چاچا رفیق کے تبصرے

چاچا رفیق کے تبصرے
 چاچا رفیق کے تبصرے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چاچا رفیق آج اپنے ڈیرے پر کچھ دیر سے آیا، منہ لٹکا ہوا، چہرے پر افسردگی اور ملال کے اثرات تھے۔ سلام کر کے چپکے سے چارپائی پر بیٹھ گیا۔ ایک شخص نے پوچھا چاچا خیر ہے، آج چپ کیوں ہو؟۔ چاچا بولا۔ آج مَیں نے بڑی بری خبر سنی ہے، اس لیے افسردہ ہوں۔

سنا ہے کہ قصور شہر میں ایک بہت بُرا واقعہ ہوا ہے۔ چاچے نے اخبار پڑھاکو کی طرف بڑھا دیا اور بولا ذرا تفصیل سے پڑھو تاکہ سارے معاملے کا پتہ چلے۔ پڑھاکو نے کہا: تین چار دن پہلے کی بات ہے۔ ایک معصوم سی بچی سکول میں پڑھتی تھی۔

اسے راستے میں کسی بدفطرت آدمی نے پکڑا اور کھیتوں میں لے گیا۔ وہاں جا کر اس سے بداخلاقی کی اور گلا دبا کر اس کو مار دیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی۔ چاچا بولا: اسے ذرا خیال نہ آیا کہ وہ اس معصوم بچی کی جان کیوں لے رہا ہے؟

اگر اللہ کا خوف ہو اور آخرت کا ڈر ہو تو کوئی ایسا کام نہیں کرتا۔ ہمارے دلوں سے اللہ کا ڈر خوف بالکل ہی ختم ہو گیا ہے۔۔۔ چاچا جی قصور کے لوگوں نے اس واقعے پر ہڑتال کر رکھی ہے اور احتجاج کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملزم کو جلدی پکڑنا چاہیے اور سر عام پھانسی دینی چاہیے۔ چاچا بولا:اس ہڑتال اور احتجاج کا کچھ فائدہ نہیں۔ ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ مَیں آپ کو سچی بات بتاتا ہوں۔

یہ ستر کی دہائی کا واقعہ ہے، ملک میں تازہ تازہ مارشل لاء لگا تھا۔ چند روز قبل ایک جیالے نے ایسی ہی حرکت کی تھی۔ اس وقت کے صدر نے حکم دیا کہ ایسے جیالے کو فوراً گرفتار کیا جائے۔

پولیس کو پتا تھا اگر فوجی حکومت کا حکم نہ مانا تو ہماری شامت آ جائے گی، چنانچہ وہ جیالا گرفتار ہوا، اس پر مقدمہ چلا، جرم ثابت ہو گیا، پھانسی کا حکم ہوا۔ ایک میدان میں پھانسی گھاٹ لگا۔ بڑی دنیا دیکھنے آئی اور مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔

یہ مارشل لاء جنرل ضیاء الحق نے لگایا تھا۔اس کے بعد پھر جتنا عرصہ مارشل لاء لگا رہا، کسی کو آئندہ ایسا کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ گیارہ سال بڑا امن رہا۔ جب مارشل لاء اٹھ گیا، ضیاء الحق ہوائی حادثے میں شہید ہو گئے تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مارشل لاء میں ہمارے جیالوں کو کوڑے مارے گئے، پھانسیاں دی گئیں۔

ہمارے لوگ بھی تو عجیب ہیں جو ایسی حرکت کرتا ہے، اسے تو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے۔ اب خود ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس جمہوریت سے تو فوجی حکومت ہی اچھی، جس میں ملزم گرفتار بھی ہو، اس کو سزا بھی ملے اور ملک میں امن بھی قائم ہو۔جب فوجی حکمران ایسے لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں تو پھر لوگ شور مچاتے ہیں کہ جیالوں کو کوڑے مارے گئے، پھانسیاں دی گئیں، یہ آمریت ہے۔ کارکنوں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔


لو چاچا جی اگلی خبر یہ ہے کہ ہمارے چیف جسٹس صاحب نے کہا ہے، میری اہلیہ بھی پریشان ہو گی۔ چاچا رفیق بولا، چیف جسٹس صاحب کو اپنی اہلیہ کے پریشان ہونے پر ہی کچھ پھرتی دکھانی چاہیے۔ پولیس کو کہیں جلد مجرم پکڑیں اور سزا دیں تاکہ بیگم صاحبہ خوش ہوں۔

چیف جسٹس صاحب کو اپنی اہلیہ، جو ہماری قابل احترام بہن ہیں، ان کی بات ماننی ہی پڑے گی اور ان شاء اللہ ملک میں امن بھی آ جائے گا۔پڑھاکو اگلی خبر پڑھ، چاچا جی اگلی خبر یہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے کراچی میں اپنی برادری وکیلوں اور ججوں کو خطاب کیا اور کہا کہ مقدمات کے فیصلے جلدی کیا کرو۔ سالہا سال تک مقدمات کو لٹکایا مت کرو۔

چاچا رفیق بولا چیف جسٹس صاحب یہ بات بڑی انصاف کی ہے۔ امید ہے جج صاحبان اس بات پر عمل کریں گے، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مقدمات میں تاخیر ججوں کی وجہ سے تو ہوتی ہی نہیں، یہ تاخیر تو وکیلوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جج تو صبح ہی دفتر میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں، مدعی آتے ہی نہیں، نہ ہی ملزم پیش ہوتے ہیں۔ ہمارے محلے میں لنگا چھری مار رہتا ہے۔

اس کے خلاف مقدمہ ہو گیا۔ وہ وکیل صاحب کے پاس گیا، کہنے لگا وکیل صاحب مجھے بچاؤ، میرے خلاف مقدمہ ہو گیا ہے۔ وکیل صاحب نے کہا تم پریشان نہ ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ایسا کرنا جب عدالت کا ہرکارہ آئے، اس کی ٹہل سیوا کر دینا، اسے کہنا لنگا ملا ہی نہیں۔

عدم پیروی کی وجہ سے جج صاحب تاریخ دے دیں گے، بس تم ہر تاریخ پر ایسے ہی کرتے رہنا۔ نیز آٹھ دس ماہ ایسے ہی گزر جائیں گے۔ لنگا چھری مار دس ماہ سے اسی طرح آزاد پھررہا ہے۔

وکیل صاحب اور عدالت کے منشی کا اچھا روزگار لگا ہوا ہے۔ عدالت کا منشی بھی خوش ہے۔لنگا بھی خوش ہے۔ دونوں کا روزگار لگا ہوا، ہے بس بڑی خرابی یہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -