’’وزیراعظم شہباز شریف‘‘

’’وزیراعظم شہباز شریف‘‘
 ’’وزیراعظم شہباز شریف‘‘

  

میں والٹن روڈ پرباب پاکستان کی تعمیر نو کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوں، میرے سامنے ایک بہت اونچا سٹیج ہے جس پر بیٹھے ہووں کو دیکھنے کے لئے سر کو اونچا رکھنا پڑرہا ہے، لیڈروں کو پنڈال میں دیکھنے کے لئے یقینی طور پر سر اور نظریں جھکانی پڑ رہی ہوں گی، یہ بھی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے عوام اپنے لیڈروں کے سامنے نظریں بلند کر سکتے ہیں اور لیڈر عوام کے سامنے سر جھکا سکتے ہیں، بہرحال ، یہ سنجیدہ بات نہیں ہے، سنجید ہ بات تو یہ ہے کہ مسلم لیگ نون نے وزارت عظمیٰ کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو باقاعدہ امیدوار کے طور پر لانچ کر دیا ہے اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ باب پاکستا ن کا یہ کم از کم تیسرا افتتاح ہے، پہلا افتتاح اس یادگار کے نظرئیے کے خالق ایک کارکن وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں نے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف سے کروایا تھا۔ دوسرا افتتاح چودھری پرویز الٰہی نے جنرل پرویز مشرف سے کروایااور اس یادگارکی تعمیر کا کام بھی انہی کے دوستوں کو سونپ دیا، تیسرا افتتاح خواجہ سعد رفیق نے شہبا ز شریف سے کروایا ہے اور اب اس پراجیکٹ کو چار ارب روپوں سے زائد کے فنڈز سے دو برس کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ غالبا پہلا عوامی اجتماع تھا جس میں مسلم لیگ نون کے سربراہ محمد نواز شریف کی طرف سے شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی کے بعد کارکنوں سے اس کی توثیق کروائی گئی ہو۔ ایک ٹی وی پروگرام میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہہ رہے تھے کہ ابھی تک شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے لئے مسلم لیگ نون کے اداروں کی طرف سے باقاعدہ نامزد امیدوار نہیں ہیں۔ یہ موقف کتابی طور پرتو درست ہو سکتاہے مگر اس سے یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے وہ خود بھی ایک امیدوار ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف وفاداری نبھا رہے ہیں بلکہ صبح آٹھ بجے سے رات دس، گیارہ بجے تک کام بھی کر رہے ہیں۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک امیدوار چودھری نثار علی خان بھی ہو سکتے تھے مگر چودھری صاحب کی تیزی اور تندی نے معاملہ کچھ زیادہ ہی خراب کر دیا گیا ہے۔ مجھے اندازہ لگانے دیجئے کہ پرویز رشید کے پیچھے کون بول رہا ہے۔ والٹن روڈ لاہور پر مسلم لیگ نون کے گڑھ میں خواجہ سعد رفیق نے کارکنوں سے ہاتھ کھڑے کروائے اور جواب میں وزیراعظم شہباز شریف اور میاں صاحب آئی لو یو کے نعرے لگائے گئے تو ایک سیاسی عمل شروع ہو گیا ، اب یہ نعرے پارٹی اجلاسوں ، جلسوں اور جلوسوں پر حاوی ہوجائیں گے ۔

میں کہوں گا کہ اگر کسی نے سیاست سیکھنی ہے تو وہ شریف برادران سے سیکھے۔ سیاست معاملہ فہمی اور راستے نکالنے کا نام ہے۔ پنجابی کی ایک کہاوت کے مطابق ’ کبے نوں لت راس آجاندی ہے‘ یعنی کوئی کسی کبڑے کو لات مارے اور اس لات سے اس کا کبڑا پن ختم ہوجائے، وہ تن کے کھڑا ہوجائے اور دوڑنے لگے، اس سے بہتر مسلم لیگ نون کے لئے کون سی کہاوت بیان کی جا سکتی ہے۔ نواز شریف کو ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے نکالا گیا توایوان وزیراعظم میں بیٹھے ہوئے سے کہیں زیادہ جاتی امرا میں بیٹھا ہوا نواز شریف خطرناک ہو گیا اور یہ بات عدالتی فیصلے سے پہلے ہی ان کالموں میں کہہ دی گئی تھی۔ یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ پانامہ ہو یا اقامہ، یہ سب جی ٹی روڈ کے ایک مارچ میں بہہ جائیں گے۔ ہمارے مسلم لیگی دوست خوش ہو رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسوں میں لگی چند ہزار کرسیاں بھی خالی ہوتی جا رہی ہیں اور نواز شریف کے کوٹ مومن سے ہری پور تک جلسوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں مل رہی ۔ نواز شریف سیاست کا وہ کھلاڑی بن گیا ہے جواس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں وکٹوں پر بہت خوبصورتی کے ساتھ کھیل رہا ہے اور فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ لاہور میں پاکستانی سیاست کی ورلڈ الیون بھی بطخ بن گئی ہے۔ مسلم لیگ کے دوست اس پر خوش ہو رہے ہیں جبکہ لات مارنے والے حلقوں میں تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ مسلم لیگ نون کے دوستوں کواس بارے سوچنا چاہئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ان کی نوکری کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ حقیقت میں ان کی نوکری پکی ہو گئی ہے ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ پنجاب کے ساتھ ساتھ ہزارہ بیلٹ میں بھی سویپ کر سکتے ہیں ، ان کا ٹارگٹ خیبرپختونخوا اور سندھ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی زیادہ سے زیادہ نشستیں ہیں جبکہ وفاق میں کامیابی کے بعد بلوچستان ایک مرتبہ پھر جھولی میں گر جائے گا۔ شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر پہلی تقریر ہی سندھ اور خیبرپختونخوا کے شہریوں کے نام تھی۔ اس وقت بعض ادارے پنجاب میں گورننس کو متنازعہ بنانے کے لئے کام کررہے ہیں اور عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ شریف خاندان کا مقابلہ اس وقت مخالف سیاسی رہنماوں سے کم اور بعض اداروں سے زیادہ ہے جن میں نیب بھی شامل ہے۔ شہباز شریف نے سندھیوں اور پختونوں سے کہا ہے کہ اسی طرح صبح منہ اندھیرے اور آدھی ، آدھی رات کو ان کو سہولت دینے والے ترقیاتی منصوبوں کے لئے کام کریں گے جیسے وہ پنجاب اور لاہور کے لئے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد ایک برس کے اندر پشاور میں بھی میٹرو بنا دیں گے۔ انہوں نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا بھی کریڈٹ لیا اور مسلم لیگ نون ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو کراچی میں امن و امان کی بحالی کا بھی کریڈٹ لے سکتی ہے۔کیا آپ اس فقرے کی کاٹ محسوس کرسکتے ہیں کہ کراچی اور پشاور کو لاہور، سندھ او ر خیبرپختونخواہ کوپنجاب جیسا ترقی یافتہ بنا دیا جائے گا۔

میں پاکستان کی سیاست کے طالب علم کے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ سندھ اور خیبرپختونخواہ میں شہبازشریف کو زبردست طریقے سے ویلکم کیا جائے گا اور یہ استقبال مسلم لیگ نون کی طرف سے باقی تینوں صوبوں بالخصوص سندھ کو سیاسی اور تنظیمی طور پر نظراند از کئے رکھنے کی غلطی کا ازالہ کر دے گا۔ کبڑے کو پڑنے والی لات ایک اور کمی کو پورا کر سکتی ہے کہ مسلم لیگ نون نے آج تک اپنے سیاسی اور تنظیمی اداروں کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ جب شہباز شریف انتظامی طور پر پورے پاکستان کی نگرانی کر رہے ہوں گے تو نواز شریف کے پاس سیاست کے لئے بہت وقت ہو گا۔ہمیں عالمی برادری میں اپنے دوستوں چین، سعودی عرب اور ترکی کو دیکھتے ہوئے اس رائے کو ماننا ہو گا کہ نواز شریف سے زیادہ اہمیت اور وزن والا کوئی دوسرا سیاستدان ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ مجھے دوسری طرف یہ امید بھی رکھنی ہو گی کہ شہباز شریف پارلیمنٹ کی بقا اور زندگی کے لئے ایک بہتر کردارادا کر سکیں گے۔ مجھے حافظ سلمان بٹ نے کہا کہ ہمیں ابھی اپنے فوجی بھائیوں کو بیرکوں میں رکھتے ہوئے اتنا وقت گزارنا ہے کہ ایک کمیشن حاصل کرنے والے نوجوان کے لیفٹیننٹ جنرل بننے تک کے سفر کے دوران مارشل لاء کا کوئی دور نہ آئے کیونکہ جب ایک میجر مارشل لامیں اختیارات کو انجوائے کرتا ہے تو پھر وہ جرنیل بن کے انہیں بہت مس کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -