’’نقیب اللہ نے جیل سے رہا ہونے کے بعد نازک میر کو ایک لاکھ روپے دیئے تھے اور ۔ ۔ ۔‘‘ یہ نازک میر کون ہے اور راؤ انوار کا اس سے کیا تعلق ہے؟ ایسا انکشاف کہ نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

’’نقیب اللہ نے جیل سے رہا ہونے کے بعد نازک میر کو ایک لاکھ روپے دیئے تھے اور ...
’’نقیب اللہ نے جیل سے رہا ہونے کے بعد نازک میر کو ایک لاکھ روپے دیئے تھے اور ۔ ۔ ۔‘‘ یہ نازک میر کون ہے اور راؤ انوار کا اس سے کیا تعلق ہے؟ ایسا انکشاف کہ نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (ویب ڈیسک)رائو انوار کے ہاتھوں نسیم اللہ عرف نقیب اللہ کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی تحقیقات پر مامور کمیٹی کے سامنے سنسنی خیز حقائق سامنے آگئے جبکہ سندھ کی حکمران پارٹی کے مقتدر حلقے رائو انوار کو بچانے کیلئے سرگرم ہوگئے۔

پولیس کے ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کو شواہد مل گئے عباس ٹائون پولیس چوکی کے انچارج اکبر ملا نے 4 جنوری کو دو دوستوں کے ہمراہ نقیب اللہ کو حراست میں لیا اور تھوڑی دیر بعد دونوں دوستوں کو چھوڑ دیا تھا ،نقیب اللہ نے چھوٹا پلازہ میں دو دکانیں حاصل کرنے کیلئے ایک لاکھ ایڈوانس دے رکھا تھا،نقیب اللہ نے آصف سکوائر کے یونین صدر نازک میر کو ایک لاکھ ایڈوانس دیا تھااور بقایا 8لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے گائوں میں موجود اپنے رشتے داروں کو پیسوں کیلئے فون کیا تھا ۔

روزنامہ دنیا کے مطابق نازک میر کو کچھ عرصے قبل مبینہ ٹائون پولیس نے دستی بم اور دیگر مقدمات میں گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا ،ضمانت پر آنے کے بعد نازک میر کے رائوانوار سے قریبی مراسم ہوگئے تھے اور رائو انوار نے نازک میر کو بمعہ سٹاف ایک پولیس موبائل بھی دے رکھی ہے  ، نازک میر پر راؤ انوار کی نوازشات اور نقیب اللہ کے ایک لاکھ روپے وصول ہونے کے پہلو پر بھی تفتیش شروع کردی گئی،نقیب اللہ کے ساتھ جن دوافراد کو نقیب کی رہائش گاہ گلشن ویو کے سامنے ہوٹل سے اٹھایا گیا تھا وہ خوف سے روپوش ہیں ۔

رائو انوار کو بچانے کے لیے سندھ کی حکمران پارٹی کے مقتدر حلقے فعال ہوگئے ہیں ،پولیس کے ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ نے قبضے کی نیت سے گلشن معمار میں ایک گھر میں چھاپہ مارنے پر رائو انوار کے دست راست انسپکٹر انار گل کو حوالات میں بند کردیا تھا ،رائو انوار زبردستی کرتے ہوئے نیو ٹائون تھانے سے انار گل کو نکال کرلے گئے تھے ،پولیس ذرائع کے مطابق رائو انوار آئی جی سندھ ،پولیس چیف کراچی ڈی آئی جی ایسٹ کے احکامات کوخاطر میں نہیں لاتے تھے۔