عمران ،شیخ رشیدکے پارلیمنٹ کو گالیاں دینے پر طاہر القادری مشکلات کا شکار

عمران ،شیخ رشیدکے پارلیمنٹ کو گالیاں دینے پر طاہر القادری مشکلات کا شکار

  

لاہور(آن لائن)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے متحدہ اپوزیشن کے جلسے میں پارلیمنٹ کو لعنت اور برابھلا کہنے پرعوامی تحریک کے سربراہ طاہرا لقادری کیلئے مشکلات کھڑی کر دی ہیں ،لاہور میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے کو چار روز گزرنے کے بعدبھی طاہر القادری کی جانب سے بلائی گئی متحدہ ایکشن کمیٹی کا اجلاس نہ ہو سکا ۔طاہرا لقادری نے متحدہ ایکشن کمیٹی کا اجلاس دو روز کے اندر اندر بلانے کا اعلان کیا تھا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جانا تھا لیکن عمران خان اور شیخ رشید کی جانب سے جلسے میں پارلیمنٹ کو لعنت اوربرا بھلا کہنے پر متحدہ ایکشن کمیٹی کا اجلاس تاحال نہ ہو سکا ہے جبکہ طاہر القادری خود بھی اس اجلاس کو بلانے سے گریزاں ہیں کیونکہ طاہرالقادری کو خدشہ ہے کہ اجلاس میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دوبدو نہ ہو جائیں اور اجلاس میں تلخی نہ پیدا ہو جائے لہٰذا طاہر القادری خود بھی اجلاس کو بلانے سے گریز کر رہے ہیں۔جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی طاہر القادری کے ساتھ آئندہ چلنے کیلئے شرط عائد کر دی ہے کہ اگر طاہر القادری آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنی تحریک کو چلائیں گے تو پھر ہی ہم ان کا ساتھ دینگے ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایاہے کہ طاہرا لقادری نجی محفل میں خود بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ عمران خان اور شیخ رشید نے ماحول کو خراب کر دیا ہے اور متحدہ اپوزیشن کے جلسے میں دونوں رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی پارلیمنٹ کیخلاف تقاریر کے بعد اب کوئی ایسااینٹی بائیٹک دینا پڑیگا جس کے بعد حالات معمول پر آجائیں۔

مشکلات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے قاتل اور کرپٹ سیاسی مافیا اداروں کے مقابل کھڑا ہے،صبر و تحمل کی پالیسی بطور ریاست پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے، بیانات سے نہیں ملک اور معاشرے انصاف کی سر بلندی اور عملی اقدامات سے طاقتور ہو تے ہیں۔بیگناہوں کو قتل کرنیوالے اور جھوٹ بولنے پر نا اہل ہونے والے آئندہ الیکشن سپریم کورٹ کے فیصلوں کیخلاف لڑنے کا منشور دے رہے ہیں۔پارلیمنٹ،آئین،قانون کی اس سے زیادہ بے توقیری اور کیا ہو سکتی ہے ؟شہباز شریف کومالی بے ضابطگی کیس کی بجائے 14لوگوں کو قتل کرنے جرم میں طلب کیا جانا چاہیے،انسانی خون کی حرمت مالی بے ضابطگیوں سے زیادہ اہم ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہااے پی سی میں شریک جملہ جماعتیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف پر متحد اور متفق ہیں،سیاسی امور پر ایک دوسرے سے اختلاف رائے کا سب کو حق حاصل ہے۔ہر جماعت مختلف ایشوز پراپنے پارٹی آئین،منشور اور پالیسیز کے مطابق اپنا موقف دیتی ہے تاہم ماڈل ٹاؤن ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس پر سب متفق ہیں کہ شہباز شریف اور حواری سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا اس پر پختہ یقین ہے جب تک اشرافیہ کی حکومت ہے شہدائے ماڈل ٹاؤن کو انصاف نہیں ملے گا،جنہوں نے سانحہ کی ایف آئی آر درج نہیں ہونے دی تھی وہ انصاف کیسے ہونے دینگے اسی لئے قاتلوں کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ریلوے کے حادثے کی طرح کا واقعہ نہیں ہے کہ ڈرائیور کی غلطی پروزیر ریلوے سے استعفیٰ مانگا جا رہا ہے۔ نواز شریف اورشہباز شریف سانحہ کی منصوبہ بندی میں براہ راست شامل ہیں اور اسکی تصدیق جسٹس باقر نجفی کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ سے بھی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے استغاثہ کو منظور ہوئے دو سال ہو نے کو آئے تا حال فرد جرم عائد نہیں ہوسکی کیونکہ جب تک تمام ملزمان عدالت میں موجود نہ ہوں فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی اور شہباز حکومت ہر تاریخ پر اپنے ایک دو افسروں کو ٹریننگ کے نام پر بیرون ملک بھجوا دیتی ہے اور اس طرح تاریخ پر تاریخ پڑ رہی ہے ، جب تک قاتل اعلیٰ پاور میں ہیں شہدائے ماڈل ٹاؤن کو انصاف ملنے کی امید نہیں۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ قاتلوں کا اقتدار دنوں کا مہمان ہے ،ان کا جانا اور انصاف کا ہونا دونوں حقیقتیں ہیں جو ظاہر ہو کر رہیں گی۔

مزید :

صفحہ آخر -