نقیب کے اہلخانہ اندراج مقدمہ کیلئے تیار ، راؤ انوار کی گرفتار کا فیصلہ ، ملیر کے تما م ایس ایچ او تبدیل، پولیس مقابلہ، پارٹی معطل

نقیب کے اہلخانہ اندراج مقدمہ کیلئے تیار ، راؤ انوار کی گرفتار کا فیصلہ ، ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی نے کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ محسود کے کزن نور رحمن محسود سے رابطہ کیا۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا ء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ نقیب کے اہل خانہ قتل کا مقدمہ درج کرانے اور پیروی کیلئے تیار ہوگئے ہیں ،سکیورٹی سے متعلق لواحقین کے تحفظات دور کرنے کیلئے آئی جی خیبرپختونخوا سے رابطہ ہوا ہے اور وہ لواحقین کو سکیورٹی میں کراچی بھیجیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ نقیب اللہ کے لواحقین جلد سے جلد آکر ملاقات کریں اور مقدمہ درج کروائیں۔آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ کمیٹی کے مزید اجلاس بھی ہوں گے اور مقدمے میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق دو سکیورٹی گاڑیاں جنوبی وزیرستان کیلئے روانہ ہوگئی ہیں تاکہ با حفاظت نقیب کے والد اور بھائی کراچی آسکیں۔رپورٹ کے مطابق اہل خانہ کو یہ خوف ہے کہ کہیں انہیں بھی نقیب کی طرح نشانہ نا بنا دیا جائے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم کی ٹانک میں پولیٹیکل ایجنٹ محمد اشفاق سے ملاقات ہوئی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ نقیب کے اہل خانہ کو لیویز فورس مکین سے خرکی چیک پوسٹ تک لائیں گے۔نقیب اللہ محسود کے اہل خانہ کو کراچی لانے کے لیے خیبرپختون خوا پولیس کمانڈوز کی گاڑیاں وزیرستان روانہ ہوگئیں جو نقیب کی فیملی کو اپنی حفاظت میں کراچی لائیں گی۔ذرائع کے مطابق آئی جی خیبرپختون خوا کی ہدایت پر ایلیٹ فورس کی دو گاڑیاں نقیب محسود کے خاندان کو فراہم کر دی گئی ہیں۔دوسری جانب نقیب کے کزن نور رحمان کا کہنا تھا کہ ملزم کو گرفتار کرکے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔نقیب کہ اہل خانہ کا موقف ہے کہ وہ راؤ انور کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔دوسری طرف نقیب اللہ قتل کیس میں راؤ انوار کو پولیس پارٹی سمیت گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں تحقیقاتی کمیٹی سمیت اعلیٰ حکام کے اجلاس میں ضلع ملیر کے تمام ایس ایچ اوز کی بھی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ثناء اللہ عباسی نے اجلاس کی صدارت کی جس میں انتہائی اہم اور سخت فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں سپیشل برانچ، تحقیقاتی ٹیم اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ترجمان کراچی پولیس کے مطابق قائم مقام کراچی پولیس چیف آفتاب پٹھان نے شاہ لطیف ٹاؤن میں مشکوک مقابلہ کرنے والی پوری پولیس پارٹی کو معطل کردیا۔معطل ہونے والوں میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت بھی شامل ہیں جنھیں جمعے کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا، دیگر اہلکاروں میں اے ایس آئی فدا حسین، ہیڈ کانسٹیبل سید صداقت شاہ، ہیڈ کانسٹیبل محسن عباس، کانسٹیبل راجہ شمیم مختار اور کانسٹیبل رانا ریاض احمد شامل ہیں۔ثناء اللہ عباسی نے مزیدکہاکہ حقائق کی روشنی میں راؤانوار کو گرفتارکرنے کا فیصلہ کرلیاگیاہے ۔انہو ں نے مزیدکہاکہ اگر نقیب کے اہل خانہ مقدمہ درج نہیں کرواتے تو سرکار کی مدعیت میں مقدم ہ درج کیا جائے گا۔
نقیب کیس

مزید :

صفحہ اول -