پنجاب حکومت کے خاتمے کی تاریخیں اور مال روڈ کے جلسے میں خالی کرسیوں کی حکمت عملی

پنجاب حکومت کے خاتمے کی تاریخیں اور مال روڈ کے جلسے میں خالی کرسیوں کی حکمت ...
پنجاب حکومت کے خاتمے کی تاریخیں اور مال روڈ کے جلسے میں خالی کرسیوں کی حکمت عملی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ مال روڈ کا جلسہ ہماری حکمت عملی کے عین مطابق اور کامیاب جلسہ تھا جلسہ میں خالی کرسیوں کو بھی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا، اس سے پہلے وہ کہہ چکے ہیں کہ ہم نے ابھی گاڑی پہلے گیئر میں ڈالی ہے اور یہ فیصلہ ہم نے ہی کرنا ہے کہ اس کو کب کس سپیڈ پر چلانا ہے، ان کا خیال ہے کہ پنجاب کی حکومت دو ماہ سے پہلے چلی جائیگی۔ یہی بات بعض چینلوں کے ’’باخبر‘‘ اینکر کئی ماہ سے تواتر کے ساتھ کہہ رہے ہیں اور اگر پیچھے جائیں تو 2014ء کے دھرنوں میں بھی کہا گیا تھا کہ نواز شریف کا استعفا بس چند گھنٹوں میں آیا ہی چاہتا ہے یہاں تک کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف جب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے تو ملاقات سے پہلے ہی بعض چینلوں نے پورے وثوق سے یہ خبر چلا دی کہ آرمی چیف نے نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رخصت پر چلے جائیں اگرچہ چند منٹوں سے بھی پہلے اس کی تردید کر دی گئی لیکن خبر چلانے میں جس پھرتی کا مظاہرہ کیا گیا اس سے لگتا تھا کہ اس وقت کے دو بڑوں کی ملاقات میں تیسرے وہ اینکر تھے جنہیں ملاقات ختم ہونے سے بھی پہلے یہ اطلاع مل گئی تھی کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو کیا مشورہ دیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو اگر پنجاب حکومت کے جانے کا اسی طرح یقین ہے جس طرح دھرنے کے دنوں میں نوازشریف کے استعفے کا تھا، تو پھر ضروری نہیں کہ یہ یقین بھی درست ثابت ہو۔ پنجاب حکومت جاتی ہے یا رہتی ہے یہ تو پتہ چل ہی جائیگا اس وقت تو ہم ڈاکٹر طاہر القادری کی اس حکمت عملی کی داد دینا چاہتے ہیں جو انہوں نے جلسے میں کرسیاں خالی رکھ کر اختیار کی اور سارے مخالفوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، بلکہ اتحادیوں کو بھی پریشان کر دیا جو خواہ مخواہ ٹی وی چینلوں پر شرمندہ شرمندہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ جلسہ تو فلاپ ہو گیا بلکہ بعض ایسے کالم نگار بھی جنہیں اِس حکومت کا ایک ایک لمحہ گراں گذر رہا ہے اور جو چاہتے ہیں کہ یہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی چلی جائے یہ تک لکھنے پر مجبور ہوئے کہ مال روڈ کے ایسے جلسے سے توبہتر تھا کہ لیڈر ان کرام گھروں میں بیٹھے رہتے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ یہ سارے حضرات بھی اس حکمت عملی سے بے خبر تھے جو جلسے کے اصل سٹیک ہولڈر نے اختیار کی۔ اس کی داد دینی چاہئے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس حکمتِ عملی کی بھی کِسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی یہاں تک کہ بعض حکومت مخالف چینل بھی خالی کرسیاں دیکھ کر جلسے کے بارے میں غلط تاثر قائم کر بیٹھے، ایسی حکمت عملیاں حکمران اور سرکاری کارندے ماضی میں بھی اختیار کرتے رہے ہیں، آپ کو حسین شہید سہروردی کے دور میں لے چلتے ہیں، نہر سویز کے بحران کا زمانہ تھا، مصر پر برطانیہ اور فرانس نے حملہ کر دیا تھا جس پر پاکستان میں بڑا اشتعال پایا جاتا تھا، اس زمانے میں کراچی دارالحکومت تھا، الطاف گوہر ڈپٹی کمشنر تھے۔ طالب علموں نے نہر سویز پر حملے کے خلاف مصر کے حق میں جلوس نکالا، جلوس کے شرکاء بہت مشتعل تھے اور برطانوی سفارت خانے کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے، الطاف گوہر نے مظاہرین کو سمجھایا کہ ان کا اصل مطالبہ برطانیہ سے نہیں حکومت پاکستان سے ہے اس لئے وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں حکومت پاکستان سے کہیں وزیر اعظم ہاؤس قریب ہی ہے وہاں چلے جائیں اور اپنے جذبات کا اظہار وہاں جا کر کریں اس طرح کی حکمت عملی اختیار کر کے الطاف گوہر نے مظاہرین کی توجہ برطانوی سفارت خانے سے تو ہٹا دی لیکن فوری طور پر ان کے ذہن میں ایک تجویز آئی اور وہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر وزیراعظم ہاؤس چلے گئے اور جا کر وزیر اعظم سہروردی سے کہا کہ طلباء کا مشتعل ہجوم برطانوی سفارت خانے کو آگ لگانا چاہتا تھا، میں نے ان کا رخ وزیر اعظم ہاؤس کی طرف موڑ دیا ہے اس لئے اب ہجوم کو آپ سنبھالیں، سہروردی دوپہر کا کھانا کھا کر ایک آرام کرسی پر دراز تھے، قمیض اتار کر انہوں نے کرسی کی پشت پر لٹکائی ہوئی تھی وہ فوراً اٹھے اور جلدی جلدی قمیض اور سلیپر پہن کر وزیر اعظم ہاؤس کے باہر آ گئے اور ایک سٹول پر کھڑے ہو کر مظاہرین سے خطاب شروع کر دیا اور طلباء کے جذبات سے ہم آہنگ ایسی جوشیلی تقریر کی کہ وہ طلباء جو اس سے پہلے سہروردی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ’’سہروردی زندہ باد‘‘ کہتے ہوئے رخصت ہو گئے یہ حکمت عملی تھی جو الطاف گوہر نے اختیار کی اور وزیر اعظم کو اس میں شریک کر کے طلباء کا اشتعال کم کیا، ایسا ہی ایک واقعہ ذوالفقار علی بھٹو کو جلسے میں پیش آیا تھا جس میں جلسے کے ایک شریک نے احتجاجاً جوتا اتار کر ہوا میں لہرایا تو بھٹو نے کہا ہاں ہاں مجھے پتہ ہے جوتے بہت مہنگے ہیں اس حاضر جوابی سے مخالفین کا موڈ بدل گیا، جلسہ تو جیسا بھی تھا خالی کرسیوں کی حکمت عملی سامنے آ گئی ہے کہ یہ مخالفین کو گمراہ کرنے کے لئے اختیار کی گئی تھی۔
اِس لئے جو لوگ اس بات سے خوش ہو رہے تھے کہ جلسے میں کرسیاں خالی پڑی ہونے کا مطلب یہ تھا کہ لاہوریوں نے جلسے میں شرکت نہیں کی، وہ غلط تھے۔ رانا ثناء اللہ کا تو کہنا تھا کہ جلسے میں 200 لوگ بھی لاہور کے نہیں تھے، وہ کہنا دراصل یہ چاہتے تھے کہ جلسے کے شُرکاء جو بھی تھے اُنہیں باہر کے شہروں سے لایا گیا تھا، کئی تجزیہ نگار بھی اصل حقیقت جانے بغیر خالی کرسیوں کے غلط اندازے قائم کرتے رہے۔ اب ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ مخالفین خوش نہ ہوں پنجاب کی حکومت دو ماہ میں جانے والی ہے، یہ بھی حکمتِ عملی ہی سمجھئے ورنہ حکومت تو اس سے بُہت پہلے چلی جائے گی، دُنیا اُمید پر قائم ہے۔
حکمت عملی

مزید :

تجزیہ -