چیف جسٹس اور نوازشریف کا بیانیہ: بعد المشرقین

چیف جسٹس اور نوازشریف کا بیانیہ: بعد المشرقین
 چیف جسٹس اور نوازشریف کا بیانیہ: بعد المشرقین

  

ایک ہی دن چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کہتے ہیں، جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے اور میاں نوازشریف کہتے ہیں کہ پانچ ججوں نے، کروڑوں عوام کے منتخب کردہ وزیر اعظم کو نکال کر جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے۔

یہ اتنا بڑا بُعد المشرقین ہے، جسے پاٹنا ممکن ہی نظر نہیں آتا۔ جس شام سابق وزیر اعظم نے ہری پور میں جلسے سے خطاب کرنا تھا، اسی دوپہر چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاہور ڈسٹرکٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سب کس بل نکال دیئے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بنچ کے جج ہیرے ہیں۔ انہوں نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بارے میں کہا: ’’وہ ہمارا فخر ہیں، سپریم کورٹ ان کے بغیر نا مکمل ہے۔

پھر انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم نے کسی سیاسی بات کا جواب نہیں دینا، یہ ہمارا منصب نہیں‘‘۔ اب یہ ان تمام سوالوں کا جواب ہے جو میاں نوازشریف پوچھتے پھر رہے ہیں۔

میاں نوازشریف کہتے ہیں، جمہوریت کو پامال کیا جا رہا ہے اور چیف جسٹس کہتے ہیں جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ نوازشریف کہتے ہیں، پانچ جج متعصب ہو چکے ہیں۔ چیف جسٹس انہیں عدلیہ کے ہیرے کہتے ہیں۔

نوازشریف سمجھتے ہیں انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، چیف جسٹس کا استدلال ہے کہ عدلیہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتی ہے، کسی کی شکل دیکھ کر نہیں۔ یہ جواب آں غزل کی صورتِ حال نہیں، ظاہر ہے چیف جسٹس صرف عدلیہ کی سوچ اور پیغام کو بیان کر رہے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ نے اگر ڈلیور کرنا شروع کر دیا تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے، لیکن آج کل نوازشریف نے جو بیانیہ اختیار کر رکھا ہے، اس کی وجہ سے لگتا ہے کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ ایک طرح سے عدلیہ پر تنقید کا جواب ہے۔

چیف جسٹس اپنے ہر خطاب میں کہتے ہیں کہ کوئی جج من مانے فیصلے نہیں کر سکتا، اسے قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں، مگر نوازشریف کی تقریریں سن کر لگتا ہے کہ وہ نہ تو آئین کو مانتے ہیں اور نہ قانون کو‘‘۔

ہری پور کے جلسے میں بھی انہوں نے ایک ایسی بات کی جو کم از کم مجھے تو کسی طرح سے بھی ہضم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو میرے خلاف فیصلہ واپس لینا پڑے گا، سپریم کورٹ کے جج فیصلہ واپس کیسے لیتے ہیں۔

میرے علم میں تو آج تک اس حوالے سے کوئی بات نہیں آئی۔ خاص طور پر جلسوں میں دیئے گئے الٹی میٹم کے بعد کیسے واپس لیتے ہیں؟ اس کی تو بالکل ہی کوئی مثال میری نظر میں نہیں۔ میاں نوازشریف کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔

اس کی بھی کوئی خبر نہیں، کیونکہ کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس جلسے میں ججوں سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتا کہ میرے خلاف کیا گیا فیصلہ واپس لو۔ کیا اب ہم عدلیہ کو بھی انتظامیہ کی سطح پر لے آئے ہیں کہ آئین و قانون میں دیئے گئے طریقۂ کار کی بجائے جلسوں میں لوگوں کو اکٹھا کر کے عدلیہ کو فیصلے بدلنے کا حکم دیا جائے۔

مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ نوازشریف جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ موجودہ قانونی و آئینی فریم ورک میں رہ کر کس طرح مانا جا سکتا ہے؟ پھر تو آپ سپریم کورٹ ہی ختم کر دیں اور سارے فیصلے سڑکوں پر کریں۔

