اگنی۔5کا تجربہ

اگنی۔5کا تجربہ
اگنی۔5کا تجربہ

  

18جنوری (2018ء) کو انڈیا نے ایک میزائل کا تجربہ کیا جسے بین البراعظمی بلاستک میزائل (ICBM) کی صف میں شمار کیا گیا ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا میزائل ہے جو ایک براعظم سے فائر کیا جاتا ہے تو دوسرے براعظم میں واقع اپنے ہدف پر جا گرتا ہے۔

اس کا بھارتی نام اگنی۔5 (Fire-5) ہے اور اگرچہ اس نام کے پہلے بھی مختلف برسوں میں کئی میزائل فائر کئے جا چکے ہیں جن کی مار بالترتیب 2000،3000 اور 4000کلومیٹر تک تھی لیکن اس جدید ترین اگنی 5ورشن کی مار 5000کلومیٹر تک تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ میزائل براعظم ایشیا سے فائر ہو کر یورپ، افریقہ اور آسٹریلیا تک مار کر سکتا ہے۔

جس جگہ سے یہ میزائل چھوڑا گیا ہے وہ انڈیا کے مشرقی ساحل پر ریاست اوڑیسہ کے نزدیک ایک جزیرہ ہے جس کا نام ’’جزیرہ عبدالکلام‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ نام مسلمانانہ کیوں ہے اور ہندوانہ کیوں نہیں۔ کسی ہندو سائنس دان کو یہ توفیق نہ ہو سکی کہ وہ انڈیا کو میزائلی اور جوہری قوت سے ہمکنار کرتا ۔ آخر ایک مسلمان جوہری سائنس دان ہی انڈیا کے کام آیا جس کو بعد میں صدر جمہوریہ ء بھارت بھی بنایا گیا۔عبدالکلام کو چاہیے تھا کہ وہ کسی مسلم ملک کے کام آتے۔ کسی ایران یا لیبیا میں چلے جاتے اور وہاں جا کر کسی میزائل کی ڈویلپمنٹ پر کام کرتے۔۔۔۔ اقبال کا ایک فارسی شعر زبان پر آ گیا ہے:

وفا آموختی از ما بکارِ دیگراں کر دی

ربودی گوہرے از مانثارِ دیگراں کر دی

[افسوس کہ تم نے ہم سے وفا سیکھی اور غیروں پر نچھاور کر دی اور ہمارے خزانے سے گوہر چھین کر غیروں پر نثار کر دیا)

تاریخ میں کوئی ہندو سائنس دان ایسا نہیں گزرا جو کسی مسلم ملک کے کام آیا ہو اور اس نے اس مسلم ملک کو سٹرٹیجک نوعیت کی کوئی ایسی برتری عطا کی ہو جیسی عبدالکلام نے انڈیا کو عطا کی! چلیں اس قصے کو چھوڑتے ہیں۔ اوڑیسہ نام کی اس ریاست کا یہ مشرقی جزیرہ خلیج بنگال کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔

جب ہم سکول کے طالبعلم تھے تو اس ریاست کو اڑیسہ پڑھا کرتے تھے جسے بھارت نے ’’شدھ ہندی‘‘ کا روپ دے کر اڑیسہ سے اوڈیشہ بنا دیا ہے۔ یہ اگنی ۔5زمین سے زمین تک مار کرتا ہے اور اس کی نوک پر کوئی بھی چھوٹا بڑا ایٹم بم رکھ کر اسے 5000کلومیٹر دور کسی مطلوبہ ٹارگٹ پر گرایا جا سکتا ہے۔

آج جی چاہ رہا ہے کہ ایک عام پاکستانی قاری کہ جسے جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی کا کچھ زیادہ علم نہیں اسے چند مختصر اور اساسی زعیت کی معلومات سے شناسا کروں۔ جوہری اور میزائلی دونوں فنون (Technologies) اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان کی تفصیل اوسط فہم و فراست والے غیر متعلقہ قاری کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ لیکن اس میں قاری کا کوئی قصور نہیں، قصور ہمارا ہے۔

ہم نے اپنے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان فنون کی تدریس کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔ ہم تو ہمیشہ یہ دیکھتے ہیں کہ نیو کلیئر وارفیئر اور میزائل سازی کے فن میں ہمیشہ مغربی سائنس دان ہی پیش پیش ہوتے ہیں۔

اگر ایک آدھ جوہری سائنس دان کسی پاکستانی سکول / کالج/ یونیورسٹی سے نکل کر نیو کلیئر فیلڈ کی طرف آیا بھی ہے تو اس نے یہ علم و فن مغرب کے مدرسوں ہی سے حاصل کئے ہیں۔ (ہمارے مدرسوں میں تو گلستاں، بوستاں،پکی روٹی اور بہشتی زیور ہی پر زور دیا جاتا تھا اور دیا جارہا ہے)

ہم نے میڈیا میں یہی پڑھا سنا ہے ناں کہ انڈیا نے اگنی۔ 5 میزائل فائر کیا ہے جس کی رینج 5000کلومیٹر ہے اور یہ جوہری وارہیڈ اٹھا کر ٹارگٹ تک لے جا سکتا ہے۔۔۔اور بس۔۔۔ لیکن یہ میزائل اتنا طویل فاصلہ کیسے طے کرتا ہے، اس میں کوئی پائلٹ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اور یہ کس طرح ممکن ہوتا ہے کہ وہ عین اپنے مقررہ ہدف پر جا گرتا ہے۔ ان سوالوں کا ایک ’’سرسری‘‘ سا تذکرکروں تو شائد آپ کو سمجھ آجائے کہ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

ہم میڈیا میں سنتے ہیں کہ اس اگنی۔ 5کے تین مرحلے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس میزائل کو اپنے ہدف تک پہنچنے کے 5000کلومیٹر کے سفر میں تین مراحل کا سامنا تھا۔ یہ تین مراحل (Stages) گویا اس کے تین حصے تھے۔۔۔۔ حصہ ء اوّل سب سے مشکل مرحلہ تھا۔

اس مرحلے میں میزائل کو سارا وزن اپنی نوک پر رکھ کر (بمعہ ایٹم بم) فضا میں بلند ہونا تھا۔ زمین پر سے اس کو اوپر اٹھانے کے لئے ایک زبردست دھکیل (Thurst) کی ضرورت تھی۔

جب یہ ایک بار اپنے لانچنگ پیڈ سے فائر ہو کر فضا میں بلند ہونا شروع ہوا تو جوں جوں اوپر گیا، اس کی رفتار بڑھتی گئی اور اس کے ایندھن کا خرچہ بھی کم ہوتا گیا۔

اس کی مثال آپ کی گاڑی (کار) سے دی جا سکتی ہے۔ جب آپ پہلا گیئر لگاتے ہیں تو اس میں انجن کا بہت زور لگتا ہے۔ آپ کی کار آہستہ آہستہ رینگتی ہے تو دوسرا ، پھر تیسرا اور پھر چوتھا یا پانچواں گیئر لگانا پڑتا ہے۔ جوں جوں اگلے گیئر لگتے جاتے ہیں نہ صرف گاڑی کی رفتار تیز ہوتی جاتی ہے بلکہ پٹرول/ ڈیزل کا خرچ (Consumption) بھی کم ہوتا جاتا ہے۔

یہی حال میزائل کی اڑان کا ہے۔ اس کی پہلی سٹیج/ مرحلہ گویا پہلا گیئر ہے جس کے اندر خود چار پانچ ذیلی گیئر لگے ہوتے ہیں۔ جب یہ میزائل اتنا سفر کرلیتا ہے کہ پہلے مرحلے کا ایندھن (Fuel) ختم ہوجاتا ہے تو ایک کیبل کے ذریعے دوسری سٹیج خود بخود جل اٹھتی ہے اور پہلے نیچے گر کر خاکستر ہو جاتی ہے اور اس کے بعد تیسری اور پھر چوتھی وغیرہ۔۔۔ دوسرے، تیسرے اور چوتھے مرحلے میں میزائل کی رفتار بہت بڑھ جاتی ہے اور اگر اس میزائل کا بیرونی حصہ فائر پروف نہ ہو تو سارا میزائل پل بھر میں جل کر راکھ ہو جائے۔

اب میزائل کا وہ مرحلہ شروع ہوتا ہے جو زیادہ ٹیکنیکل اور زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ زمین سے لانچ ہونے کے بعد جب میزائل کے سارے حصے جل جاتے ہیں تو اُس کے اگلے حصے میں ایک جوہری بم رکھا ہوتا ہے۔

اگر اصل بم نہ ہو تو اس کے وزن کا کوئی آہنی یا فولادی گولہ رکھ دیا جاتا ہے جس کے گردا گرد بھی فائر پروف مواد لگا دیا جاتا ہے۔ جب یہ میزائل انتہائی بلندی حاصل کرلیتا ہے تو اس کی اڑان لائن( جسے انگریزی میں Trajectory کہا جاتا ہے) ایک خاص زاویئے سے سفر کرتے ہوئے لانچنگ پیڈ سے ٹارگٹ کی طرف ہو جاتی ہے اور جب وہ میزائل اوپر سے نیچے گرنا شروع ہوتا ہے تو اس کو کسی دھکیل (Push) کی زیادہ ضرورت نہیں رہتی۔

وہ زمین کی کشش ثقل کے باعث خودبخود زمین کی طرف گرتا ہے۔ اس مرحلے میں اس کا رخ ٹارگٹ پر فکس( متعین) رکھنے میں میزائل کی نوک پر لگے سنسر اور دیگر نازک آلات کام آتے ہیں اور اسے ’’راہِ راست‘‘ سے بھٹکنے نہیں دیتے۔

انتہائی بلندی سے نیچے زمین کی طرف کا یہ سفر اُس سفر سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے جو زمین سے میزائل کو اٹھا کر اوپر فضا میں لے جاتا ہے۔ اسی سائنس (علم) کو اصطلاح میں بلاستکس (Blastics) کہتے ہیں اور اسی لئے اس میزائل کا نام بھی بین البراعظمی بلاسٹک میزائل (ICBM)ہے۔

اب ایک اور فن جو ہر میزائل لانچنگ میں استعمال ہوتا ہے اسے گراؤنڈ سٹیشن یا گراؤنڈ کنٹرول کہا جاتا ہے۔ میزائل کی نوک پر حساس اور فائر پروف کیمرے لگے ہوتے ہیں جن کا رخ اوپر اور نیچے دونوں طرف ہوتا ہے۔

اس رخ کو کنٹرول بھی کیا جاسکتا ہے۔ فضا سے زمین کی طرف آتے ہوئے کسی میزائل کی سمت اگر غلط ہو اور ٹارگٹ سے اِدھر اُدھر ہورہی ہو تو اسے ٹارگٹ پررکھنے کے لئے گراؤنڈ کنٹرول سے کام لیا جاتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ میزائل کی لانچنگ کے بعد ایک بڑے کمرے میں کئی ماہرین بیٹھے ہوتے ہیں جو کمپیوٹروں کی سکرینوں پر میزائل کی اڑان، رفتار اور سمت کا برابر جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔

اگر میزائل اپنے راستے (Course) سے بھٹکنے لگے تو اس کی نوک پر لگے آلات کی مدد سے کنٹرول سٹیشن سے اس کی سمت کا زاویہ درست کیا جا سکتا ہے اور یہی ٹیکنالوجی رفتار گھٹانے بڑھانے اور اڑان لائن (Trajectory) کو کورس پر رکھنے کے لئے بھی کام آتی ہے۔ جب کوئی میزائل اپنے ہدف پر لگتا ہے تو اس کا کنٹرول سٹیشن بتا دیتا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہوا ہے یا ناکام رہا ہے۔

پاکستان کو بین البراعظمی بلا ستک میزائل بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے اب تک جو میزائل بنائے ہیں ان کا دائرہ صرف مخصوص اہداف تک ہے جن کا علم تمام قارئین کو ہے کہ وہ اہداف کون کون سے ہیں۔

یہ بھارت ہے کہ جس نے اگنی۔ 5 کے بعد اعلان کیا ہے کہ یہ میزائل چین کی انتہائی شمالی سرحد پر بھی گرایا جا سکتا ہے۔۔۔ یعنی بیجنگ سے بھی اوپر اور آگے ۔۔۔ اب پاکستان نے بھی اعلان کردیا ہے کہ وہ بھی میزائل لانچنگ کا سلسلہ شروع کرنے والا ہے۔ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ پاکستانی میزائلوں کی رینج کہاں کہاں تک جاتی ہے!

اسی ماہ (جنوری) کی 12 تاریخ کو انڈیا نے خلا میں اپنا 100 واں سیارہ بھی کامیابی سے چھوڑا ہے ۔ یعنی ایک اور لانچنگ اسٹیشن سے 31 چھوٹے سیارے خلا میں (بھارتی راکٹوں کے ذریعے) چھوڑے گئے ہیں جن میں امریکہ، کینیڈا، فن لینڈ، فرانس، جنوبی کوریا، برطانیہ اور انڈیا کے اپنے سیارے بھی تھے۔

سیاروں کو خلا میں بھیجنے کے ایک اور بین الاقوامی پروگرام کو سپیس ایکس (Space x) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ جس ملک نے بھی اپنا کوئی جاسوس سیارہ وغیرہ خلا میں بھیجنا ہو تو وہ سیارہ تیار کرے، راکٹ کا کرایہ ادا کرے اور یہ Space x راکٹ اسے خلا میں بھیجنے کو تیار ہوگا۔

یہ ایک فائدہ بخش بزنس ہے اور اس کاروبار کی عالمی مارکیٹ 300 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ انڈیا نے درج بالا غیر ملکی سیارے خلا میں بھیج کر 4 ارب ڈالر کا بزنس کیا ہے۔ یہ سیارے انڈیا کے ایک جنوبی صوبے آندھرا پردیش میں سری ہاری کوٹا (Sriharikota) کے لانچنگ سٹیشن سے چھوڑے گئے تھے۔ ۔۔۔انڈیا یہ سیارے چھوڑ کر خلا سے کئی ملکوں (جن میں چین اور پاکستان بالخصوص شامل ہیں) کی جاسوسی کر رہا ہے۔ ان دو ممالک کے علاوہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی فوجی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔۔۔۔البتہ چین اور پاکستان، انڈیا کی فوجی ’’حرکتوں‘‘ کی کیا سُن گُن لگا رہے ہیں اس کے بارے میں ابھی شائد انڈیا کو معلوم نہیں۔

قارئین گرامی! میں نے آپ کا بہت سا قیمتی وقت ایک خشک موضوع کی چند ابتدائی اور اساسی باتیں بتانے پر اس لئے ’’ضائع‘‘ کیا ہے کہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ دنیا خلائی پروگراموں میں کیا کچھ کر رہی ہے، کہاں پہنچ چکی ہے اور آئندہ کے امکانات کیا ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -