سانحہ گاؤ کدل میں 52 شہریوں کے قتل کی 28ویں برسی کے موقعہ پر پرتاپ پارک میں مطاہرہ

سانحہ گاؤ کدل میں 52 شہریوں کے قتل کی 28ویں برسی کے موقعہ پر پرتاپ پارک میں ...

  

سری نگر(کے پی آئی)سانحہ گاؤ کدل میں 52 شہریوں کے قتل کی 28ویں برسی کے موقعہ پر پرتاپ پارک لالچوک میں سول سوسائٹی ممبران نے احتجاجی مظاہرہ کے دوران مطالبہ کیا ہے کہ قتل عام میں ملوث فورسز اہلکاروں کو سزا دلانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ سول سو سائٹی ممبران نے کہا کہ 28سال گزر جانے کے باؤجود بھی گاؤکدل قتل عام میں ملوث فورسز اہلکاروں کے خلاف کو ئی بھی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی کسی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ سول سو سائٹی ممبران نے عوام اور سماج کے ذی شعور افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں پیش آئے لوگوں کے قتل عام کے واقعات کی جگہ یادگارقائم کرکے آنے والی نسلوں کیلئے آزادی کیلئے دی گئی قربانیوں کے شواہد چھوڑ ی جاسکیں۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل سول سو سائٹی ممبران نے بتایا کہ 28سال کا عرصہ گزر جانے کے باؤجود بھی سانحہ گاؤ کدل کی کوئی بھی تحقیقات نہیں کی گئی۔ گاؤکدل سانحہ کے واحد چشم دید گواہ فاروق احمد وانی نے گاؤ کدل میں 21جنوری 1990کو پیش آئے سانحہ کی تفصیلی بتاتے ہوئے کہا کہ فورسز اہلکاروں نے لوگوں کو جان بوجھ کرگولیاں مار کر قتل کیا ۔ احتجاجی مظاہرین کے دوران پروفیسر حمیدہ نعیم نے کہا میں اپنے لوگوں، ذی شعور اشخاص اور سول سو سائٹی ممبران کو کشمیر میں پیش آئے قتل عام مثلاگاؤ کدل قتل عام ، سوپور قتل عام ، اسلامیہ کالج اور کاؤڈارہ قتل عام اور دیگر جگہوں پر جہاں فورسز اہلکاروں نے نہتے کشمیر عوام کا خون بہایا ہے۔

وہاں یادگار کھڑی کرکے ہم انکی قربانیوں کو ہمیشہ کیلئے یادگار بناسکتے ہیں۔ حمیدہ نعیم نے بتایا آزادی کے سورج طلوع ہونے کے بعد ہماری آنے والی نسلوں کیلئے نشایاں یادگار ہونگی اور انہیں ہمیشہ کیلئے یاد رہے گا کہ ہمارے بزرگوں نے آزادی کیلئے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک جلیاں والا باغ ہے مگر کشمیر میں کئی جگہوں پر قتل عام ہوئے ہیں اور ایسی جگہوں پر یادگار قائم کرکے شہیدوں کی قربانیوں کا یاد کیا جائے گا۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس /ہیومن رائٹیس جموں کشمیر کی طرف سے جاری کی گئی رپوٹ میں اس بات کاذکر کیا گیا ہے کہ مذکورہ کیس کے سلسلے میں اگرچہ ایک ایف آئی آر زیر نمبر 3/1990درج کیا گیا ہے تاہم اس کیس میں کسی قسم کی کوئی بھی تحقیقات نہیں ہوئی ہے۔ رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں 22افراد کی ہلاکت کا اعتراف کیا گیا ہے جبکہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں اور مزاحمتی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس سانحہ میں 50سے زائد افراد مارے گئے ۔

مزید :

عالمی منظر -