یہ تو میرے نزدیک آئین کو ختم کرنے سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے کہ آپ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو جلسوں میں فیصلہ بدلنے کی وارننگ دیں۔ سچ پوچھیں تو نواز شریف ایسی باتیں کر کے خود اپنا تمسخر اُڑا رہے ہیں۔

ان کے جلسوں میں جوش و خروش سے آنے والے بھی عقل و خرو سے بے گانہ ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ نوازشریف کا بیانیہ کامیاب ہو جائے گا۔ اچانک سپریم کورٹ سے ایک حکمنامہ جاری ہوگا کہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ غلط تھا، اسے کالعدم قرار دے دیا گیا ہے اور نوازشریف با عزت طور پر اپنے منصب کے حق دار قرار پائے ہیں۔

کیا پاکستان ایک جنگل ہے کہ جہاں یہ سب کچھ ممکن ہو سکے کیا میاں صاحب کو نہیں معلوم کہ جو مطالبہ وہ کر رہے ہیں، وہ بیس کروڑ عوام کو بھی سڑکوں پر لے آئیں تو اسے نہیں مانا جائے گا، کیونکہ ایسا کرنے سے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

مجھے تو اب یہ یقین ہوتا جا رہا ہے کہ نوازشریف یہ سب کچھ ایک این آر او کے لئے کر رہے ہیں، کیونکہ تین بار وزیر اعظم رہنے کے بعد وہ اتنا تو ضرور جانتے ہوں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو جلسوں اور ریلیوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، وہ غالباً یہ سب کچھ نیب کیسوں پر این آر او کے لئے کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو کم از کم ریلیف مل جائے۔ کم از کم مریم نواز کسی ممکنہ نا اہلی سے محفوظ ہو جائیں۔

وہ تمام اثاثے بچ جائیں جن کے حوالے سے کئی کیس بن چکے ہیں۔ وہ اپنے جلسوں سے عدلیہ پر اتنا دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی طرف سے نیب عدالت پر لگائی گئی چھ ماہ کی پابندی بھی ختم کر دی جائے اور اس بار بھی نیب کیس لمبے عرصے کے لئے التوا میں ڈال دیئے جائیں تاکہ اس بیانیہ کو تقویت دی جا سکے کہ نوازشریف کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو سکا اور اسی نکتے کو انتخابی مہم میں بنیاد بنا کر عوام کو دوبارہ مسلم لیگ (ن) کی طرف راغب کیا جا سکے، مگر یہ کام بھی آسان نہیں، درمیان میں کوئی ایسا ثالث موجود نہیں جو اس کام کو ممکن بنا سکے، معاملہ اگر مشرف جیسے کسی آمر سے ڈیل کا ہوتا تو کئی اندرونی و بیرونی قوتیں ان کی مدد کو آ جاتیں، مگر اب تو صورتِ حال ہی مختلف ہے، ملک میں اس جماعت کی حکومت ہے، جس کے صدر نوازشریف ہیں، اب وہ کیسے یہ تاثر دے سکتے ہیں کہُ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے؟ اب ایسے میں میاں نوازشریف پر نفسیاتی دباؤ کو سمجھا جا سکتا ہے اسی دباؤ کے نتیجے میں وہ ایک ایسا بیانیہ اختیار کر چکے ہیں، جو سکہ رائج الوقت نہیں ہے، جو چل نہیں رہا اور نہ ہی اس کے چلنے کی امید ہے۔

ذرا سوچئے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کو بار بار یہ کیوں کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں۔ لاہور کی تقریب میں تو چیف جسٹس نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر کسی نے میرے ججوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو میں اپنے ڈیڑھ لاکھ وکلاء کی فوج لے کر اس کا راستہ روکوں گا، کیونکہ بطور عدلیہ کے سپہ سالار کے مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں عدلیہ کا دفاع کروں۔

