پینے کا ناقص پانی فراہم کرنے والی 24 کمپنیوں کی بندش

پینے کا ناقص پانی فراہم کرنے والی 24 کمپنیوں کی بندش

  

سپریم کورٹ نے صاف پانی کی عدم فراہمی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے پانی فراہم کرنے والی 24 کمپنیوں کو تا حکم ثانی بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے سپریم کورٹ میں 139 ٹیوب ویلوں کے پانی کے نمونوں کی رپورٹ پیش کی۔ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس موقع پر بتایا کہ ناقص پانی فروخت کرنے والی 24 کمپنیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایسی کمپنیوں کو آئندہ احکامات تک بند رکھا جائے۔ صاف پانی کی عدم فراہمی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کر رہا ہے۔ پنجاب کے بیشتر شہروں اور قصبوں میں پینے کے پانی میں کیمیکلز اور دیگر مضر صحت اجزا شامل ہونے کی شکایات گزشتہ تین دہائیوں سے سامنے آ رہی ہیں۔ پنجاب میں لاہور، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں لوگوں کو ٹیوب ویلوں کے ذریعے جو پانی مہیا کیا جا رہا ہے، اس کے بارے میں شہری مسلسل احتجاج کر رہے ہیں کہ یہ پانی پینے کے قابل نہیں، اس میں آرسینک اور دیگر مضر صحت اجزا شامل ہوتے ہیں۔ عام شکایات یہ ہیں کہ پانی میں فضلہ وغیرہ چالیس سے ساٹھ فیصد تک موجود ہوتا ہے۔ زہریلے کیمیکلز کی موجودگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فیکٹریوں کا آلودہ اور انتہائی خطرناک مواد نہروں اور دریاؤں میں مسلسل ڈالا جا رہا ہے۔ عوام کے احتجاج کا متعلقہ حکام نوٹس نہیں لیتے میڈیا کی نشاندہی کے باوجود کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ محض کاغذی کارروائی کر کے چھاپے مارنے، وارننگ دینے یا عارضی طور پر کسی فیکٹری کو سیل کرنے کی رپورٹ محکمانہ ریکارڈ کا حصہ بنائی جاتی ہے۔ ٹیوب ویلوں کے ذریعے جن شہروں میں پانی مہیا کیا جاتا ہے، وہاں آلودہ پانی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زیر زمین پائپ لائنیں پرانی اور زنگ آلود ہو چکی ہیں پانی کے پریشر سے پائپ لائنوں کے جوڑ کھل جاتے ہیں یا پھر پائپ لائنیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں اور سیوریج کا پانی بھی شامل ہو جاتا ہے بعض مقامات پر نصف صدی پہلے پائپ ڈالے گئے تھے۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے سارے شہر میں کھدائی کر کے نئے پائپ ڈالنے کی ضرورت ہے۔شہریوں کو صاف پانی مہیا کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بیسیوں کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں، جن کے بارے میں پچھلے کئی برسوں سے شہری شکایت کر رہے ہیں کہ یہ کمپنیاں بھی مکمل صاف پانی فراہم نہیں کرتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر کمپنیوں کے پاس جدید واٹر فلٹریشن پلانٹس نہیں، چنانچہ کچھ نہ کچھ کیمیکلز کی آمیزش اور آلودگی ان کمپنیوں کے پانی میں موجود ہوتی ہے۔ شہری مہنگے داموں پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں۔ پھر بھی انہیں مکمل صاف پانی نہیں مل رہا۔ کراچی میں بھی پانی کی آلودگی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور وہاں شہری صاف پانی کے لئے ترس رہے ہیں۔ اسی طرح لاہور میں بھی شہری اس سنگین مسئلے کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ جن شہروں میں آلودہ پانی کی شکایت ہے، وہاں لوگ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہسپتالوں اور نجی کلینکس کا رخ کرنے پر مجبور ہیں اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مریضوں کی بہت زیادہ تعداد ہسپتالوں میں دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں بہت کم ہیں۔ جو مریض داخل ہوتے ہیں ان کے حوالے سے یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ وارڈوں میں صحت اور صفائی کی صورت حال بے حد ابتر ہے۔ مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال کرنے والے رشتہ دار بھی مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایمر جنسی کے بعد وارڈز میں شفٹ ہونے والے مریضوں اور لواحقین کو ڈاکٹر بھی گھر جا کر ادویات استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بہت بڑا

مزید :

رائے -اداریہ -