الزامات مسترد ، افغانستان سکیورٹی اداروں کی کارکردگی بہتر بنائے : پاکستان

الزامات مسترد ، افغانستان سکیورٹی اداروں کی کارکردگی بہتر بنائے : پاکستان

  

اسلام آبا د ( آن لائن228 مانیٹرنگ ڈیسک ) ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے کابل کے ایک لگژری ہوٹل پر حملے کے بعد افغانستان کی جانب سے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کی طرف سے ان بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کرتے ہیں،کابل میں ہوٹل پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہوگا ۔سوشل میڈیا کے ذریعے ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے کہا کہ کابل میں انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل پر ہونے والے حملے پرالزامات عائد کرنے والے افغانستان کے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنائیں ، انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ملوث افراد کی باقاعدہ تحقیقات کرائی جائے۔ ادھر کابل کے ہوٹل میں مرنے والوں کی تعداد 43ہو گئی ہے ، تاہم افغان وزارت خارجہ نے 18کی تصدیق کی ہے ۔بی بی سی کے مطابقافغان نے بتایا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی 12 گھنٹوں تک جاری کارروائی کے بعد ہوٹل پر ہونے والے قبضے کو ختم کرا دیا گیا ہے۔افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سپیشل فورسز نے تین حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ 150 مہمانوں کو ہوٹل پر ہونے والے حملے میں بچا لیا گیا ہے۔افغان خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد 'مہمانوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔ طالبان نے اسی ہوٹل پر 2011 میں حملہ کیا تھا۔ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ہوٹل میں مہمانوں میں غیرملکی بھی شامل تھے اور اس کی عمارت کی تیسری منزل پر آگ بھڑک اٹھی تھی جہاں کچن واقع ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق ہوٹل میں ایک آئی ٹی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی جس میں صوبائی حکام بھی موجود تھے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملوں آروں نے لوگوں کو یرغمال بھی بنایا تھا۔ ہوٹل میں ہو نے والے حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کا امکان ہے۔ ایک مقامی نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ اس دہشت گردی کے نتیجے میں 43 افراد مارے گئے، جن میں متعدد غیر ملکی بھی ہیں تاہم وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق اس کارروائی میں چار افغان جبکہ چودہ غیر ملکی افراد ہلاک ہوئے۔ طالبان نے اس خونریز حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے ای میل پیغام میں کہا ہے کہ افغان درالحکومت میں ہوٹل پر حملے میں کئی غیرملکی قابضین اور انکی کٹھ پتلیاں ہلاک کردی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ چھ ہلاک شدگان میں ایک غیرملکی شامل ہے ۔وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے بتایا کہ تما م حملہ آور مارے گئے ہیں،0 15 لوگوں کو بچالیا گیا ہے جن میں40 سے زائد غیرملکی شامل ہیں ۔ دریں اثناافغانستان کے مغربی صوبے ہرات کی پولیس کے مطابق سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے بارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ ہرات صوبے کے گلران ضلع میں بس اس بم کے پھٹنے سے پوری طرح تباہ ہو گئی۔ تیرہ افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس بم حملے کی ذمہ داری تاحال کسی ؂عسکری گروپ نے قبول نہیں کی۔ اسی طرح صوبے فرح میں بھی سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے صوبائی پولیس کا نائب سربراہ ہلاک اور چار دیگر پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ اْدھر فرح صوبے کی پولیس کے نائب سربراہ جنرل عبدالرزاق قادری نے بتایا کہ ایک مکان پر عسکریت پسندوں کے حملے میں حکومت نواز ملیشیا کے اٹھارہ افراد مارے گئے ۔ فراہ اور بلخ میں کیے گئے حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔

افغانستان

مزید :

علاقائی -