لاہور کی تقریب میں ’’چیف تیرے جاں نثار بے شمار بے شمار ‘‘ کے نعرے بھی لگے۔ یہ نعرے ایک دور میں افتخار محمد چودھری کے لئے بھی لگتے تھے، مگر دونوں میں ایک واضح فرق ہے۔ افتخار محمد چودھری کے لئے یہ نعرے ان کی ذات کے لئے لگتے تھے۔

لیکن چیف جسٹس ثاقب نثار کے لئے یہ نعرے اس لئے لگے کہ وہ عدلیہ کی خود مختاری اور ججوں کی عزت و تکریم کی حفاظت کے لئے سینہ سپر نظر آتے ہیں۔

وہ عدلیہ کو آزاد اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُن کا پیغام سب کو جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ سپریم کورٹ کے عملی اقدامات اور دیرینہ مسائل کے حوالے سے از خود نوٹسوں کے ذریعے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عدلیہ اب ملکی حالات سے لاتعلق نہیں رہے گی۔

خاص طور پر سرکاری محکموں کی غفلت اور غیر ذمہ داری کسی صورت قبول نہیں۔ دوسری طرف اپنے پے درپے خطابات کے ذریعے جہاں وہ اپنے ماتحت ججوں اور وکلاء کی ذہن سازی کر رہے ہیں، وہیں عدلیہ پر دباؤ ڈالنے والوں کو اس کارزیاں سے باز آ جانے کی تلقین بھی کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس قسم کی عدلیہ اور اس سوچ کے چیف جسٹس کو دباؤ میں لانے کے ہتھکنڈے احمقانہ سوچ کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بات تسلیم کہ نوازشریف ایک بڑی سیاسی جماعت کے صدر ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ان کے حامیوں کی ملک کے طول و عرض میں ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن وہ جس نہج پر جا چکے ہیں، وہ تو ان کے شایان شان نہیں۔

ایک بڑے سیاسی رہنما کی یہ ذمہ داری بھی تو ہوتی ہے کہ وہ ملک میں انتشار نہ پھیلنے دے، آئین اور آئینی اداروں کی حرمت کا خیال رکھے، عدالتوں کے فیصلے تسلیم کرے اور ان سے ماورائے آئین ریلیف نہ مانگے۔

میاں صاحب تو ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کر رہے۔ ان کی ہر تان اسی نکتے پر ٹوٹتی ہے کہ ججوں نے ایک منتخب وزیر اعظم کو کس اختیار کے تحت وزارتِ عظمیٰ سے نکالا؟ اب سپریم کورٹ کے ججوں کو بے اختیار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا میاں صاحب کو کسی سمری کورٹ نے نا اہل کیا ہے؟ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو وہ قانونی حوالے سے مطمئن نہیں کر سکے۔

پھر نظر ثانی کی اپیل بھی اسی لئے خارج ہوئی کہ بے گناہی کے ثبوت نہیں دیئے جا سکے۔ اب وہ کیسے کہتے ہیں کہ عوم نے انہیں بے گناہ تسلیم کیا ہے اور فیصلے کو مسترد کر دیا ہے، اس لئے ججوں کو فیصلہ واپس لینا پڑے گا۔

کیا پوری مسلم لیگ (ن) میں کوئی ایسا قانون دان نہیں جو نوازشریف کو سمجھا سکے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس طرح ختم نہیں ہوتے، کیونکہ اس کے لئے پہلے آئین کو ختم کرنا پڑے گا۔ پھر سپریم کورٹ کے ضابطوں کو۔

بظاہر یہ ناممکن ہے، اس لئے آپ ایسا بیانیہ اختیار نہ کریں جو آپ کے شایان شان نہیں اور نہ ہی عدلیہ کے خلاف یہ اندازِ تکلم کسی بڑے سیاسی رہنماکو زیب دیتا ہے، لیکن اس جذباتی فضا میں میاں صاحب کو کون کہے، کون سمجھائے، وہ تو سرپٹ گھوڑا دوڑائے جا رہے ہیں اور اِنہیں منزل کی خبر تک نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -