72گھنٹے کی مہلت ، زینب کیس میں صرف ڈی این اے پر انحصار نہ کیا جائے ، ملزموں کی گرفتاری کیلئے تفتیش کا روایتی طریقہ کار بھی استعمال کریں ، پولیس جتنی سنجیدگی اب دکھا رہی ہے پہلے دکھاتی تو زینب سمیت 8 بچیاں درندگی کا شکار نہ ہوتیں : چیف جسٹس

72گھنٹے کی مہلت ، زینب کیس میں صرف ڈی این اے پر انحصار نہ کیا جائے ، ملزموں کی ...

  

لاہور ( نامہ نگار خصوصی) سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس کے ملزموں کی گرفتاری اور تفتیش مکمل کرنے کے لئے آئی جی پنجاب پولیس اورجے آئی ٹی کو72گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے قرار دیا کہ جتنی سنجیدگی پولیس اب دکھا رہی ہے، یہی سنجیدگی اگر 2015ء کے واقعات میں دکھائی ہوتی تو آج زینب سمیت8کمسن بچیاں درندگی کا نشانہ نہ بنتیں۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل تین رکنی فل بنچ نے زینب قتل کیس پر ازخود نوٹس کیس میں پولیس کو حکم دیاکہ ملزموں کی گرفتاری کے لئے تفتیش کا روایتی طریقہ کار بھی استعمال کیا جائے ،صرف ڈی این اے پرانحصار نہ کیا جائے ۔عدالت نے بے حرمتی کی شکار ایک دوسری بچی کائنات کے علاج کے حوالے سے حکم دیا کہ ضرورت پڑنے پر سرکاری خرچ پر اس کا بیرون ملک علاج کروایا جائے ۔کھلی عدالت میں سماعت کے علاوہ کیس کی جزوی سماعت بند کمرے میں بھی کی گئی جس کے بعد تحریری حکم جاری کیا گیا۔فاضل بنچ نے کھلی عدالت میں سماعت شروع کی تو ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی ڈاکٹر اشرف طاہر، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی محمد ادریس، قصور جنسی ویڈیوز سکینڈل ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش سمیت متعلقہ پولیس افسران اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید عدالت میں پیش ہوئے، زینب کے چچا عدنان اور بداخلاقی کے بعد قتل کئے گئے دیگر بچوں کے والدین بھی پیش ہوئے۔ ڈی آئی جی محمد ادریس نے پیش رفت رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 800 مشتبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لئے جا چکے ہیں، بداخلاقی و قتل کے جو 12واقعات ہوئے ہیں، ان میں 8مقدمات میں ڈی این اے میچ ہو رہا ہے، اصل ملزم کی گرفتاری کے لئے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کر رہے ہیں، ہر متعلقہ مشتبہ شخص کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جون 2015 ء سے اب تک 8 واقعات پیش آئے اور یہ واقعات قصور کے ایک ہی سرکل کے تھانوں کی حدود میں پیش آئے اور ان میں ایک ہی شخص ملوث ہے، جس کا ڈی این اے ملا ہے جبکہ پہلے دو واقعات تھانہ صدر ڈویژن میں پیش آئے تھے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دو تھانوں کی حدود میں اتنے واقعات ہوئے، پولیس کیا کر رہی تھی؟ وہ کون سا ایس ایچ او ہے جو تین سال سے تعینات ہے، سنا ہے کہ لوگوں کی شکایات کے باوجود اس کو ہٹایا نہیں گیا۔ سپریم کورٹ نے پولیس کی تفتیش کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دو تھانوں کی حدود میں مسلسل واقعات ہوئے، کسی نے چھان بین کیوں نہیں کی؟ ان واقعات پر پولیس کیا کر رہی تھی؟ چیف جسٹس نے زینب کے لواحقین سے استفسار کیا کہ آپ کو اگر کسی قسم کی شکایات ہیں تو بتائیں؟جس پر لواحقین نے عدالت میں بیان دیا کہ جے آئی ٹی تسلی بخش کام کررہی ہے، دعا گو ہیں کہ یہ جلد کامیاب ہوجائیں، دیگر مقتول بچوں کے والدین نے بتایا کہ جس مدت میں تینوں تھانوں کی حدود میں یہ واقعات ہوئے، اس مدت کے ڈی ایس پی عارف رشید اور ایک دوسرے ڈی ایس پی کو شامل تفتیش کیا جائے، ڈی ایس پی عارف رشید مدعیوں کی شکایات کے باوجود غیرمتعلقہ افراد کو ملزم بنا کر مقدمات میں پیش کرتا رہا جس کی وجہ سے ان مقدمات کا آج تک کچھ نہیں بنا اور اصل ملزم آج بھی آزاد ہیں، پولیس کی پشت پناہی کے بغیر اتنا گھناؤنا جرم اتنے منظم طریقے سے ہو ہی نہیں سکتا جس پر چیف جسٹس پاکستان نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ڈی ایس پی عارف رشید کو بھی پیش کیا جائے، ذرا دیکھیں تو سہی کہ صاحب کون ہیں؟جسٹس منظور احمد ملک نے ریمارکس دیئے کہ پولیس صرف ایک ہی رخ پر تفتیش کر رہی ہے ، پولیس کے پاس تفتیش کے روایتی طریقے بھی ہیں۔ جو پولیس کر رہی ہے ،اس طرح تو 21 کروڑ لوگوں کا ڈی این اے کرنا پڑے گا، پولیس ڈی این اے سے باہر نکل کر بھی تفتیش کرے، جانتے ہیں کہ پولیس اپنا روایتی طریقہ استعمال کرے تو ملزم تک پہنچا جاسکتا ہے۔ از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججز نے افسوس کا اظہار کیا کہ معصوم بچی کے ساتھ ظلم ہوا ہے، اگر پولیس 2015 ء میں اتنی سنجیدہ ہوتی تو آج 8 بچیاں بے حرمتی کے بعد قتل نہ ہوتیں، بداخلاقی کے 8 مقدمات کے حالات و واقعات یکساں ہیں تو اس رخ پر بھی تفتیش کی جائے۔ جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ جے آئی ٹی کسی ماہر نفسیات سے بھی تفتیش میں معاونت لے اور دیکھے کہ ایسے ملزم کی کیا نفسیات ہوتی ہے جو جس بچی کو بھی بداخلاقی کے بعد قتل کر رہا ہے، اس کی نعش اسی کے گھر کے قریب پھینک کر فرار ہو جاتا ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈی جی ڈاکٹر اشرف نے عدالت کو بتایا کہ زینب کیس میں اب تک ملنے والی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز فرانزک جائزے میں مصدقہ ثابت نہیں ہوئیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ یہ معاملہ فرانزک ماہرین کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ صلاحیتوں اور وسائل کے درست استعمال سے قاتل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ قصور میں بداخلاقی کا شکار ہونے والی ایک اور بچی کائنات کے لواحقین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کائنات لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔ ایم ایس چلڈرن ہسپتال نے عدالت کو بتایا کہ کائنات بداخلاقی کے باعث ذہنی ٹراما کاشکار ہے اور اس کے دماغ کو آکسیجن کی سپلائی میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہدائت کی کہ ضرورت پڑنے پر کائنات کو علاج کے لیے بیرون ملک بھجوایا جائے، دوران سماعت جے آئی ٹی سربراہ اور پنجاب فرانزک ماہرین نے عدالت کو کیس کے بارے میں بعض اہم معلومات سے آگاہ کرنے کے لئے ان کیمرہ سماعت کی استدعا کی جس پر کیس کی مزید سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے چیمبر میں ہوئی، ان کیمرہ کارروائی کے بعد تحریری حکم جاری کیا گیا جس میں سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو 72 گھنٹوں میں زینب قتل کیس کی تفتیش مکمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔میں

