٹی کے ایک ایک جیالے کے ذہن تک یہ بات پتھر پر لکیر ہو چکی ہے کہ جناب عمران خان کے دل و دماغ میں پارلیمنٹ سے لے کر سیاست تک کسی بھی چیز کا احترام نہیں جبکہ پی پی پی کا پارلیمنٹ اور جمہوریت کے بغیر چارہ نہیں ۔


آخر میں علامہ طاہرالقادری اور ان کے کارکنوں کے خدشات کا ذکر بہت ضروری ہے ،اندر کی خبر یہ ہے کہ عوامی تحریک کے لیڈر اور کارکن جلسہ کی ناکامی کے بعد پی پی پی ،پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق)کی قیادت سے شدید نالاں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ تینوں جماعتوں نے ان سے دھوکہ کیا ،جتنے جتنے بندے لانے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ایفا ء نہیں ہوا، آئندہ وہ ان جماعتوں پربہت کم انحصار کریں گے کیونکہ یہ صرف اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں ہیں ،ہمارے دکھ بانٹنے سے انہیں کوئی سروکار نہیں ،دوسری جانب پی پی پی کی قیادت بھی اس جلسہ کی حاضری کے بارے مایوسی کا شکار ہے ، پی پی پی کی لیڈرشپ کا خیال تھا کہ عرصہ بعد آصف علی زرداری خطاب کے لئے لاہور کی کسی جلسہ گاہ آرہے ہیں ،اس لئے جیالوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نکلے گا اور پوری جلسہ گاہ پر قبضہ جما لے گا ،مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، لہٰذا پی پی پی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جلد لاہور کے تاریخی موچی دروازہ پر بڑا جلسہ کرکے دکھائے گی اور اس داغ کو دھونے کی کوشش کرے گی جو علامہ طاہرالقادری کے جلسہ میں ان کے ماتھے کی زینت بنا ۔تیسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب شہبازشریف کا ٹھنڈا ٹھار بیان لاہوریوں کے سینوں میں ٹھنڈ ڈال گیا ہے ، خادمِ پنجاب نے بہت چپکے سے لاہوریوں کے دلوں کو چھوا ہے اور نرم دلی سے کہا ہے کہ وہ گالم گلوچ کا جواب عوامی خدمت سے دینگے ۔


واہ ری سیاست۔۔۔ تیری کون سی کل سیدھی۔۔۔ ایک جانب لعنتیں، گالیاں، قراردادیں اور دوسری جانب عوامی خدمت کا جنون۔۔۔ بس ری بس سیاست۔۔۔ ہم جان گئے، تم رہو گی تو جمہوریت رہے گی ،جمہوریت رہے گی تو پارلیمان کا تقدس رہے گا ،پارلیمان کا وقار ہوگا تو عوامی راج ہوگا ۔ ہم جان گئے، مان گئے۔

مزید :

رائے -کالم -