زینب کیس

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ نے حمزہ شہباز شریف کے گھر کے باہر حفاظت کے لئے لگائی گئی رکاوٹیں فوری طورپرہٹانے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر ان کی جان کو خطرہ ہے تو پھراپنی رہائش تبدیل کر لیں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید ریمارکس دیئے کہ میں چیف جسٹس ہوں، میری رہائش گاہ کے باہر تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔میں نہیں جانتا حمزہ شہباز کون ہیں ؟مجھے عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد چاہیے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں فاضل بنچ نے سٹرکوں پرحفاظتی رکاوٹوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت شروع کی توفاضل بنچ نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ عدالت نے جوڈیشل کالونی میں جس سڑک پرسے بند گیٹ ہٹانے اور راستے کھولنے کا حکم دیا تھا، کیا اس پر عملدرآمد ہو گیاہے، جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ گیٹ ہٹا دیا گیا ہے اور زگ زیگ رکاوٹیں لگا دی گئیں کیونکہ وہ ایک اہم سیاسی شخصیت کا گھر ہے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے سیاسی شخصیت جس کا وہاں گھر ہے؟ چیف سیکرٹری نے نام چھپانے کی کوشش کی تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کون ہوں؟ اس سیاسی شخصیت کانام بتائیں ۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ وہ رہائش گاہ حمزہ شہبازکی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کھل کر بتائیں یہ کون حمزہ شہبازہے؟ چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز ایم این اے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے ہیں جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ لوگ وہاں کیوں نہیں چلے جاتے جہاں ان کی جانوں کو خطرے نہ ہو۔میں کسی حمزہ شہباز کو نہیں جانتا،مجھے عدالتی حکم پر عمل درآمد چاہیے۔ حمزہ شہباز کے گھر کے باہر رکاوٹیں ختم کریں، میں خود پرائیویٹ کار میں دورہ کرکے جائز ہ لوں گا،چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ آئندہ حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سکیورٹی اہلکار نکریں پہن کر یا ننگے نہاتے نظر نہ آئیں،حمزہ شہباز کے گھر کے ارد گرد ہماری بہنیں اور بیٹیاں بھی رہتی ہیں، اگر آئندہ کوئی شکایت آئی تو سخت ایکشن لوں گا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے فل بنچ کو حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سے فوری رکاوٹیں ہٹانے کی یقین دہانی کروائی جس کے بعدفاضل بنچ نے مزید کارروائی آئندہ تاریخ سماعت تک ملتوی کردی ۔

حمزہ شہباز

مزید :

صفحہ اول -